<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بلاگ &#8211; Pakistan Today</title>
	<atom:link href="https://pakistantoday.tv/category/blog/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<description>Sabse Pehlay Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 11:57:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0.2</generator>

<image>
	<url>https://pakistantoday.tv/wp-content/uploads/2024/01/cropped-Pakistan-Today-News-HD-Logo-Urdu-32x32.png</url>
	<title>بلاگ &#8211; Pakistan Today</title>
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آبنائے ہرمز: تیل، طاقت اور عالمی بے چینی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/strait-of-hormuz-oil-power-and-global-unease/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/strait-of-hormuz-oil-power-and-global-unease/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:09:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=113361</guid>

					<description><![CDATA[رپورٹ: ماریہ شبیر دنیا کی تیل کی ایک تہائی سپلائی اچانک بند ہو جائے۔ اسٹاک مارکیٹس کریش، پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، اور عالمی معیشت کا پہیہ جام &#8230; اب یہ جان لیجیے کہ یہ محض ایک تصور نھیں، بلکہ ایک ایسا خطرہ ہے جو ہر روز &#8216;آبنائے ہرمز نامی&#8217; ایک تنگ سمندری راستے سے جڑا ہے۔ آبنائے ہرمز Persian Gulfکو Gulf of Oman  اور Arabian Sea  سے ملانے والا واحد آبی راستہ ہے جو عالمی منڈیوں کو آپس میں جوڑتا ھے اس کے شمال میں ایران، بندر عباس کے زریعے، اور جنوب میں عمان و متحدہ عرب امارات بندرگاہ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>رپورٹ: ماریہ شبیر</strong></p>
<p style="text-align: right">دنیا کی تیل کی ایک تہائی سپلائی اچانک بند ہو جائے۔ اسٹاک مارکیٹس کریش، پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، اور عالمی معیشت کا پہیہ جام &#8230; اب یہ جان لیجیے کہ یہ محض ایک تصور نھیں، بلکہ ایک ایسا خطرہ ہے جو ہر روز &#8216;آبنائے ہرمز نامی&#8217; ایک تنگ سمندری راستے سے جڑا ہے۔</p>
<p style="text-align: right">آبنائے ہرمز Persian Gulfکو Gulf of Oman  اور Arabian Sea  سے ملانے والا واحد آبی راستہ ہے جو عالمی منڈیوں کو آپس میں جوڑتا ھے اس کے شمال میں ایران، بندر عباس کے زریعے، اور جنوب میں عمان و متحدہ عرب امارات بندرگاہ فجیرہ کے زریعے اس سے منسلک ہیں۔</p>
<p style="text-align: right">33 کلومیٹر چوڑے اور محض3 کلو میٹر مسافت کی گزرگاہ کو بلاک کر دینا ایسا ہی ہے جیسے کہ بین الاقوامی معیشت کی شہ رگ پر تلوار رکھ دینا ۔ اس سمندری راستے کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف سمندری راستوں کو ملانے والا آخری راستہ ہے بلکہ دنیا بھر میں تیل و گیس کی 30فیصد منتقلی کا واحد سستا ترین ذریعہ ہے ۔</p>
<p style="text-align: right">ذرا سوچیے دنیا کی معیشت ایک 3 کلو میٹر سمندری راستے کے رحم و کرم پر ہے ۔ اسی لیے اسے &#8220;چوک پوائنٹ&#8221;کہا جاتا ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے Sand Clock کی مثال لے لیجیے ۔ شیشے کے دو جار جو درمیان سے ایک باریک راستے سے جڑے ہوتے ہیں ۔ ایک جار میں اہم برآمد کنندگان سعودی عرب ، عمان ، عراق ، کویت اور UAE جیسے ممالک اور دوسرے جار میں بھارت، جاپان اور جنوبی ممالک جیسے اہم درآمد کنندگان شامل ہیں، جب کہ ان کو ملانے والا تنگ راستہ Strait of Hormuz ہے ۔</p>
<p style="text-align: right">قابل تشویش بات یہ کہ آبناے ہرمز کا کوئی بڑا متبادل موجود نہیں ۔ سعودی عرب اور UAE کی بنائی گئی پائپ لائنز روزانہ کا صرف 15٪تیل لے جا سکتی ہیں ۔ دوسری طرف بڑے آئل ٹینکرز کو گہرے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور وہ صرف اسی مخصوص راستوں سے گزر سکتے ہیں ۔ چونکہ راستہ تنگ ہے اور ٹریفک بہت زیادہ ہے۔ اس لیے چند باوردی سرنگیں یا ٹوٹے ہوے جہاز پورا راستہ بند کر سکتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right">اب ذرا غور کیجیے جو ملک اس راستے کو کنٹرول کرے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر جنگ کا میدان بن چکا ہے ۔اقوام متحدہ کے سمندری قانون UNCLOS (United Nations Convention on the Law of the Sea) کے تحت اسے &#8220;بین الاقوامی آبنائے&#8221; (International Strait)مانا جاتا ہے جس کے مطابق دنیا کے تمام تجارتی اور فوجی جہاز بغیر اجازت کے گزر سکتے ہیں۔لیکن بین الاقوامی قانون کو پس پشت رکھتے ہوئے، امریکہ خود کوآبنائے ہرمز کا &#8220;گارڈین&#8221; قرار دینے پر بضد ہے۔ جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کی دو ساحلی ریاستیں ایران اور عمان ہیں۔ ان دونوں ملکوں کو اپنے علاقائی پانیوں پر خود مختاری کا حق حاصل ہے۔ اب غور کریں تو آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ تنازع محض تجارتی لین دین نہیں۔ اعداد و شمار ایک عجیب تضاد پیش کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے — اس کی فیکٹریاں، اس کی معیشت، اس کے شہر اسی تیل سے روشن ہیں۔ منطق کہتی ہے کہ سب سے زیادہ بے چین بھی چین کو ہونا چاہیے۔</p>
<p style="text-align: right">لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔</p>
<p style="text-align: right">آبنائے ہرمز میں جنگی بیڑے چین کے نہیں، امریکہ کے تیر رہے ہیں۔ ناکہ بندی کی دھمکیاں چین کی طرف سے نہیں، ایران امریکہ کو دے رہا ہے اور جواب میں پابندیاں امریکہ لگا رہا ہے۔ فیس وصول کرنے کا دعویٰ چین نہیں، واشنگٹن اور تہران کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right">سوال یہ ہے کہ جس ملک کا تیل اس راستے سے نہیں گزرتا، وہ اس راستے کی حفاظت کے لیے اربوں ڈالر کیوں خرچ کر رہا ہے؟ اور جس ملک کی معیشت کا دارومدار اسی راستے پر ہے، وہ خاموشی سے تماشا کیوں دیکھ رہا ہے؟</p>
<p style="text-align: right">دلچسپ بات یہ ہے کہ روس جو خود تیل برآمد کر رہا ہے۔ اسے ہرمز سے تیل نہیں چاہیے، پھر بھی دلچسپی کیوں؟کیونکہ یہ 33 کلومیٹر کا آبنائے ہرمز دنیا ہلا سکتا ہے، سپرپاور کا کردار اور اہمیت یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے ،مشہور مقولہ ہے کہ &#8220;جتنی ہرمز میں آگ، اتنی ماسکو میں روشنی&#8221;</p>
<p style="text-align: right">اگر ہرمز میں کشیدگی ہو تو تیل کی عالمی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ روس زیادہ قیمت پر اپنا تیل بیچ کر اربوں ڈالر کماتا ہے۔دوسری جانب روس،  چین، ایران مشترکہ بحری مشقیں &#8220;Maritime Security Belt&#8221; ہرمز کے پاس کرتے ہیں۔ مقصد دنیا کو دکھانا کہ اس علاقے کی ٹھیکیدار کوئی ایک طاقت نہیں۔</p>
<p style="text-align: right">ایک عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا آبنائے ہرمز صرف تیل کی گزرگاہ ہے؟ یا یہ تیل کے بہانے طاقت ناپنے کا وہ ترازو ہے، جہاں تجارت نہیں، دنیا کی حکمرانی کا فیصلہ ہو رہا ہے؟</p>
<p style="text-align: right">بہر حال ہرمز پر بڑھتے ہوئے ممکنہ خطرات اور عارضی یا طویل بندش کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک نے متبادل راستوں پر کام شروع کر دیا ہے، جیسے متبادل پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری، توانائی کے ذرائع میں رد و بدل، اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانا، پاکستان نہ صرف توانائی کے ذخائر بڑھانے اور اس کے متبادل کی تلاش میں مصروف ہے بلکہ علاقے میں دو طرفہ امن و سلامتی کے فروغ کیلیئے بھی کوشاں ہے۔ دوسری طرف اس خطے کے کبھی نھ ختم ھونے والے تنازعہ کے پیش نظر آج دنیا کی  بڑی طاقتیں بڑے فیصلے لینے پر مجبور نطر آتی ہیں، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے خلیجی ممالک کو اس نہج پہ لا کھڑا کیا ہے کہ وہ صدیوں پرانے سمندری راستے کا متبادل زمین پر تلاش کریں — اور UAE کا فجیرہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس سے پہلے چین کا &#8220;گوادر سے کاشغر&#8221; کوریڈور اور ایران میں سرمایہ کاری کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہرمز پر انحصار کم ہو۔سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ یہ متبادل منصوبے ایران پہ دبائو ڈال پائیں گے یا &#8220;ہرمز کو بائی پاس کرو&#8221; کا نعرہ خواب ہی بن کر رہ جائے گا؟</p>
<p style="text-align: right">شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آبنائے ہرمز کو صرف نقشے پر ایک تنگ لکیر کی بجائے، 21ویں صدی کی عالمی طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/strait-of-hormuz-oil-power-and-global-unease/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آزادی یا من مانی۔ ایک المیہ</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/freedom-or-caprice-a-tragedy/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/freedom-or-caprice-a-tragedy/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 08 Jul 2026 13:23:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=113020</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ: ماریہ شبیر آزادی مبارک کہتے ہوئے زبان پر رقت سی طاری ہو گئی اور آزادی بطور یادگار شدت سے یاد آنے لگی۔ یونہی دل میں خیال آیا کہ ہم نے آزادی کا حصول کیوں چاہا؟ شاید غلط اور فرسودہ رسم و رواج سے آزادی۔ نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے آزادی۔ تعلیمی اداروں میں دوہری پالیسی اور متعصبانہ درجہ بندی سے آزادی۔ روزگار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے آزادی۔ بنیادی انسانی حقوق، جان، مال اور عزت کی حق تلفی سے آزادی۔ خاندانی اجارہ داری اور جاگیردارانہ نظام کے زیرتسلظ نسل در نسل غلامی، بھوک اور غربت [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ: ماریہ شبیر</strong></p>
<p style="text-align: right">آزادی مبارک کہتے ہوئے زبان پر رقت سی طاری ہو گئی اور آزادی بطور یادگار شدت سے یاد آنے لگی۔</p>
<p style="text-align: right">یونہی دل میں خیال آیا کہ ہم نے آزادی کا حصول کیوں چاہا؟</p>
<p style="text-align: right">شاید غلط اور فرسودہ رسم و رواج سے آزادی۔ نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے آزادی۔ تعلیمی اداروں میں دوہری پالیسی اور متعصبانہ درجہ بندی سے آزادی۔ روزگار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے آزادی۔ بنیادی انسانی حقوق، جان، مال اور عزت کی حق تلفی سے آزادی۔ خاندانی اجارہ داری اور جاگیردارانہ نظام کے زیرتسلظ نسل در نسل غلامی، بھوک اور غربت سے آزادی۔ جبر و تشدد او اقدار کی پامالی سے آزادی، جمہوریت کے نام پر آمرانہ نظام سے آزادی۔۔۔فرسودی روایات میں جکڑی ہوئی خواتین کی آزادی۔۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right">ایک طویل فہرست ہے ایسے ہی بے شمار تحفظات کی، جنکی وجہ سے  اس آزادی کی جنگ اُن مظلوم اور محروم طبقات نے لڑی جنہوں نے غلامی کی صعبتوں کو جھیلا، آبا و اجداد کے صدیوں پرانے گھروں کو خیرباد کہا، خواتین کی عزتوں کی پامالی کو برداشت کیا، جانوں کا نذرانہ تک پیش کردیا، یوں ہمارے آباؤ اجداد کا   &#8216; تمغہِ آزادی &#8216; ہمیں تحفے کی صورت وراثت میں مل گیا۔</p>
<p style="text-align: right">مگر یہ سوال نئی نسل کے سامنے شدت سے ابھر رہا ہے کہ جن غلامیوں سے نجات کا خواب ہمیں دکھایا گیا تھا، کیا واقعی ہم نے غلامی اور روایات کی ان بیڑیوں سے نجات پالی ہے؟؟</p>
<p style="text-align: right">جواب بڑا تلخ ہے، ہم میں سے ہر کوئی جس درجہ رہائی پا چکا ہے اُسکو اُس قدر آزادی مبارک ۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد تعمیرِ پاکستان میں اور تکمیلِ پاکستان میں جس قدر ہمارا حصہ ہے اسی قدر ہمیں آزادی مبارک ۔ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ ہم ضرورت سے زیادہ آزاد ہوگئے ہیں، اس لئے سب کو اپنی اپنی آزادی بلکہ من مانی مبارک ۔</p>
<p style="text-align: right">ایک مشہور کہاوت ہے کہ بھینسوں کو کِلے سے آزاد کر دیا جائے توگلے کے طوق سے نجات پانے کے جوش میں بوکھلا کر راستہ ہی بھٹک بیٹھتی ہیں اور سرکش اور گمراہ ہو جاتی ہیں۔  ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم نے  &#8216;آزادی&#8217; کا مفہوم بدل کر من مانی سمجھ لیا ہے۔۔ اِسی من مانی کے زیرِ اثر ہم نے آزادی کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔۔۔</p>
<p style="text-align: right">اس کی عکاسی ہمیں یوم آزادی نصف شب بارہ بجتے ہی  سڑکوں پر جشن آزادی کے نام پر بے ہنگم ٹریفک اور بے ہودہ حرکات سے نظرآتی ہے ، شور شرابہ ، نہ دن کی خبر نہ رات کا پتہ ، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ آزادی  کے جانثار نہیں  بلکہ بگڑی ہوئی تہذیب کا ٹولہ ہیں ۔۔۔</p>
<p style="text-align: right">ہے کہ ایمان، اتحاد، تنظیم  کا نعرہ جو آزادی کی طاقت بنا آج آزادی کی پامالی کا ہتھیار بنا ہوا ہے۔</p>
<p style="text-align: right">اُن قحط زدہ، لُٹے پُھٹے، خالی ہاتھ مجاہدوں کا حوصلہ جو آنیوالے کَل کیلئے مر مِٹے اور ہم وہ سپردگان جو آزاد زمیں پر کھڑے، آزاد راہوں پر من موجی بنے ، کِلے سے آزاد بھینسوں کی مانند بھٹکے پِھرتے ہیں، حال سے بے پرواہ مستقبل سے بے نیاز ۔ ۔ ۔</p>
<p style="text-align: right">پاکستان کا قیام بلاشبہ ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارا حال یہود کے اُن لوگوں کے جیسا ہے جو معجزات پا کر کاہلی کا شکار ہوگئے خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھنے لگے اور خوش بختی کو بد بختی سے بدل بیٹھے۔</p>
<p style="text-align: right"> ہم ہر قربانی کو چاہے وہ عید کی ہو یا آزادی کی، بس ایک رسم، دکھاوے اور رواج کی مانند گزارنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں تو چلو شغل ہی سہی،  معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے ہر mothers/fathers day پر سننے کو ملتا ہے کہ ماں باپ سے محبت کا ایک دِن نہیں چنانچہ ہر روز اعمال و افعال سے اِسکی پاسداری کی جائے، بالکل اسی طرح ارضِ پاک سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر دِن اِس عظیم دھرتی کو سنوارنے کیلئے کوشاں رہیں، اپنا حصہ اسکی سرفروشی میں ضرور ڈالیں تاکہ ہر 14 اگست کو آزادی کی خوشی اسکے حقدار بن کر منائیں نہ کہ بے لگام اور بے قدروں کی طرح شرمسار بن کر ۔</p>
<p style="text-align: center"><span style="color: #ff0000"><strong>ایک وہ خواب جو شرمندہ تعبیر ہوا</strong></span></p>
<p style="text-align: center"><strong><span style="color: #ff0000">ایک یہ آنکھ جو شرمندہ ہے خوابوں سے</span></strong></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/freedom-or-caprice-a-tragedy/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں آم کا موسم: پھلوں کے بادشاہ کی شاندار آمد اور اس کی لذت</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/mango-season-in-pakistan-the-king-of-fruits/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/mango-season-in-pakistan-the-king-of-fruits/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 19 May 2026 10:47:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=110990</guid>

					<description><![CDATA[حافظ عاصم شیروانی: پاکستان میں گرمیوں کا موسم جہاں اپنے ساتھ شدید تپش اور لو لے کر آتا ہے، وہیں یہ ایک ایسی بے مثال نعمت کا پیغام بھی لاتا ہے جس کا انتظار ہر پاکستانی کو سارا سال بے صبری سے رہتا ہے۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں ’پھلوں کے بادشاہ‘ یعنی آم کی۔ آم محض ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت، مہمان نوازی اور گرمیوں کی سوغات کا ایک اہم اور میٹھا حصہ ہے۔ گرمی کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے، بازاروں میں پیلے، سبز اور سنہری رنگ کے آموں کی بہار آ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>حافظ عاصم شیروانی:</strong><br />
پاکستان میں گرمیوں کا موسم جہاں اپنے ساتھ شدید تپش اور لو لے کر آتا ہے، وہیں یہ ایک ایسی بے مثال نعمت کا پیغام بھی لاتا ہے جس کا انتظار ہر پاکستانی کو سارا سال بے صبری سے رہتا ہے۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں ’پھلوں کے بادشاہ‘ یعنی آم کی۔ آم محض ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت، مہمان نوازی اور گرمیوں کی سوغات کا ایک اہم اور میٹھا حصہ ہے۔ گرمی کی شدت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے، بازاروں میں پیلے، سبز اور سنہری رنگ کے آموں کی بہار آ جاتی ہے۔<br />
پاکستان میں آم کی آمد کسی تہوار سے کم نہیں ہوتی۔ جونہی بازاروں میں آموں کی پیٹیاں نظر آنا شروع ہوتی ہیں، لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ دوستوں اور رشتہ داروں کو آموں کا تحفہ بھیجنا ہماری ایک ایسی خوبصورت روایت ہے جو دلوں میں محبت بڑھاتی ہے۔ گرمیوں کی دوپہروں اور شاموں میں خاندان بھر کا ایک جگہ جمع ہو کر برف کے ٹھنڈے پانی سے بھرے ٹب میں آموں کو ٹھنڈا کرنا اور پھر مل بیٹھ کر کھانا ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر پاکستانی کی بچپن کی یادوں میں بسا ہے۔ ’آم کی پارٹیاں‘ دوستوں کے درمیان محفلیں جمانے کا ایک بہترین بہانہ ہوتی ہیں۔<br />
پاکستان کو دنیا بھر میں آموں کی بہترین اقسام پیدا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے آم اپنے ذائقے، خوشبو اور مٹھاس میں ثانی نہیں رکھتے۔ سندھڑی کو آموں کا سردار بھی کہا جاتا ہے، جو سائز میں بڑا، رنگت میں دلکش پیلا اور ذائقے میں شہد کی طرح میٹھا ہوتا ہے۔ چونسا پاکستان کا مقبول ترین آم ہے جس کی خوشبو اور مٹھاس اتنی لاجواب ہوتی ہے کہ اسے کھائے بغیر گرمیوں کا موسم ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ انور رٹول سائز میں چھوٹا لیکن ذائقے میں بے مثال ہوتا ہے اور اپنی مخصوص تیز خوشبو کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ لنگڑا پکنے کے بعد بھی سبز رہتا ہے لیکن اندر سے انتہائی میٹھا اور ذائقے دار ہوتا ہے، جبکہ دسہری اپنی لمبی اور پتلی شکل اور رس بھرے ذائقے کے لیے جانا جاتا ہے۔<br />
پاکستان میں آم کا موسم مئی کے وسط سے شروع ہو کر ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ آم کی پیداوار کا آغاز صوبہ سندھ بالخصوص میرپور خاص، ٹنڈو الہ یار اور حیدرآباد سے ہوتا ہے، جہاں کی گرم آب و ہوا سندھڑی کی جلد پختگی میں مدد دیتی ہے۔ جونہی سندھ کے آموں کا زور ٹوٹتا ہے، پنجاب کے علاقوں جیسے ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور مظفر گڑھ سے آم آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ علاقے اپنی زرخیز مٹی کی بدولت ایسی پیداوار دیتے ہیں جو مٹھاس میں پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ملتان کا چونسا اور انور رٹول تو عالمی سطح پر ایک خاص اور منفرد پہچان رکھتے ہیں۔<br />
آم کا استعمال صرف اسے کاٹ کر یا چوس کر کھانے تک محدود نہیں ہے۔ پاکستانی گھرانوں میں اس پھل سے کئی مزیدار اور ٹھنڈی چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ گرمی کی دوپہر میں ایک گلاس ٹھنڈا مینگو شیک یا روایتی مینگو لسی دن بھر کی تھکاوٹ اور گرمی کی شدت کو دور کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ آم کی آئس کریم، مینگو ٹرائفل، کھیر اور کسٹڈ جیسی میٹھی ڈشز دعوتوں کی جان سمجھی جاتی ہیں۔ کچے آم کا استعمال بھی بہت عام ہے؛ کیری کا شربت گرمی کی شدت کم کرنے اور لو سے بچنے کا بہترین گھریلو نسخہ ہے، جبکہ کیری کا اچار اور کھٹی میٹھی چٹنی ہر پاکستانی دسترخوان کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔<br />
لذت اور ذائقے کے ساتھ ساتھ، آم بے شمار طبی فوائد کا حامل بھی ہے۔ یہ وٹامن اے اور وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہے، جو آنکھوں کی بینائی اور جلد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں اور ڈائٹری فائبر کی وافر مقدار نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، چونکہ آم میں قدرتی مٹھاس اور کیلوریز کافی مقدار میں ہوتی ہیں، اس لیے وزن کم کرنے والے افراد اور ذیابیطس کے مریضوں کو اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔<br />
آم نہ صرف ہماری مقامی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی آم مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ’مینگو ڈپلومیسی‘ کے تحت پاکستانی آموں کو غیر ملکی سربراہانِ مملکت کو بطور تحفہ بھی پیش کیا جاتا ہے، جو ہمارے ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔<br />
غرض یہ کہ آم پاکستان کے لیے صرف ایک پھل نہیں بلکہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ گرمیوں کی تلخیوں کو اپنی مٹھاس سے کم کرتا ہے، خاندانوں کو جوڑتا ہے، اور رشتوں میں محبت کی چاشنی گھولتا ہے۔ جب تک آم کا موسم رہتا ہے، ہر گھر میں اس کی خوشبو مہکتی رہتی ہے۔ تو اس موسمِ گرما، گرمی کی شدت سے گھبرانے کے بجائے، اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ مل کر آموں کی شاندار دعوتوں کا اہتمام کریں اور قدرت کی اس عظیم اور لذیذ نعمت کا بھرپور لطف اٹھائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/mango-season-in-pakistan-the-king-of-fruits/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد مذاکرات: کیا پاک،امریکہ،ایران سفارتکاری خطے کو تباہی سے بچا پائے گی؟</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/islamabad-negotiations-what-is-pakistan-america-e/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/islamabad-negotiations-what-is-pakistan-america-e/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Apr 2026 13:25:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=109898</guid>

					<description><![CDATA[حافظ عاصم شیروانی اپریل 2026 کے ان ایام میں اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک غیر معمولی ارتعاش محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس تپتے ہوئے مرکز میں کھڑا ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کا فیصلہ ہونا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں غیر معمولی سیکیورٹی اور بین الاقوامی وفود کی آمد و رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے پاکستان نے ایک پل کا کردار سنبھال لیا ہے۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والے اس بحران [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>حافظ عاصم شیروانی</strong></p>
<p style="text-align: right">اپریل 2026 کے ان ایام میں اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک غیر معمولی ارتعاش محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس تپتے ہوئے مرکز میں کھڑا ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کا فیصلہ ہونا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں غیر معمولی سیکیورٹی اور بین الاقوامی وفود کی آمد و رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے پاکستان نے ایک پل کا کردار سنبھال لیا ہے۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والے اس بحران نے، جس کا آغاز آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور میزائل حملوں سے ہوا تھا، عالمی معیشت اور علاقائی امن کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ ایسی نازک صورتحال میں پاکستان نے اپنی &#8220;جیو اکنامک&#8221; پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی جو ہمت دکھائی ہے، وہ اس کی سفارتی تاریخ کا ایک بڑا امتحان ثابت ہو رہی ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔<br />
مذاکرات کی میز پر موجود پیچیدگیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں کیونکہ ایک طرف امریکہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی افزودگی کو فی الفور مکمل طور پر معطل کرے، جبکہ دوسری جانب تہران اپنی معیشت پر لگی سخت ترین پابندیوں کے فوری خاتمے سے کم کسی بات پر راضی نظر نہیں آتا۔ ان متضاد موقفوں کے بیچ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کرے جو دونوں ممالک کے قومی مفادات اور وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر امن کی راہ ہموار کر سکے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جہاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے، وہیں پاکستان کے اندرونی معاشی استحکام کو بھی شدید متاثر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی جیت نہیں بلکہ اپنی بقا اور معاشی بحالی کا بھی مسئلہ ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا اور نیوٹرل تھرڈ پارٹی کے طور پر سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کرنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔<br />
اس سفارتی عمل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس بار چین اور روس جیسے عالمی کھلاڑی بھی خاموشی سے اسلام آباد کے اس اقدام کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ بیجنگ کے لیے ایران ایک اہم توانائی پارٹنر ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات عالمی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں، لہذا چین چاہتا ہے کہ پاکستان کے ذریعے یہ تنازع حل ہو تاکہ سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبوں پر جنگ کے سائے نہ پڑیں۔ دوسری طرف روس کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کو ایک توازن میں رکھا جائے، مگر کسی بڑے مسلح تصادم سے بچا جائے کیونکہ یوکرین کے بعد دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز اس وقت اسلام آباد بنا ہوا ہے جہاں پاکستانی سفارت کار بڑی مہارت سے مختلف مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔<br />
پاکستانی عوام کے لیے ان مذاکرات کی کامیابی براہِ راست ان کے کچن اور جیب سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوتی ہے اور جنگ چھڑتی ہے، تو اس کا پہلا اثر توانائی کے شدید بحران اور مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی صورت میں نکلے گا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر پورا کرتا ہے اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ، جو برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے، اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف نہیں پگھلتی۔ اسلام آباد مذاکرات کی میز پر اس پائپ لائن کا تذکرہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہا ہے اور دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر پائیدار امن کا خواب ادھورا ہے۔<br />
ماہرینِ خارجہ امور ان مذاکرات کو ایک طویل سفر کا پہلا قدم قرار دے رہے ہیں کیونکہ دہائیوں پر محیط دشمنی اور بداعتمادی کو چند نشستوں میں ختم کرنا نامکن ہے، تاہم اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کا ایک ہی چھت تلے موجود ہونا اس بات کی نوید ہے کہ دونوں فریقین جنگ کی ہولناکیوں سے واقف ہیں اور اب سفارت کاری کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور پاکستان کے لیے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا عالمی امیج بہتر بنانے کا سنہری موقع ہوگا۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات اس وقت انسانیت کے لیے امید کی ایک ایسی کرن ہیں جس کی کامیابی کا دارومدار واشنگٹن اور تہران کی لچک پر ہے، جبکہ پاکستان نے اپنی بہترین سفارت کاری کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات میں ایک موثر ثالث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/islamabad-negotiations-what-is-pakistan-america-e/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آبنائے ہرمز کی بندش: عالمی معیشت کی شہ رگ پر ایک وار</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 23 Apr 2026 14:01:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=109636</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:حافظ عاصم شیروانی دنیا کے نقشے پر محض چند میل چوڑی یہ سمندری پٹی اب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ بارودی سرنگ بن چکی ہے جس پر پوری عالمی معیشت کا پاؤں آ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے بجا طور پر جدید دنیا کی ’’معاشی شہ رگ‘‘ کہا جاتا ہے، آج تاریخ کے سب سے مہیب تزویراتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس مقام کی چوڑائی اپنے تنگ ترین حصے میں صرف 21 میل ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر یہ بند ہو جائے تو دنیا بھر کی گاڑیاں، [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:حافظ عاصم شیروانی</strong><br />
دنیا کے نقشے پر محض چند میل چوڑی یہ سمندری پٹی اب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ بارودی سرنگ بن چکی ہے جس پر پوری عالمی معیشت کا پاؤں آ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے بجا طور پر جدید دنیا کی ’’معاشی شہ رگ‘‘ کہا جاتا ہے، آج تاریخ کے سب سے مہیب تزویراتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس مقام کی چوڑائی اپنے تنگ ترین حصے میں صرف 21 میل ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر یہ بند ہو جائے تو دنیا بھر کی گاڑیاں، کارخانے اور بجلی گھر چند ہی ہفتوں میں رک سکتے ہیں۔<br />
اپریل 2026 کا موجودہ منظرنامہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ اب سرحدوں اور شہروں سے نکل کر سمندروں تک پہنچ چکی ہے۔ جہاں ایک طرف &#8220;آپریشن ایپک فیوری&#8221; کے دھوئیں نے خطے کے آسمان کو تاریک کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں میں ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے جس کی بازگشت واشنگٹن، لندن اور ٹوکیو کے اسٹاک ایکسچینجز میں سنی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں اور ہر روز اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔<br />
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ محض اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کل خام تیل کی کھپت کا تقریباً 30 فیصد اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا 20 فیصد حصہ روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ہر تین میں سے ایک بیرل تیل کا انحصار اسی راستے کے کھلے رہنے پر ہے۔ موجودہ کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے ردعمل میں، اس گزرگاہ پر تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔<br />
یہ بندش کوئی روایتی فوجی ناکہ بندی نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرون ٹیکنالوجی، اسمارٹ مائنز اور اینٹی شپ میزائلوں کے سائے میں لڑی جانے والی ایک جدید’’ہائیبرڈ وارفیئر‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں جنگیں صرف فوجوں کے درمیان ہوتی تھیں، لیکن آج سستے ڈرونز اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔<br />
سمندری انشورنس کمپنیوں نے پریمیم کے نرخ اتنے بڑھا دیے ہیں کہ جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے اس راستے کا انتخاب کرنا ایک معاشی خودکشی بن چکا ہے۔ ایک عام تجارتی جہاز کو اب اس راستے سے گزرنے کے لیے کروڑوں روپے صرف انشورنس کی مد میں دینے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی کمپنیوں نے اپنے جہاز کھڑے کر دیے ہیں۔<br />
اس آبی گزرگاہ کی جزوی یا مکمل بندش کا سیدھا مطلب توانائی کے عالمی بحران کا آغاز ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اچھال نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں طرح کی معیشتوں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس بحران نے دنیا کو مختلف حصوں میں کچھ اس طرح متاثر کیا ہے۔<br />
امریکا اور یورپ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست اشیائے خورونوش اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار تھا، اب ایک نئے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سپر مارکیٹوں میں عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں کیونکہ انہیں لانے والے ٹرکوں کا ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔<br />
ایشیائی معیشتیں، خاص طور پر چین، جاپان اور بھارت، جو توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر بے حد انحصار کرتے ہیں، پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے اپنی صنعتوں کو سست کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں کم وقت کے لیے چل رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں الیکٹرانکس سے لے کر کپڑے تک، ہر چیز کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔<br />
کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ جہاز اپنا راستہ بدل کر افریقہ کے گرد چکر لگا سکتے ہیں۔ لیکن اس متبادل راستے (کیپ آف گڈ ہوپ) سے جانے کا مطلب ہے سفر میں کئی ہفتوں کا اضافہ اور کروڑوں ڈالر کا اضافی خرچ۔ اس خرچ کا بوجھ بھی آخر کار عام آدمی کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔<br />
یہ بحران اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ محض بحری بیڑوں کی موجودگی اور جدید ترین جنگی جہاز سمندری تجارت کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بھاری بحری موجودگی کے باوجود، آبنائے ہرمز کے تنگ اور پیچیدہ جغرافیے میں تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا تکنیکی اور عسکری لحاظ سے تقریباً ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔ سمندر کے نیچے بچھی ہوئی بارودی سرنگیں اور اچانک حملہ کرنے والے ڈرونز نے بڑی بڑی نیوی فورسز کو بے بس کر دیا ہے۔<br />
یہاں تک کہ وہ مغربی طاقتیں جنہوں نے اس جنگ کو شروع کیا، اب خود محسوس کر رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز پر فوجی تصادم ان کی اپنی معیشتوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب تک سمندروں میں جنگی جہازوں کے سائرن گونجتے رہیں گے، تجارتی جہازوں کے ہارن خاموش رہیں گے۔<br />
اس معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا خطرہ ماحولیات کا بھی ہے۔ اگر کوئی میزائل یا ڈرون کسی بڑے آئل ٹینکر سے ٹکرا جاتا ہے، تو لاکھوں بیرل تیل سمندر میں بہہ جائے گا۔ یہ نہ صرف سمندری حیات کے لیے ایک موت کا پروانہ ہوگا، بلکہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے انسانوں کا روزگار بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کا کوئی بھی حادثہ معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ صدی کی سب سے بڑی ماحولیاتی آفت ثابت ہو سکتا ہے۔<br />
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس &#8216;نظریۂ مسماری کا براہِ راست نتیجہ ہے جس نے خطے کے امن کو بھسم کر دیا ہے۔ طاقت کے نشے میں بدمست عالمی کھلاڑیوں کو اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہ زمین پر شہروں کو تو کھنڈر بنا سکتے ہیں، لیکن سمندر کے ان راستوں کو زبردستی کھلا نہیں رکھ سکتے جن پر ان کی اپنی بقا کا دارومدار ہے۔<br />
اگر اس سمندری شہ رگ کو سفارت کاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی کے ذریعے نہ کھولا گیا، تو دنیا ایک ایسی عالمی کساد بازاری (Global Recession) میں دھنس جائے گی جس سے نکلنے میں نسلیں لگ جائیں گی۔<br />
آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ اس جنگ میں کون جیتے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کے اختتام تک دنیا کی معیشت اور عام انسان کی زندگی اس قابل رہے گی کہ وہ اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہو سکے؟ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور اب بندوقوں سے زیادہ ضرورت مذاکرات کی میز کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بزرگ بوجھ نہیں، برکت ہوتے ہیں</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Mar 2026 11:10:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=106362</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید یہ ننھے ہاتھ آج کسی نصابی کتاب کے اوراق نہیں پلٹ رہےبلکہ زندگی کے سب سے قیمتی سبق سیکھنے آئے ہیں۔ نجی سکول کے طلبہ نے ایک دن ہیون اولڈ ایج ہوم میں گزارا۔جہاں انہوں نے بزرگ مردوں اور خواتین کے ساتھ وقت گزارا، ان کی باتیں سنیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کیا۔ کہیں کیرم کی بازی لگی، کہیں لڈو کی گونج سنائی دی اور کہیں قہقہوں کی آواز نے خاموش کمروں کو زندگی سے بھر دیا۔ کسی نے اپنی جوانی کے قصے سنائے،کسی نے بچھڑ جانے والوں کی یادیں تازہ کیں اور بچوں نے انہی [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
یہ ننھے ہاتھ آج کسی نصابی کتاب کے اوراق نہیں پلٹ رہےبلکہ زندگی کے سب سے قیمتی سبق سیکھنے آئے ہیں۔ نجی سکول کے طلبہ نے ایک دن ہیون اولڈ ایج ہوم میں گزارا۔جہاں انہوں نے بزرگ مردوں اور خواتین کے ساتھ وقت گزارا، ان کی باتیں سنیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کیا۔ کہیں کیرم کی بازی لگی، کہیں لڈو کی گونج سنائی دی اور کہیں قہقہوں کی آواز نے خاموش کمروں کو زندگی سے بھر دیا۔<br />
کسی نے اپنی جوانی کے قصے سنائے،کسی نے بچھڑ جانے والوں کی یادیں تازہ کیں اور بچوں نے انہی کہانیوں میں زندگی کی حقیقتیں تلاش کیں۔<br />
دن کے اختتام پر بچوں نے بزرگوں کو تحائف پیش کیے،مگر اصل تحفہ شاید وہ وقت تھا جو انہوں نے دل سے دیا۔ یہ چند گھنٹے شاید کیلنڈر کے حساب سے معمولی تھے،مگر ان لمحوں نے کئی تنہا دلوں کو سکون دے دیا۔یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہےکہ بزرگ بوجھ نہیں برکت ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:ایک بارپھرپیشگوائیاں زورپکڑنےلگی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Feb 2026 10:35:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=105601</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید ایک اور ورلڈکپ،ایک بارپھرقیاس آرائیاں،اور، ایک بار پھروہی پیشن گوئیاں زور پکڑنےلگیں۔ سری لنکا اور بھارت میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔پاکستان نے پہلے مرحلے میں چار میں سے تین میچز میں کامیابی حاصل کی اور ایک میں روایتی حریف بھارت سے میچ ہار گیا۔اسی طرح ایک بڑا اپ سیٹ اس ورلڈ کپ کا آسٹریلیا کا گروپ سٹیج سے باہر ہو نا تھا۔جسے پاکستانی فینز نے اپنی ٹیم کے لیے اچھی نشانی قرار دیاہے۔ کرکٹ کی دنیا میں کچھ اتفاق ایسے ہوتے ہیں کہ شائقین فوراً [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">ایک اور ورلڈکپ،ایک بارپھرقیاس آرائیاں،اور، ایک بار پھروہی پیشن گوئیاں زور پکڑنےلگیں۔</p>
<p style="text-align: right">سری لنکا اور بھارت میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔پاکستان نے پہلے مرحلے میں چار میں سے تین میچز میں کامیابی حاصل کی اور ایک میں روایتی حریف بھارت سے میچ ہار گیا۔اسی طرح ایک بڑا اپ سیٹ اس ورلڈ کپ کا آسٹریلیا کا گروپ سٹیج سے باہر ہو نا تھا۔جسے پاکستانی فینز نے اپنی ٹیم کے لیے اچھی نشانی قرار دیاہے۔<br />
کرکٹ کی دنیا میں کچھ اتفاق ایسے ہوتے ہیں کہ شائقین فوراً ’’نشانیاں‘‘ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر پیشن گوئیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔<br />
اب کی بار جو پیشن گوئی زبان زد عام ہے۔وہ ہے آسٹریلیا کا ٹورنامنٹ سے جلد آؤٹ ہونا اورپاکستان کا ٹائٹل جیتنا۔<br />
سوشل میڈیا پر آج کل یہی بات گردش کر رہی ہے کہ جب بھی آسٹریلیا ورلڈ کپ سے جلدی باہر ہوا، پاکستان نے ٹائٹل جیتا ہے۔<br />
1992 میں پاکستان نےانگلینڈکو 22رنز سے شکست دے کر ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔لیکن اس ٹورنامنٹ میں بھی آسٹریلیا پہلے آؤٹ ہوچکاتھا۔<br />
2009 کےٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب پاکستان نے ٹائٹل جیتا۔اور آسٹریلیا اس ایونٹ سے بھی پہلے ہی باہر ہو گیاتھا۔<br />
اسی طرح 2017 میں پاکستان نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں مشکلات کے بعد زبردست کم بیک کیا اور سرفراز احمد کی قیادت میں چیمپیئنز ٹرافی بھارت کے خلاف جیتا۔ آسٹریلیا یہاں بھی جلد باہر ہو گیا تھا ۔<br />
تو کیا اس بار بھی وہی کہانی دہرائی جائے گی؟ کیا 2026 میں بھی پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا؟<br />
اس بار بھی آسٹریلیا جلد ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے۔اور پاکستان چار میں سے تین میچ جیت چکا ہے۔<br />
تاریخ میں کچھ خوبصورت اتفاق ضرور ملتے ہیں۔لیکن ہمارا ماننا ہے کہ مگر ہر ٹورنامنٹ نئی کہانی لکھتا ہے۔پاکستان کے جیتنے کا دارومدار اس کی کارکردگی پر ہوگا، نہ کہ آسٹریلیا کی قسمت پر۔تو دیکھتےہیں اس بار کہانی کیا لکھی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پچیس سال بعد بسنت کے انداز ہی نرالے</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2026 06:38:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=104295</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید لاہور میں رنگ، رونق، جوش، خوشی، قہقہوں اور جشن کی کیفیت چھا گئی ہے، گلیاں مہک اٹھیں، چھتیں آباد ہو گئیں اور بسنت نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں، خوش باش چہروں اور کھلکھلاتی فضاؤں کا شہر بنا دیا۔ بسنت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروبار بھی چمک اٹھے ، پتنگ فروشوں، ڈور سازوں اور پتنگ سازوں کی چاندی ہو گئی، آرڈر اتنے بڑھ گئے کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا، دن رات کاریگر لگالئے ، کئی پتنگ فروشوں نے بکنگ بند کر دی جبکہ پتنگوں کی آن لائن فروخت بھی زوروں پر ہے۔ محفوظ بسنت کے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
لاہور میں رنگ، رونق، جوش، خوشی، قہقہوں اور جشن کی کیفیت چھا گئی ہے، گلیاں مہک اٹھیں، چھتیں آباد ہو گئیں اور بسنت نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں، خوش باش چہروں اور کھلکھلاتی فضاؤں کا شہر بنا دیا۔<br />
بسنت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروبار بھی چمک اٹھے ، پتنگ فروشوں، ڈور سازوں اور پتنگ سازوں کی چاندی ہو گئی، آرڈر اتنے بڑھ گئے کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا، دن رات کاریگر لگالئے ، کئی پتنگ فروشوں نے بکنگ بند کر دی جبکہ پتنگوں کی آن لائن فروخت بھی زوروں پر ہے۔ محفوظ بسنت کے لیے حکومت متحرک ہو گئی۔<br />
ڈپٹی کمشنر لاہور نے 6 سے 8 فروری کو ہونے والے پتنگ بازی کے فیسٹیول کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔ بسنت کی گہماگہمی کے باعث لاہور کے بڑے ہوٹلوں کی چھتیں پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، اندرون لاہور کی قدیمی حویلیوں کی مانگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہوریوں نے گھروں کو بسنت کے رنگوں، روشنیوں اور سجاوٹ سے نہلانے کے لیے خریداری شروع کر دی ہے، شاہ عالم مارکیٹ میں بسنت نائٹ لائٹس لینے والوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے جبکہ اعظم مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق پیلے، لال، سبز اور سفید کپڑوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔شہر بھر میں پیلے لباس، رنگین دوپٹے اور مسکراتے چہرے بسنت کی پہچان بن گئے ہیں، گلی محلوں میں موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور خوشیوں کا شور سنائی دے رہا ہے۔<br />
بسنت نے لاہور کو پھر سے ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، رنجشیں بھلا کر لوگ خوشیوں میں شریک ہو رہے ہیں، یادیں بن رہی ہیں اور لاہور ایک بار پھر رنگوں، محبت اور زندگی سے بھرپور نظر آ رہا ہے۔ بسنت نے کیٹرنگ کے کاروبار کو بھی خوب چمکا دیا، آرڈرز کی بھرمار سے سامان کم پڑ گیا اور کئی کیٹررز نے بکنگ بند کر دی، بسنت پربھنگڑے ڈالنے کیلئے ڈھول پہلے ہی بک ہو چکے ہیں جبکہ ڈی جے والوں کی مانگ بھی بڑھ چکی ہے ۔<br />
بسنت کے موقع پر لاہوری کھانوں کا روایتی تڑکا لگے گا۔تکہ بوٹی،ملائی بوٹی،بریانی بھی چلے گی ۔ ٹھنڈے موسم میں مچھلی بھی دسترخوان کی زینت بنے گی ، لاہوریوں نے رشتہ داروں اور دوستوں کو بسنت کی دعوتیں بھی دے ڈالی ۔اور بسنت کے شوقین شہریوں نے باقاعدہ رنگین دعوت نامے بھی بھجوانا شروع کر دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھاٹی گیٹ واقعہ:کب کیاہوا؟</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Jan 2026 09:36:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=104273</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب غفلت نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک کھلا مین ہول ماں کی گود اور معصوم بچی کی سانسیں نگل گیا۔ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی صرف 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ زندگی کی جنگ ہار گئیں، اور پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔ بدھ کی شب بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سعدیہ اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھیں، کسی کو کیا خبر تھی کہ چند لمحوں بعد یہ ماں اپنی بچی سمیت اندھیروں میں دفن ہو جائے گی۔ اچانک [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب غفلت نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک کھلا مین ہول ماں کی گود اور معصوم بچی کی سانسیں نگل گیا۔ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی صرف 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ زندگی کی جنگ ہار گئیں، اور پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔<br />
بدھ کی شب بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سعدیہ اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھیں، کسی کو کیا خبر تھی کہ چند لمحوں بعد یہ ماں اپنی بچی سمیت اندھیروں میں دفن ہو جائے گی۔ اچانک کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد چیخ و پکار مچ گئی، ریسکیو 1122 کو فوری کال کی گئی، ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔<br />
ریسکیو اہلکاروں نے گھنٹوں اندھی سیوریج لائن میں جدوجہد کی۔ تقریباً چھ گھنٹے بعد ماں کی لاش آؤٹ فال روڈ کے مین سیوریج سے ملی، جبکہ ننھی ردا فاطمہ کی لاش سترہ گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔ وہ بچی جس نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا تھا، خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔واقعے کے وقت جائے حادثہ پر موجود ساس مدد کے لیے چیختی رہی، ہاتھ پھیلاتی رہی، مگر غفلت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ زندگی ہار گئی، اور نظام دیکھتا رہ گیا۔<br />
سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کا شوہر آخرکار منظرِ عام پر آ گیا، ٹوٹی آواز، نم آنکھیں اور کانپتے لہجے میں غلام مرتضیٰ نے وہ الزامات لگا دیے جو سننے والوں کو جھنجھوڑ گئے۔ بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے دلخراش واقعے پر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ وہ مدد اور انصاف کی امید لے کر تھانے پہنچا تھا، مگر اسے مجرم بنا کر حراست میں لے لیا گیا، تشدد کیا گیا اور بیوی اور معصوم بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔<br />
غلام مرتضیٰ کے مطابق ڈی ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس بار بار کہتے رہے کہ سچ یہی ہے کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو مارا ہے، جبکہ وہ صرف اپنی برباد ہوتی زندگی کا نوحہ لے کر آیا تھا۔سانحے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی کا سخت نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ نے ذمہ دار افسران اور کنٹریکٹر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔<br />
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خاندان واقعے سے کچھ دیر قبل داتا دربار کے قریب موجود تھا، لیکن ایک لمحے کی غفلت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی ایل ڈی اے کی پوری ٹیم معطل کر دی گئی، کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور نجی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔<br />
وزیراعلیٰ نے بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس طلب کیا اور غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ٹیپا، ایل ڈی اے اور واسا کے افسران کے خلاف بھی سخت ایکشن کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت نے جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان تو کر دیا، مگر سوال آج بھی زندہ ہے۔کیا کوئی رقم ایک ماں کی ممتا اور ایک معصوم بچی کی جان کا بدل ہو سکتی ہے؟</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران میں پرتشددمظاہروں میں شدت</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Jan 2026 09:33:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=103040</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید ایران کے کل اکتیس صوبےہیں جن میں سے تقریبا ہرصوبےمیں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ایران میں عام اندازےکےمطابق بارہ سو پینتالیس شہرہیں لیکن احتجاج گیارہ سو سے زائدشہروں میں پھیل چکاہے۔ یہ احتجاج نہ صرف ایران کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے، جو ملک بھر میں عوامی ناراضگی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہےبلکہ کئی دیہی علاقےبھی مظاہروں کی لپیٹ میں جل رہےہیں۔ لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑےپیمانےپرمظاہرے کیوں ہو رہےہیں؟ ایران میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، بنیادی اشیاء خوردونوش، تیل، انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">ایران کے کل اکتیس صوبےہیں جن میں سے تقریبا ہرصوبےمیں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔<br />
ایران میں عام اندازےکےمطابق بارہ سو پینتالیس شہرہیں لیکن احتجاج گیارہ سو سے زائدشہروں میں پھیل چکاہے۔<br />
یہ احتجاج نہ صرف ایران کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے، جو ملک بھر میں عوامی ناراضگی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہےبلکہ کئی دیہی علاقےبھی مظاہروں کی لپیٹ میں جل رہےہیں۔<br />
لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑےپیمانےپرمظاہرے کیوں ہو رہےہیں؟<br />
ایران میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، بنیادی اشیاء خوردونوش، تیل، انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے جس سے لوگوں کی خریداری کی طاقت کم ہو گئی۔حکومت کی کچھ معاشی اصلاحات جیسے سبسڈی میں تبدیلی اور سامان کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام میں ناراضگی بڑھا دی ۔<br />
احتجاج دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہوا اور تقریباً تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں پھیل چکا ہے۔اس دوران ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائدہو چکی ہے اور ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ایران کی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور طاقت کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔<br />
<strong>ایرانی عوام کو اتنا غصہ کیوں ہے؟</strong><br />
2022-23 میں مہسا امینی کے قتل کے بعد بڑے ملک گیر احتجاج بھی شروع ہوئے جو اب تک ایران میں عوامی ناراضگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔عوام میں نظامِ حکمرانی چیلنج کرنے کی آواز بلند ہو رہی ہے، خاص طور پر سپریم لیڈر اور جمہوری جمہوریہ کے خلاف نعرے بھی سامنے آئے ہیں۔یہ وہی مہسا امینی ہے جسےمبینہ طور پرایران کی خواتین پولیس نے برقعہ نہ پہننےپرقتل کر دیاتھا۔<br />
اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی بے روزگاری، نوجوانوں کی بے چینی، اور بڑی آبادی کے لیے بہتر مواقع نہ ہونے جیسے مسائل بھی مظاہروں کو تیز کر رہے ہیں۔<br />
<strong>مسئلہ صرف مہنگائی ہے یا کچھ اور بھی؟</strong><br />
یہ مظاہرے صرف مہنگائی تک محدود نہیں ہیں۔بڑھا ہوا عوامی ناراضگی ایک بڑے سیاسی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عوام میں یہ احساس بڑھا ہے کہ حکومت گرتے معیارِ زندگی کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر رہی۔عوامی گھرتی ہوئی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، چاہے وہ حجاب، آزادی اظہار، یا سیاسی نظام کا مستقبل ہو۔مظاہرے صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی مطالبات بھی سامنے لا رہے ہیں، جیسے حکومتی اصلاحات یا نظام میں تبدیلی یا بالکل ایسی تبدیلی جیسی شاہ ایران کا تختہ الٹتےہوئے دیکھی گئی۔<br />
<strong>ایران کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟</strong><br />
کچھ تجزیہ کار کا خیال ہے کہ حکومت جھنجھلاہٹ کم کرنے کے لیے حد تک معاشی اصلاحات اور سیاسی کھلے پن فراہم کر سکتی ہے۔معمولی اصلاحات جیسے قیمتوں پر کنٹرول، شفافیت اور احتساب کچھ وقت کے لیے عوامی ناراضگی کو کم کر سکتی ہے، لیکن سٹرکچرل مسائل حل نہیں ہوں گے۔<br />
اگر حکومت سخت گیر ردعمل اختیار کرتی ہے یا عوامی مطالبات بڑھتے ہیں تو یہ مزید بڑے سیاسی بحران یا کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔بعض لوگ ایران میں نظامِ حکمرانی میں تبدیل-مزاجی یا بڑے سیاسی مطالبات کے ساتھ مظاہروں کی شکل دیکھتے ہیں، جس کا نتیجہ مختلف سمتوں میں نکل سکتا ہے۔<br />
امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک ایران کے اندرونی مسائل پر اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔جیسے جیسے بین الاقوامی تناؤ بڑھتا ہے جیسا کہ ا مریکہ مسلسل دباؤ بڑھارہاہے توایران کے مسائل عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
