آج سُر اور تال سےمحبت کا عالمی یوم منایا جا رہا ہے

0
17

پاکستان سمیت آج دنیا بھر میں موسیقی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

ورلڈ میوزک ڈے کا آغاز تین دہائیاں قبل فرانس کے شہر پیرس سے ہوا۔ موسیقی کی روایت برصغیر میں بھی بہت پرانی ہے اورکلاسیکل موسیقی کے علاوہ غزل، گیت، فوک اور پلے بیک سنگنگ وغیرہ بھی یہاں کے لوگوں میں انتہائی مقبول ہے

ہم برصغیر یا ہندوستان کی بات کریں تو آج نہ تو کلاسیکی، خالص راگ راگنیوں پر مشتمل موسیقی باقی رہی ہے اور نہ ہی وہ گلوکار جو فن و اصنافِ‌ موسیقی پر قدرت رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ بے مثال موسیقار رہے اور نہ ہی وہ سازندے جو اپنے فن اور مہارت میں یکتا تھے اور برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض‌ میں‌ ان کا شہرہ تھا۔

آج موسیقی کا عالمی دن ہے۔ ہم جانتے ہیں‌ کہ کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور لوک موسیقی نے دہائیوں کے دوران جدّت اور نئے ساز و آلات کے ساتھ اپنی شکل بھی بدلی ہے۔ آج اس فن کو نئی آوازوں کے ساتھ مختلف نئے پلیٹ فارم کی بدولت ایک جدید شناخت ملی ہے۔

یومِ موسیقی منانے کا آغاز فرانس کے شہر پیرس سے ہوا تھا اور چند برسوں سے پاکستان میں بھی یہ دن منایا جارہا ہے۔ موسیقی کی روایت برصغیر میں بہت پرانی ہے اور برصغیر کی کلاسیکی موسیقی اور راگ کے ساتھ نیم کلاسیکی موسیقی سننے والے اگرچہ اب کم رہ گئے ہیں، لیکن یہاں نوجوان اب بھی غزل، گیت، لوک موسیقی شوق سے سنتے ہیں۔

برِصغیر میں موسیقی نے مغلیہ دور سے بہت پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور سیکڑوں کلاسیکی گائیک اس فن کے امین بنے۔ موسیقی کو سمجھنے کے لیے اس فن کی اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے۔ موسیقی، جسے ایک فن کا درجہ حاصل ہے اس کی سب سے اہم اصطلاح سُر ہے۔

سُر کا ذکر تو آپ نے سنا ہی ہوگا جو تعداد میں سات ہیں۔ انھیں سات سُر بھی کہتے ہیں۔ سُروں کے مجموعے کو سرگم کہا جاتا ہے۔ اگر ان کو موسیقی کے حروفَ تہجی فرض کرلیا جائے تو ان کو ماہرین نے کھرج، رکھب، گندھار، مدھم، پنجم، دھیوت اور نکھا کے نام دیے ہیں اور یہ یونہی نہیں رکھ دیے گئے۔ یہ نام مختلف جانوروں کی آوازوں سے مشابہت کی بنیاد پر رکھے گئے ہیں جن سے خوشی، درد، غم، بے چینی اور غصے کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔

ان حروف تہجی کو مختصرا سا، رے، گا، ما، پا، دھا اور نی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کھرج کا ماخذ ناف، رکب کا دل، گندھار کا سینہ، مدھم کا حلق، پنجم کا منہ، دھیوت کا تالو اور نکھا کا ماخذ ناک ہے۔ انہی سات سُروں کو خالص ترتیب سے یکجا کرنے سے راگ وجود میں آئے ہیں۔

 

Leave a reply