<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بلاگ &#8211; Pakistan Today</title>
	<atom:link href="https://pakistantoday.tv/category/blog/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<description>Sabse Pehlay Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 14:03:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9.4</generator>

<image>
	<url>https://pakistantoday.tv/wp-content/uploads/2024/01/cropped-Pakistan-Today-News-HD-Logo-Urdu-32x32.png</url>
	<title>بلاگ &#8211; Pakistan Today</title>
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آبنائے ہرمز کی بندش: عالمی معیشت کی شہ رگ پر ایک وار</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 23 Apr 2026 14:01:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=109636</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:حافظ عاصم شیروانی دنیا کے نقشے پر محض چند میل چوڑی یہ سمندری پٹی اب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ بارودی سرنگ بن چکی ہے جس پر پوری عالمی معیشت کا پاؤں آ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے بجا طور پر جدید دنیا کی ’’معاشی شہ رگ‘‘ کہا جاتا ہے، آج تاریخ کے سب سے مہیب تزویراتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس مقام کی چوڑائی اپنے تنگ ترین حصے میں صرف 21 میل ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر یہ بند ہو جائے تو دنیا بھر کی گاڑیاں، [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:حافظ عاصم شیروانی</strong><br />
دنیا کے نقشے پر محض چند میل چوڑی یہ سمندری پٹی اب محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ وہ بارودی سرنگ بن چکی ہے جس پر پوری عالمی معیشت کا پاؤں آ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز، جسے بجا طور پر جدید دنیا کی ’’معاشی شہ رگ‘‘ کہا جاتا ہے، آج تاریخ کے سب سے مہیب تزویراتی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس مقام کی چوڑائی اپنے تنگ ترین حصے میں صرف 21 میل ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر یہ بند ہو جائے تو دنیا بھر کی گاڑیاں، کارخانے اور بجلی گھر چند ہی ہفتوں میں رک سکتے ہیں۔<br />
اپریل 2026 کا موجودہ منظرنامہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ اب سرحدوں اور شہروں سے نکل کر سمندروں تک پہنچ چکی ہے۔ جہاں ایک طرف &#8220;آپریشن ایپک فیوری&#8221; کے دھوئیں نے خطے کے آسمان کو تاریک کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں میں ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے جس کی بازگشت واشنگٹن، لندن اور ٹوکیو کے اسٹاک ایکسچینجز میں سنی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں اور ہر روز اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔<br />
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ محض اس ایک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی کل خام تیل کی کھپت کا تقریباً 30 فیصد اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا 20 فیصد حصہ روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ہر تین میں سے ایک بیرل تیل کا انحصار اسی راستے کے کھلے رہنے پر ہے۔ موجودہ کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے ردعمل میں، اس گزرگاہ پر تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔<br />
یہ بندش کوئی روایتی فوجی ناکہ بندی نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرون ٹیکنالوجی، اسمارٹ مائنز اور اینٹی شپ میزائلوں کے سائے میں لڑی جانے والی ایک جدید’’ہائیبرڈ وارفیئر‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں جنگیں صرف فوجوں کے درمیان ہوتی تھیں، لیکن آج سستے ڈرونز اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔<br />
سمندری انشورنس کمپنیوں نے پریمیم کے نرخ اتنے بڑھا دیے ہیں کہ جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے اس راستے کا انتخاب کرنا ایک معاشی خودکشی بن چکا ہے۔ ایک عام تجارتی جہاز کو اب اس راستے سے گزرنے کے لیے کروڑوں روپے صرف انشورنس کی مد میں دینے پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کئی کمپنیوں نے اپنے جہاز کھڑے کر دیے ہیں۔<br />
اس آبی گزرگاہ کی جزوی یا مکمل بندش کا سیدھا مطلب توانائی کے عالمی بحران کا آغاز ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اچھال نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں طرح کی معیشتوں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس بحران نے دنیا کو مختلف حصوں میں کچھ اس طرح متاثر کیا ہے۔<br />
امریکا اور یورپ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست اشیائے خورونوش اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار تھا، اب ایک نئے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سپر مارکیٹوں میں عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں کیونکہ انہیں لانے والے ٹرکوں کا ایندھن مہنگا ہو چکا ہے۔<br />
ایشیائی معیشتیں، خاص طور پر چین، جاپان اور بھارت، جو توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر بے حد انحصار کرتے ہیں، پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے اپنی صنعتوں کو سست کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں کم وقت کے لیے چل رہی ہیں، جس سے دنیا بھر میں الیکٹرانکس سے لے کر کپڑے تک، ہر چیز کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔<br />
کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ جہاز اپنا راستہ بدل کر افریقہ کے گرد چکر لگا سکتے ہیں۔ لیکن اس متبادل راستے (کیپ آف گڈ ہوپ) سے جانے کا مطلب ہے سفر میں کئی ہفتوں کا اضافہ اور کروڑوں ڈالر کا اضافی خرچ۔ اس خرچ کا بوجھ بھی آخر کار عام آدمی کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔<br />
یہ بحران اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ محض بحری بیڑوں کی موجودگی اور جدید ترین جنگی جہاز سمندری تجارت کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بھاری بحری موجودگی کے باوجود، آبنائے ہرمز کے تنگ اور پیچیدہ جغرافیے میں تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا تکنیکی اور عسکری لحاظ سے تقریباً ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔ سمندر کے نیچے بچھی ہوئی بارودی سرنگیں اور اچانک حملہ کرنے والے ڈرونز نے بڑی بڑی نیوی فورسز کو بے بس کر دیا ہے۔<br />
یہاں تک کہ وہ مغربی طاقتیں جنہوں نے اس جنگ کو شروع کیا، اب خود محسوس کر رہی ہیں کہ آبنائے ہرمز پر فوجی تصادم ان کی اپنی معیشتوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب تک سمندروں میں جنگی جہازوں کے سائرن گونجتے رہیں گے، تجارتی جہازوں کے ہارن خاموش رہیں گے۔<br />
اس معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا خطرہ ماحولیات کا بھی ہے۔ اگر کوئی میزائل یا ڈرون کسی بڑے آئل ٹینکر سے ٹکرا جاتا ہے، تو لاکھوں بیرل تیل سمندر میں بہہ جائے گا۔ یہ نہ صرف سمندری حیات کے لیے ایک موت کا پروانہ ہوگا، بلکہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے انسانوں کا روزگار بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کا کوئی بھی حادثہ معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ صدی کی سب سے بڑی ماحولیاتی آفت ثابت ہو سکتا ہے۔<br />
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس &#8216;نظریۂ مسماری کا براہِ راست نتیجہ ہے جس نے خطے کے امن کو بھسم کر دیا ہے۔ طاقت کے نشے میں بدمست عالمی کھلاڑیوں کو اب یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہ زمین پر شہروں کو تو کھنڈر بنا سکتے ہیں، لیکن سمندر کے ان راستوں کو زبردستی کھلا نہیں رکھ سکتے جن پر ان کی اپنی بقا کا دارومدار ہے۔<br />
اگر اس سمندری شہ رگ کو سفارت کاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی کے ذریعے نہ کھولا گیا، تو دنیا ایک ایسی عالمی کساد بازاری (Global Recession) میں دھنس جائے گی جس سے نکلنے میں نسلیں لگ جائیں گی۔<br />
آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ اس جنگ میں کون جیتے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کے اختتام تک دنیا کی معیشت اور عام انسان کی زندگی اس قابل رہے گی کہ وہ اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہو سکے؟ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور اب بندوقوں سے زیادہ ضرورت مذاکرات کی میز کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/the-closure-of-the-strait-of-hormuz-is-a-major-blow-to-the-global-economy/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بزرگ بوجھ نہیں، برکت ہوتے ہیں</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Mar 2026 11:10:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=106362</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید یہ ننھے ہاتھ آج کسی نصابی کتاب کے اوراق نہیں پلٹ رہےبلکہ زندگی کے سب سے قیمتی سبق سیکھنے آئے ہیں۔ نجی سکول کے طلبہ نے ایک دن ہیون اولڈ ایج ہوم میں گزارا۔جہاں انہوں نے بزرگ مردوں اور خواتین کے ساتھ وقت گزارا، ان کی باتیں سنیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کیا۔ کہیں کیرم کی بازی لگی، کہیں لڈو کی گونج سنائی دی اور کہیں قہقہوں کی آواز نے خاموش کمروں کو زندگی سے بھر دیا۔ کسی نے اپنی جوانی کے قصے سنائے،کسی نے بچھڑ جانے والوں کی یادیں تازہ کیں اور بچوں نے انہی [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
یہ ننھے ہاتھ آج کسی نصابی کتاب کے اوراق نہیں پلٹ رہےبلکہ زندگی کے سب سے قیمتی سبق سیکھنے آئے ہیں۔ نجی سکول کے طلبہ نے ایک دن ہیون اولڈ ایج ہوم میں گزارا۔جہاں انہوں نے بزرگ مردوں اور خواتین کے ساتھ وقت گزارا، ان کی باتیں سنیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کیا۔ کہیں کیرم کی بازی لگی، کہیں لڈو کی گونج سنائی دی اور کہیں قہقہوں کی آواز نے خاموش کمروں کو زندگی سے بھر دیا۔<br />
کسی نے اپنی جوانی کے قصے سنائے،کسی نے بچھڑ جانے والوں کی یادیں تازہ کیں اور بچوں نے انہی کہانیوں میں زندگی کی حقیقتیں تلاش کیں۔<br />
دن کے اختتام پر بچوں نے بزرگوں کو تحائف پیش کیے،مگر اصل تحفہ شاید وہ وقت تھا جو انہوں نے دل سے دیا۔ یہ چند گھنٹے شاید کیلنڈر کے حساب سے معمولی تھے،مگر ان لمحوں نے کئی تنہا دلوں کو سکون دے دیا۔یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہےکہ بزرگ بوجھ نہیں برکت ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/elders-are-not-a-burden-they-are-a-blessing/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:ایک بارپھرپیشگوائیاں زورپکڑنےلگی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Feb 2026 10:35:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=105601</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید ایک اور ورلڈکپ،ایک بارپھرقیاس آرائیاں،اور، ایک بار پھروہی پیشن گوئیاں زور پکڑنےلگیں۔ سری لنکا اور بھارت میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔پاکستان نے پہلے مرحلے میں چار میں سے تین میچز میں کامیابی حاصل کی اور ایک میں روایتی حریف بھارت سے میچ ہار گیا۔اسی طرح ایک بڑا اپ سیٹ اس ورلڈ کپ کا آسٹریلیا کا گروپ سٹیج سے باہر ہو نا تھا۔جسے پاکستانی فینز نے اپنی ٹیم کے لیے اچھی نشانی قرار دیاہے۔ کرکٹ کی دنیا میں کچھ اتفاق ایسے ہوتے ہیں کہ شائقین فوراً [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">ایک اور ورلڈکپ،ایک بارپھرقیاس آرائیاں،اور، ایک بار پھروہی پیشن گوئیاں زور پکڑنےلگیں۔</p>
<p style="text-align: right">سری لنکا اور بھارت میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔پاکستان نے پہلے مرحلے میں چار میں سے تین میچز میں کامیابی حاصل کی اور ایک میں روایتی حریف بھارت سے میچ ہار گیا۔اسی طرح ایک بڑا اپ سیٹ اس ورلڈ کپ کا آسٹریلیا کا گروپ سٹیج سے باہر ہو نا تھا۔جسے پاکستانی فینز نے اپنی ٹیم کے لیے اچھی نشانی قرار دیاہے۔<br />
کرکٹ کی دنیا میں کچھ اتفاق ایسے ہوتے ہیں کہ شائقین فوراً ’’نشانیاں‘‘ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر پیشن گوئیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔<br />
اب کی بار جو پیشن گوئی زبان زد عام ہے۔وہ ہے آسٹریلیا کا ٹورنامنٹ سے جلد آؤٹ ہونا اورپاکستان کا ٹائٹل جیتنا۔<br />
سوشل میڈیا پر آج کل یہی بات گردش کر رہی ہے کہ جب بھی آسٹریلیا ورلڈ کپ سے جلدی باہر ہوا، پاکستان نے ٹائٹل جیتا ہے۔<br />
1992 میں پاکستان نےانگلینڈکو 22رنز سے شکست دے کر ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔لیکن اس ٹورنامنٹ میں بھی آسٹریلیا پہلے آؤٹ ہوچکاتھا۔<br />
2009 کےٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب پاکستان نے ٹائٹل جیتا۔اور آسٹریلیا اس ایونٹ سے بھی پہلے ہی باہر ہو گیاتھا۔<br />
اسی طرح 2017 میں پاکستان نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں مشکلات کے بعد زبردست کم بیک کیا اور سرفراز احمد کی قیادت میں چیمپیئنز ٹرافی بھارت کے خلاف جیتا۔ آسٹریلیا یہاں بھی جلد باہر ہو گیا تھا ۔<br />
تو کیا اس بار بھی وہی کہانی دہرائی جائے گی؟ کیا 2026 میں بھی پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا؟<br />
اس بار بھی آسٹریلیا جلد ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے۔اور پاکستان چار میں سے تین میچ جیت چکا ہے۔<br />
تاریخ میں کچھ خوبصورت اتفاق ضرور ملتے ہیں۔لیکن ہمارا ماننا ہے کہ مگر ہر ٹورنامنٹ نئی کہانی لکھتا ہے۔پاکستان کے جیتنے کا دارومدار اس کی کارکردگی پر ہوگا، نہ کہ آسٹریلیا کی قسمت پر۔تو دیکھتےہیں اس بار کہانی کیا لکھی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/icc-twenty20-world-cup-once-again/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پچیس سال بعد بسنت کے انداز ہی نرالے</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2026 06:38:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=104295</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید لاہور میں رنگ، رونق، جوش، خوشی، قہقہوں اور جشن کی کیفیت چھا گئی ہے، گلیاں مہک اٹھیں، چھتیں آباد ہو گئیں اور بسنت نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں، خوش باش چہروں اور کھلکھلاتی فضاؤں کا شہر بنا دیا۔ بسنت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروبار بھی چمک اٹھے ، پتنگ فروشوں، ڈور سازوں اور پتنگ سازوں کی چاندی ہو گئی، آرڈر اتنے بڑھ گئے کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا، دن رات کاریگر لگالئے ، کئی پتنگ فروشوں نے بکنگ بند کر دی جبکہ پتنگوں کی آن لائن فروخت بھی زوروں پر ہے۔ محفوظ بسنت کے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
لاہور میں رنگ، رونق، جوش، خوشی، قہقہوں اور جشن کی کیفیت چھا گئی ہے، گلیاں مہک اٹھیں، چھتیں آباد ہو گئیں اور بسنت نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں، خوش باش چہروں اور کھلکھلاتی فضاؤں کا شہر بنا دیا۔<br />
بسنت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروبار بھی چمک اٹھے ، پتنگ فروشوں، ڈور سازوں اور پتنگ سازوں کی چاندی ہو گئی، آرڈر اتنے بڑھ گئے کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا، دن رات کاریگر لگالئے ، کئی پتنگ فروشوں نے بکنگ بند کر دی جبکہ پتنگوں کی آن لائن فروخت بھی زوروں پر ہے۔ محفوظ بسنت کے لیے حکومت متحرک ہو گئی۔<br />
ڈپٹی کمشنر لاہور نے 6 سے 8 فروری کو ہونے والے پتنگ بازی کے فیسٹیول کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔ بسنت کی گہماگہمی کے باعث لاہور کے بڑے ہوٹلوں کی چھتیں پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، اندرون لاہور کی قدیمی حویلیوں کی مانگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہوریوں نے گھروں کو بسنت کے رنگوں، روشنیوں اور سجاوٹ سے نہلانے کے لیے خریداری شروع کر دی ہے، شاہ عالم مارکیٹ میں بسنت نائٹ لائٹس لینے والوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے جبکہ اعظم مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق پیلے، لال، سبز اور سفید کپڑوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔شہر بھر میں پیلے لباس، رنگین دوپٹے اور مسکراتے چہرے بسنت کی پہچان بن گئے ہیں، گلی محلوں میں موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور خوشیوں کا شور سنائی دے رہا ہے۔<br />
بسنت نے لاہور کو پھر سے ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، رنجشیں بھلا کر لوگ خوشیوں میں شریک ہو رہے ہیں، یادیں بن رہی ہیں اور لاہور ایک بار پھر رنگوں، محبت اور زندگی سے بھرپور نظر آ رہا ہے۔ بسنت نے کیٹرنگ کے کاروبار کو بھی خوب چمکا دیا، آرڈرز کی بھرمار سے سامان کم پڑ گیا اور کئی کیٹررز نے بکنگ بند کر دی، بسنت پربھنگڑے ڈالنے کیلئے ڈھول پہلے ہی بک ہو چکے ہیں جبکہ ڈی جے والوں کی مانگ بھی بڑھ چکی ہے ۔<br />
بسنت کے موقع پر لاہوری کھانوں کا روایتی تڑکا لگے گا۔تکہ بوٹی،ملائی بوٹی،بریانی بھی چلے گی ۔ ٹھنڈے موسم میں مچھلی بھی دسترخوان کی زینت بنے گی ، لاہوریوں نے رشتہ داروں اور دوستوں کو بسنت کی دعوتیں بھی دے ڈالی ۔اور بسنت کے شوقین شہریوں نے باقاعدہ رنگین دعوت نامے بھی بھجوانا شروع کر دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2-%db%81%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%a7%d9%84%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھاٹی گیٹ واقعہ:کب کیاہوا؟</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Jan 2026 09:36:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=104273</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب غفلت نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک کھلا مین ہول ماں کی گود اور معصوم بچی کی سانسیں نگل گیا۔ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی صرف 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ زندگی کی جنگ ہار گئیں، اور پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔ بدھ کی شب بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سعدیہ اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھیں، کسی کو کیا خبر تھی کہ چند لمحوں بعد یہ ماں اپنی بچی سمیت اندھیروں میں دفن ہو جائے گی۔ اچانک [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب غفلت نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک کھلا مین ہول ماں کی گود اور معصوم بچی کی سانسیں نگل گیا۔ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی صرف 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ زندگی کی جنگ ہار گئیں، اور پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔<br />
بدھ کی شب بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سعدیہ اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھیں، کسی کو کیا خبر تھی کہ چند لمحوں بعد یہ ماں اپنی بچی سمیت اندھیروں میں دفن ہو جائے گی۔ اچانک کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد چیخ و پکار مچ گئی، ریسکیو 1122 کو فوری کال کی گئی، ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔<br />
ریسکیو اہلکاروں نے گھنٹوں اندھی سیوریج لائن میں جدوجہد کی۔ تقریباً چھ گھنٹے بعد ماں کی لاش آؤٹ فال روڈ کے مین سیوریج سے ملی، جبکہ ننھی ردا فاطمہ کی لاش سترہ گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔ وہ بچی جس نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا تھا، خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔واقعے کے وقت جائے حادثہ پر موجود ساس مدد کے لیے چیختی رہی، ہاتھ پھیلاتی رہی، مگر غفلت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ زندگی ہار گئی، اور نظام دیکھتا رہ گیا۔<br />
سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کا شوہر آخرکار منظرِ عام پر آ گیا، ٹوٹی آواز، نم آنکھیں اور کانپتے لہجے میں غلام مرتضیٰ نے وہ الزامات لگا دیے جو سننے والوں کو جھنجھوڑ گئے۔ بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے دلخراش واقعے پر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ وہ مدد اور انصاف کی امید لے کر تھانے پہنچا تھا، مگر اسے مجرم بنا کر حراست میں لے لیا گیا، تشدد کیا گیا اور بیوی اور معصوم بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔<br />
غلام مرتضیٰ کے مطابق ڈی ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس بار بار کہتے رہے کہ سچ یہی ہے کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو مارا ہے، جبکہ وہ صرف اپنی برباد ہوتی زندگی کا نوحہ لے کر آیا تھا۔سانحے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی کا سخت نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ نے ذمہ دار افسران اور کنٹریکٹر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔<br />
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خاندان واقعے سے کچھ دیر قبل داتا دربار کے قریب موجود تھا، لیکن ایک لمحے کی غفلت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی ایل ڈی اے کی پوری ٹیم معطل کر دی گئی، کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور نجی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔<br />
وزیراعلیٰ نے بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس طلب کیا اور غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ٹیپا، ایل ڈی اے اور واسا کے افسران کے خلاف بھی سخت ایکشن کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت نے جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان تو کر دیا، مگر سوال آج بھی زندہ ہے۔کیا کوئی رقم ایک ماں کی ممتا اور ایک معصوم بچی کی جان کا بدل ہو سکتی ہے؟</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/bhati-gate-incident-when-what-happened/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران میں پرتشددمظاہروں میں شدت</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Jan 2026 09:33:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=103040</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید ایران کے کل اکتیس صوبےہیں جن میں سے تقریبا ہرصوبےمیں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ایران میں عام اندازےکےمطابق بارہ سو پینتالیس شہرہیں لیکن احتجاج گیارہ سو سے زائدشہروں میں پھیل چکاہے۔ یہ احتجاج نہ صرف ایران کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے، جو ملک بھر میں عوامی ناراضگی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہےبلکہ کئی دیہی علاقےبھی مظاہروں کی لپیٹ میں جل رہےہیں۔ لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑےپیمانےپرمظاہرے کیوں ہو رہےہیں؟ ایران میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، بنیادی اشیاء خوردونوش، تیل، انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong></p>
<p style="text-align: right">ایران کے کل اکتیس صوبےہیں جن میں سے تقریبا ہرصوبےمیں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔<br />
ایران میں عام اندازےکےمطابق بارہ سو پینتالیس شہرہیں لیکن احتجاج گیارہ سو سے زائدشہروں میں پھیل چکاہے۔<br />
یہ احتجاج نہ صرف ایران کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے، جو ملک بھر میں عوامی ناراضگی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہےبلکہ کئی دیہی علاقےبھی مظاہروں کی لپیٹ میں جل رہےہیں۔<br />
لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑےپیمانےپرمظاہرے کیوں ہو رہےہیں؟<br />
ایران میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، بنیادی اشیاء خوردونوش، تیل، انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے جس سے لوگوں کی خریداری کی طاقت کم ہو گئی۔حکومت کی کچھ معاشی اصلاحات جیسے سبسڈی میں تبدیلی اور سامان کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام میں ناراضگی بڑھا دی ۔<br />
احتجاج دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہوا اور تقریباً تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں پھیل چکا ہے۔اس دوران ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائدہو چکی ہے اور ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ایران کی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور طاقت کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔<br />
<strong>ایرانی عوام کو اتنا غصہ کیوں ہے؟</strong><br />
2022-23 میں مہسا امینی کے قتل کے بعد بڑے ملک گیر احتجاج بھی شروع ہوئے جو اب تک ایران میں عوامی ناراضگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔عوام میں نظامِ حکمرانی چیلنج کرنے کی آواز بلند ہو رہی ہے، خاص طور پر سپریم لیڈر اور جمہوری جمہوریہ کے خلاف نعرے بھی سامنے آئے ہیں۔یہ وہی مہسا امینی ہے جسےمبینہ طور پرایران کی خواتین پولیس نے برقعہ نہ پہننےپرقتل کر دیاتھا۔<br />
اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی بے روزگاری، نوجوانوں کی بے چینی، اور بڑی آبادی کے لیے بہتر مواقع نہ ہونے جیسے مسائل بھی مظاہروں کو تیز کر رہے ہیں۔<br />
<strong>مسئلہ صرف مہنگائی ہے یا کچھ اور بھی؟</strong><br />
یہ مظاہرے صرف مہنگائی تک محدود نہیں ہیں۔بڑھا ہوا عوامی ناراضگی ایک بڑے سیاسی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عوام میں یہ احساس بڑھا ہے کہ حکومت گرتے معیارِ زندگی کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر رہی۔عوامی گھرتی ہوئی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، چاہے وہ حجاب، آزادی اظہار، یا سیاسی نظام کا مستقبل ہو۔مظاہرے صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی مطالبات بھی سامنے لا رہے ہیں، جیسے حکومتی اصلاحات یا نظام میں تبدیلی یا بالکل ایسی تبدیلی جیسی شاہ ایران کا تختہ الٹتےہوئے دیکھی گئی۔<br />
<strong>ایران کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟</strong><br />
کچھ تجزیہ کار کا خیال ہے کہ حکومت جھنجھلاہٹ کم کرنے کے لیے حد تک معاشی اصلاحات اور سیاسی کھلے پن فراہم کر سکتی ہے۔معمولی اصلاحات جیسے قیمتوں پر کنٹرول، شفافیت اور احتساب کچھ وقت کے لیے عوامی ناراضگی کو کم کر سکتی ہے، لیکن سٹرکچرل مسائل حل نہیں ہوں گے۔<br />
اگر حکومت سخت گیر ردعمل اختیار کرتی ہے یا عوامی مطالبات بڑھتے ہیں تو یہ مزید بڑے سیاسی بحران یا کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔بعض لوگ ایران میں نظامِ حکمرانی میں تبدیل-مزاجی یا بڑے سیاسی مطالبات کے ساتھ مظاہروں کی شکل دیکھتے ہیں، جس کا نتیجہ مختلف سمتوں میں نکل سکتا ہے۔<br />
امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک ایران کے اندرونی مسائل پر اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔جیسے جیسے بین الاقوامی تناؤ بڑھتا ہے جیسا کہ ا مریکہ مسلسل دباؤ بڑھارہاہے توایران کے مسائل عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/iran-is-currently-engulfed-in-violent-protests/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>2025 میں پاکستانی کرکٹ اسٹارز کی شادیاں، کئی کھلاڑی رشتۂ ازدواج میں منسلک</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/pakistani-cricket-stars-to-get-married-in-2025/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/pakistani-cricket-stars-to-get-married-in-2025/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 03 Jan 2026 09:10:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=102310</guid>

					<description><![CDATA[سال 2025 پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے شادیوں کے حوالے سے بہت خاص رہا،کئی قومی اور معروف کرکٹرز نے زندگی کے نئے باب کا آغاز کیا۔ شادی کرنے والے کھلاڑیوں میں ابرار احمد، حسن نواز، کامران غلام اور ویمن کرکٹر سدرہ نواز شامل ہیں۔ سب سے پہلے21 جون کو نوجوان بلے باز حسن نواز شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔قومی کرکٹر کی شادی پنجاب کے ضلع لیہ میں ہوئی، جس میں ان کے قریبی دوست اور رشتہ دار شریک ہوئے ۔ حسن نواز نے بہت سادہ انداز میں اپنی شادی کی۔ اس کے بعد اکتوبر میں پاکستان کے مایہ ناز [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>سال 2025 پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے شادیوں کے حوالے سے بہت خاص رہا،کئی قومی اور معروف کرکٹرز نے زندگی کے نئے باب کا آغاز کیا۔ شادی کرنے والے کھلاڑیوں میں ابرار احمد، حسن نواز، کامران غلام اور ویمن کرکٹر سدرہ نواز شامل ہیں۔</strong><br />
سب سے پہلے21 جون کو نوجوان بلے باز حسن نواز شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔قومی کرکٹر کی شادی پنجاب کے ضلع لیہ میں ہوئی، جس میں ان کے قریبی دوست اور رشتہ دار شریک ہوئے ۔ حسن نواز نے بہت سادہ انداز میں اپنی شادی کی۔ اس کے بعد اکتوبر میں پاکستان کے مایہ ناز سپنر ابرار احمد کی کراچی میں شادی کی تقریبات منائیں گئیں جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں اور مداحوں نے ان کو مبارکباد دی۔ انکی شادی میں پاکستانی کرکٹرز اور چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی تھی۔<br />
بلے باز کامران غلام کی شادی بھی اکتوبر کے مہینے میں پشاور میں ہوئی جس میں ان کے عزیز و اقارب اور ساتھی کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ انکی شادی پر ابھرتے سٹار صاحبزادہ فرحان اور محمد رضوان نے خصوصی شرکت کی تھی اور انکی شادی کی وڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی تھی۔<br />
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی وکٹ کیپر بیٹر سدرہ نواز 23 دسمبر 2025 کو پیا گھر سدھار گئی۔ انہوں نے لاہور میں کاروباری شخصیت غیاث خان سے شادی کی اور شادی تقریبات پر انکی ساتھی کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/pakistani-cricket-stars-to-get-married-in-2025/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بالی ووڈ فلم ’’دھرویندھر‘‘ نے لیاری اور رحمان ڈکیت کی کہانی دوبارہ زندہ کر دی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/bollywood-film-dharvendra-ne-lyari-a/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/bollywood-film-dharvendra-ne-lyari-a/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Dec 2025 09:36:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=101131</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید کراچی کا علاقہ لیاری آج کل دنیابھر اور خاص طور پر پاکستا ن اور بھارت کے شہریوں کی گفتگو کا حصہ اور زبان زد عام ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ لیاری میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے کے گینگ ہیں اور دوسرا بالی ووڈ کی بنائی ہوئی فلم دھرویندر ہے جس میں سنجےدت،رنویر کپور،اکشے کھنہ،ارجن رام پال سمیت کئی بھارتی فلمی ستارےایک ساتھ نظر آرہےہیں۔سابق ایس ایس پی چودھری اسلم اور رحمان ڈکیٹ کی زندگی کو کہانی میں فلم بند کیا گیا ہے۔ رحمان ڈکیت ایک ایسا نام جو کئی برسوں تک کراچی سمیت پاکستان کے مختلف [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
کراچی کا علاقہ لیاری آج کل دنیابھر اور خاص طور پر پاکستا ن اور بھارت کے شہریوں کی گفتگو کا حصہ اور زبان زد عام ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ لیاری میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے کے گینگ ہیں اور دوسرا بالی ووڈ کی بنائی ہوئی فلم دھرویندر ہے جس میں سنجےدت،رنویر کپور،اکشے کھنہ،ارجن رام پال سمیت کئی بھارتی فلمی ستارےایک ساتھ نظر آرہےہیں۔سابق ایس ایس پی چودھری اسلم اور رحمان ڈکیٹ کی زندگی کو کہانی میں فلم بند کیا گیا ہے۔<br />
رحمان ڈکیت ایک ایسا نام جو کئی برسوں تک کراچی سمیت پاکستان کے مختلف حصوں میں خوف، طاقت اور جرائم کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن رحمان ڈکیت کون تھے، کہاں سے آئے تھے، جرم کی دنیا میں کیسے داخل ہوئے اور ایک سٹریٹ کرمینل سے انڈر ور لڈ ڈان کیسے بنے؟یہ سب سوال ہیں جو ایک بار پھر زندہ ہو گئے ہیں۔<br />
رحمان کا اصل نام عبدالرحمن تھا۔یہ شخص 1976 میں لیاری کے کلاکوٹ میں داد محمد عرف دادل کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق ایران کے بلوچستان سے تھا۔ دادل اور ان کے بھائی لیاری میں آباد تھے اور بعض فلاحی کام بھی کرتے رہے مگر سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ منشیات کے دھندے میں ملوث تھے۔<br />
رحمان ڈکیٹ نے شروع شروع میں سکول کا رخ کیا مگرخاندانی ماحول، علاقائی جرائم پیشہ سر گرمیوں نے انہیں چھوٹی عمر میں ہی سکول چھوڑ کر آوارہ گردی کی طرف مائل کیا اور یوں13 برس کی عمر میں انہوں نے جرائم کا آغاز کیا۔ شروعات میں رحمان چھوٹے لیول کے غیرقانونی کاموں میں شامل تھے اسلحہ برداری، لوکل لیول کے تنازعات میں مداخلت اور گینگ کے کم سطحی کردار مگر آہستہ آہستہ وہ ایسے گروپ کا حصہ بنے جو شہر میں اورگنائزٹ طریقے سے جرائم کرتا تھا 90 کے دہائی کے آخر اور2000 کے دہائی کے آغاز میں کراچی کے حالات تبدیل ہو رہے تھے رحمان نے اسی دور میں شہرت حاصل کی پہلے وہ چند گلیوں تک محدود تھے پھر ان کے گروہ نےکراچی کے اور علاقوں کے اندر ایکٹیو نیٹ ورک قائم کر لیا۔ ڈکیتی، بھتا خوری، رحمان کے انفلوینس میں اضافہ ہوا تو ان کے روابط بھی وسیع ہونے لگے کئی سیاسی جماعتوں کے لوکل ورکرز ایسے گروہ کی مدد لیتے تھے جو علاقے میں کنٹرول رکھتے تھے اسی بیک گراؤنڈ میں رحمان کا کردار سیاسی طور پر اہم ہونے لگا 2000 کے آس پاس رحمان ڈکیٹ کا دبدبہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ صوبائی اور نیشنل اسمبلی کے ممبر ز اور ٹاؤن ناظم بھی وہی طے کرتے تھے اور 2008 میں رحمان نے کراچی میں پیپلز امن کمیٹی قائم کی اور اردو بولنے والے علاقوں میں بلوچ اقلیت کے ساتھ ایم کیو ایم کے سٹائل میں یونٹس، سیکٹرز،دفاتر اور علاقائی ذمہ دار مقرر کیے اور اب وہ کمیٹی کے سربراہ سردار عبدالرحمن بلوچ کہلائے جانے لگے اپنے غیر قانونی کاموں اور بزنسز سے انہوں نے بہت دولت بھی کمائی۔<br />
مقامی لوگ کہتےہیں کہ رحمان ڈکیٹ نے 3خواتین سے شادی کی اور ان کے ایک درجن کے قریب بچے بھی ہیں ۔ 2006 تک وہ کراچی، بلوچستان اور ایران میں کئی دکانیں، گھر، پلاٹ اور ا150ایکڑ زمین کے مالک بن چکے تھے جبکہ کچھ سورسز کے مطابق بعد میں ان کی جائیداد اور بھی زیادہ ہو گئی لیکن بڑھتی شہرت کے ساتھ ان پر ریاستی اداروں کی نظر بھی مزید سخت ہونے لگی رحمان ڈکیٹ کئی بار گرفتار ہوئے کچھ گرفتاریوں میں ان پر سنگین نوعیت کی الزامات لگے مگریا تو ثبوت مکمل نہیں ہوئے یا وہ جیل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔<br />
یہ وہی شخص ہیں جس پر اپنی سگی ماں کے قتل سمیت ایک سو کے قریب جرائم میں ملوث ہونےکے الزامات تھے۔جس میں قتل،اقدام قتل،بھتہ خوری،ڈکیتی،لوٹ مار سمیت کئی وارداتیں شامل تھیں۔<br />
جولائی 2009 میں پولیس کی ایک کارروائی کے دوران رحمان ڈکیٹ مارے گئے پولیس کے مطابق یہ ایک مقابلہ تھا جس میں انہوں نے گرفتاری میں مزاحمت کی ۔<br />
کچھ مقامی حلقے اس بیانیے پر سوال اٹھاتے رہے مگر سرکاری ریکارڈ میں اسے انکاؤنٹر کے طور پر درج کیا گیا اس کارروائی میں انکاؤنٹر سپیشلسٹ کہلائے جانے والے سندھ پولیس کے آفیسر چودھری اسلم بھی شامل تھے۔اسی دور میں چودھری اسلم نے ہی رحمان ڈکیٹ کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی تصدیق بھی کی تھی۔<br />
رحمان ڈکیٹ کچھ لوگوں کے لئے مسیحا اور قانون کی نظر میں بڑے مجرم تھے۔مقامی لوگ کہتےہیں کہ لیاری میں کئی گھروں کی کفالت بھی رحمان ڈکیٹ کرتےتھے اور وہاں سے منشیات کے خاتمے میں بھی اہم کردارتھے۔لیکن سو کے قریب وارداتوں میں ملوث ہونے کے بعد انکی زندگی کا خاتمہ ایک پولیس مقابلے میں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/bollywood-film-dharvendra-ne-lyari-a/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>معین خان کے انتقال کی جعلی: رکن اسمبلی نے ایوان میں معذرت کر لی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/fake-member-of-assembly-of-moin-khans-death/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/fake-member-of-assembly-of-moin-khans-death/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Dec 2025 06:36:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=100489</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید معین خان کے انتقال کی جعلی خبر، ایم کیو ایم رہنما نے اسمبلی میں مغفرت کی دعا کی درخواست کر ڈالی۔ سوشل میڈیا پر سابق کرکٹر معین خان کے انتقال کی جعلی خبروں پر ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے مغفرت کی دعا کی درخواست کرڈالی۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما صابر قائمخانی نے معین خان کے انتقال کی جعلی خبر پر مغفرت کی دعا کی د رخواست کی۔ ایوان میں موجود ارکان نے فوری طور پر انہیں روکتے ہوئے بتایا کہ کرکٹر معین خان کے انتقال کی خبر غلط ہے۔ اسپیکر [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
معین خان کے انتقال کی جعلی خبر، ایم کیو ایم رہنما نے اسمبلی میں مغفرت کی دعا کی درخواست کر ڈالی۔<br />
سوشل میڈیا پر سابق کرکٹر معین خان کے انتقال کی جعلی خبروں پر ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے مغفرت کی دعا کی درخواست کرڈالی۔<br />
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما صابر قائمخانی نے معین خان کے انتقال کی جعلی خبر پر مغفرت کی دعا کی د رخواست کی۔<br />
ایوان میں موجود ارکان نے فوری طور پر انہیں روکتے ہوئے بتایا کہ کرکٹر معین خان کے انتقال کی خبر غلط ہے۔<br />
اسپیکر نے بھی صابر قائم خانی کو غلط خبر کے بارے میں آگاہ کیا جس پر رکن اسمبلی نے اٹھ کر معذرت کی۔<br />
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں 54 سالہ سابق کپتان معین خان کے انتقال کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس پر معین خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں۔<br />
درحقیقت حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے 65 سال کے سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کا انتقال ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا پر معین راجپوت کے بجائے ٹیسٹ کرکٹر معین خان کی تصویر شیئر کئی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/fake-member-of-assembly-of-moin-khans-death/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں 25سال بعدبسنت میلےکی دوبارہ واپسی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/basant-mela-to-be-held-again-in-punjab-after-25-years/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/basant-mela-to-be-held-again-in-punjab-after-25-years/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Dec 2025 07:29:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[بلاگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=100063</guid>

					<description><![CDATA[بلاگ:عتیق مجید آپ نے کبھی پتنگیں اڑتی دیکھی ہیں۔بوکاٹا کی آوازیں اور بسنت کے گیت تو سنے ہی ہوں گے۔پاکستان کے تقریبا چھ کروڑ بچوں اور نوجوانوں نے تو ہر گز وہ ماحول نہیں دیکھا ہو گا جو ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا۔ وہ آسمان کا پتنگوں سے بھر جانا،ہر چھت سے بوکاٹا کی آوازیں آنا،ساری رات اور دن چھتوں پر ہی ڈیرے جمانا۔ تو لیجئے جناب،پنجاب حکومت نے پچیس سال بعد بسنت منانے کا اعلان کر دیا۔ فروری دوہزار چھبیس میں منائی جانے والی بسنت کی آزادی تھوڑی محدود ہوگی۔ اٹھارہ سال سے کم عمرخواتین و حضرات [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>بلاگ:عتیق مجید</strong><br />
آپ نے کبھی پتنگیں اڑتی دیکھی ہیں۔بوکاٹا کی آوازیں اور بسنت کے گیت تو سنے ہی ہوں گے۔پاکستان کے تقریبا چھ کروڑ بچوں اور نوجوانوں نے تو ہر گز وہ ماحول نہیں دیکھا ہو گا جو ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا۔<br />
وہ آسمان کا پتنگوں سے بھر جانا،ہر چھت سے بوکاٹا کی آوازیں آنا،ساری رات اور دن چھتوں پر ہی ڈیرے جمانا۔<br />
تو لیجئے جناب،پنجاب حکومت نے پچیس سال بعد بسنت منانے کا اعلان کر دیا۔ فروری دوہزار چھبیس میں منائی جانے والی بسنت کی آزادی تھوڑی محدود ہوگی۔ اٹھارہ سال سے کم عمرخواتین و حضرات پتنگیں نہیں اڑا سکیں گے۔پتنگ بازی و پتنگ سازی کیلئے پنجاب حکومت نے پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کر دیا۔ پتنگ بازی ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے مشروط ہو گی، پتنگ سازی اور پتنگ فروخت کیلئے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔<br />
آرڈیننس کے تحت بسنت کے لئے شرائط مقرر کی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں ڈپٹی کمشنر کو اختیار ہو گا کہ وہ مخصوص مقامات، مخصوص دنوں اور مقررہ وقت پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں۔<br />
انتظامیہ غیر محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت خطرناک مواد کے استعمال سے مشروط کریں گے، پولیس کو سرچ اور گرفتاری کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ پولیس کو ممنوعہ سامان قبضے میں لینے کا اختیار بھی ہو گا، حکومت ضرورت پڑنے پر کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہی اختیارات دے سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/basant-mela-to-be-held-again-in-punjab-after-25-years/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
