<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سائنس/فیچر &#8211; Pakistan Today</title>
	<atom:link href="https://pakistantoday.tv/category/science-and-technology/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<description>Sabse Pehlay Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 15:33:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://pakistantoday.tv/wp-content/uploads/2024/01/cropped-Pakistan-Today-News-HD-Logo-Urdu-32x32.png</url>
	<title>سائنس/فیچر &#8211; Pakistan Today</title>
	<link>https://pakistantoday.tv</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کیا اسمارٹ فونز نئی نسل کے لیے برتھ کنٹرول بن گئے؟</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/are-smartphones-a-birth-control-for-the-new-generation/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/are-smartphones-a-birth-control-for-the-new-generation/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Jun 2026 15:33:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111925</guid>

					<description><![CDATA[امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامکس ریسرچ کی تحقیق کےمطابق سمارٹ فونزکےباعث شرح پیدائش میں کمی ہوئی ہے۔ امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامکس ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2007 سے اب تک امریکا میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔ خیال رہے کہ 2007 وہ برس تھا جب پہلا آئی فون متعارف کرایا گیا اور تحقیق میں آئی فون یا اسمارٹ فونز کو برتھ کنٹرول (شرح پیدائش میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات) قرار دیا گیا۔ ویسے تو ماہرین امریکا میں شرح پیدائش میں کمی کو کافی عرصے تک 2008 [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامکس ریسرچ کی تحقیق کےمطابق سمارٹ فونزکےباعث شرح پیدائش میں کمی ہوئی ہے۔</strong><br />
امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامکس ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2007 سے اب تک امریکا میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔<br />
خیال رہے کہ 2007 وہ برس تھا جب پہلا آئی فون متعارف کرایا گیا اور تحقیق میں آئی فون یا اسمارٹ فونز کو برتھ کنٹرول (شرح پیدائش میں کمی کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات) قرار دیا گیا۔<br />
ویسے تو ماہرین امریکا میں شرح پیدائش میں کمی کو کافی عرصے تک 2008 کے عالمی اقتصادی بحران سے منسلک کرتے رہے جس کے دورن کروڑوں افراد کو مشکلات کا سامنا ہوا مگر جب معیشت ایک بار پھر بحال ہوئی تو بھی پیدائش کی تعداد معمول پر واپس نہیں آئی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/are-smartphones-a-birth-control-for-the-new-generation/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسٹاگرام پروفائلز پر پوسٹس کی نئی ترتیب کا فیچر متعارف</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/new-style-of-posts-on-instagram-profiles/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/new-style-of-posts-on-instagram-profiles/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Jun 2026 10:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111883</guid>

					<description><![CDATA[انسٹا گرام نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کی طویل عرصے سے مانگ کی جا رہی تھی۔ انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے تقریباً ایک سال قبل اس فیچر کا اعلان کیا تھا، جو اب باضابطہ طور پر صارفین کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنی پروفائل کو اپنی پسند کے مطابق ترتیب دے سکیں گے اور مواد کو منظم کرنے میں زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔ یہ سہولت دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور اس کے ذریعے پروفائل پر کنٹرول پہلے سے زیادہ بہتر [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right" data-start="33" data-end="128"><strong>انسٹا گرام نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کی طویل عرصے سے مانگ کی جا رہی تھی۔</strong></p>
<p style="text-align: right" data-start="130" data-end="266">انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے تقریباً ایک سال قبل اس فیچر کا اعلان کیا تھا، جو اب باضابطہ طور پر صارفین کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="268" data-end="396">اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنی پروفائل کو اپنی پسند کے مطابق ترتیب دے سکیں گے اور مواد کو منظم کرنے میں زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="398" data-end="506">یہ سہولت دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور اس کے ذریعے پروفائل پر کنٹرول پہلے سے زیادہ بہتر ہو گیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="508" data-end="688">پروفائل سیٹنگز میں ایک نیا “ری آرڈر” آپشن شامل کیا گیا ہے، جس کی مدد سے صارفین اپنی پوسٹس کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی جگہ منتقل کر سکتے ہیں، چاہے وہ کئی سال پرانی ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="690" data-end="855">اس تبدیلی کے بعد صارفین اپنی پروفائل گرڈ میں اہم پوسٹس کو اوپر نمایاں طور پر رکھ سکیں گے، جو پہلے ممکن نہیں تھا کیونکہ پوسٹس صرف زمانی ترتیب کے مطابق ظاہر ہوتی تھیں۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="857" data-end="1028">اس سے قبل انسٹا گرام پروفائلز میں تازہ ترین پوسٹ سب سے اوپر دکھائی دیتی تھی، جبکہ اب صارفین کو یہ آزادی حاصل ہو گئی ہے کہ وہ پرانی پوسٹس کو بھی اپنی مرضی سے ترتیب دے سکیں۔</p>
<p style="text-align: right" data-start="1030" data-end="1186">کمپنی کے مطابق یہ فیچر صارفین کی بڑی طلب پر متعارف کرایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی پروفائل کو بہتر انداز میں ڈیزائن اور نمایاں مواد کو آسانی سے ہائی لائٹ کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/new-style-of-posts-on-instagram-profiles/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چیٹ جی پی ٹی کو سپر ایپ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/how-to-turn-chatgpt-into-a-super-app/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/how-to-turn-chatgpt-into-a-super-app/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Jun 2026 16:59:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111863</guid>

					<description><![CDATA[معروف کمپنی اوپن اے آئی اپنے مقبول چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی چیٹ جی پی ٹی کو ایک &#8220;سپر ایپ&#8221; میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے، جس میں جدید کوڈنگ ٹولز اور اے آئی ایجنٹس شامل کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے بلکہ کمپنی کی آمدن میں اضافہ بھی ہے، خاص طور پر ممکنہ حصص کی فہرست (شیئر لسٹنگ) سے قبل۔ اوپن اے آئی کے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right"><strong>معروف کمپنی اوپن اے آئی اپنے مقبول چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔</strong></p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی چیٹ جی پی ٹی کو ایک &#8220;سپر ایپ&#8221; میں تبدیل کرنے پر کام کر رہی ہے، جس میں جدید کوڈنگ ٹولز اور اے آئی ایجنٹس شامل کیے جائیں گے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے بلکہ کمپنی کی آمدن میں اضافہ بھی ہے، خاص طور پر ممکنہ حصص کی فہرست (شیئر لسٹنگ) سے قبل۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">اوپن اے آئی کے موجودہ اور سابقہ ملازمین کے مطابق یہ تبدیلیاں کمپنی کی تنظیمِ نو کا حصہ ہیں۔</p>
<p style="text-align: right">کمپنی اپنی توجہ زیادہ تر منافع بخش کارپوریٹ کلائنٹس کی طرف مرکوز کر رہی ہے تاکہ اے آئی مارکیٹ میں اپنی حریف کمپنی انتھروپک کے ساتھ بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/how-to-turn-chatgpt-into-a-super-app/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوگل کروم میں اے آئی موڈ کا نیافیچرمتعارف کرانےکی تیاری</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/google-chrome-ai-mode-new-feature-used/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/google-chrome-ai-mode-new-feature-used/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Jun 2026 16:44:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111859</guid>

					<description><![CDATA[گوگل اپنی ویب براؤزر کروم میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کر رہا ہے جس کے تحت روایتی سرچ کے بجائے صارفین کو براہِ راست اے آئی موڈ میں منتقل کیا جائے گا۔ ونڈوز رپورٹ کے مطابق یہ تجرباتی فیچر کروم کینیری کے تازہ ترین ڈیسک ٹاپ ورژن میں دیکھا گیا ہے۔ اس فیچر کو فعال کرنے کے بعد ایڈریس بار میں کوئی بھی تلاش کرنے پر صارف روایتی سرچ نتائج کے بجائے براہِ راست اے آئی موڈ میں چلا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تبدیلی صارفین کے لیے غیر معمولی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right"><strong>گوگل اپنی ویب براؤزر کروم میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کر رہا ہے جس کے تحت روایتی سرچ کے بجائے صارفین کو براہِ راست اے آئی موڈ میں منتقل کیا جائے گا۔</strong></p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">ونڈوز رپورٹ کے مطابق یہ تجرباتی فیچر کروم کینیری کے تازہ ترین ڈیسک ٹاپ ورژن میں دیکھا گیا ہے۔ اس فیچر کو فعال کرنے کے بعد ایڈریس بار میں کوئی بھی تلاش کرنے پر صارف روایتی سرچ نتائج کے بجائے براہِ راست اے آئی موڈ میں چلا جاتا ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تبدیلی صارفین کے لیے غیر معمولی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ برسوں سے گوگل سرچ کے روایتی انداز کے عادی ہیں۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">فی الحال یہ فیچر بطور ڈیفالٹ فعال نہیں اور اسے صرف chrome://flags کے ذریعے دستی طور پر آن کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ سہولت صرف کینیری چینل تک محدود ہے۔</p>
<p style="text-align: right">گوگل کے مطابق یہ محض ایک تجرباتی فیچر ہے اور اس وقت اسے عام صارفین کے لیے متعارف کرانے کا کوئی حتمی منصوبہ موجود نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/google-chrome-ai-mode-new-feature-used/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خشک سالی کا خاتمہ، سائنسدانوں نے ہوا  سے پانی بنانے والی انقلابی مشین تیار کر لی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/ending-the-drought-scientists-say/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/ending-the-drought-scientists-say/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Jun 2026 16:03:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111856</guid>

					<description><![CDATA[امریکا کے سائنسدانوں نے پانی کے بحران کے حل کے لیے ایک نئی اور انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے ہوا سے براہِ راست پینے کا صاف پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان عمر یاغی نے ایسی جدید مشین تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو استعمال کرتے ہوئے پانی پیدا کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مشین روزانہ تقریباً 1000 لیٹر تک صاف پانی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، حتیٰ کہ کم نمی والے علاقوں میں بھی یہ مؤثر [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right"><strong>امریکا کے سائنسدانوں نے پانی کے بحران کے حل کے لیے ایک نئی اور انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے ہوا سے براہِ راست پینے کا صاف پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان عمر یاغی نے ایسی جدید مشین تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو استعمال کرتے ہوئے پانی پیدا کرتی ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">اطلاعات کے مطابق یہ مشین روزانہ تقریباً 1000 لیٹر تک صاف پانی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، حتیٰ کہ کم نمی والے علاقوں میں بھی یہ مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں خاص مواد &#8220;میٹل آرگینک فریم ورکس&#8221; استعمال کیا گیا ہے، جو ہوا سے نمی کو جذب کرکے محفوظ کر لیتا ہے۔ بعد ازاں سورج کی حرارت یا کم توانائی کے ذریعے اس نمی کو پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">یہ جدید یونٹس کنٹینر کے سائز کے ہیں اور بجلی کے بڑے نظام کے بغیر بھی کام کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں دور دراز اور خشک علاقوں میں استعمال کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p style="text-align: right">سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں پانی کی قلت کے مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور ہر گھر میں ایسے سسٹمز نصب کیے جا سکتے ہیں جیسے آج کل سولر پینلز استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/ending-the-drought-scientists-say/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی اے کی غیرقانونی سم استعمال پر ایڈوائزری جاری</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/ptas-ad-on-illegal-sim-usage/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/ptas-ad-on-illegal-sim-usage/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 06 Jun 2026 15:00:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111806</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سمز کے غیرقانونی استعمال کے معاملے پر ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قانوناً جرم ہے اور اس پر سزا ہو سکتی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال بھی غیرقانونی ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سم کے ذریعے ہونے والی غیرقانونی سرگرمی کی ذمہ داری اس صارف پر عائد ہوگی جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔ ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right"><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سمز کے غیرقانونی استعمال کے معاملے پر ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قانوناً جرم ہے اور اس پر سزا ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">پی ٹی اے کے مطابق کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال بھی غیرقانونی ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سم کے ذریعے ہونے والی غیرقانونی سرگرمی کی ذمہ داری اس صارف پر عائد ہوگی جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">ایڈوائزری میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ تمام سمز سے آگاہ رہیں اور کسی بھی نامعلوم یا غیر ضروری سم کو فوری طور پر بلاک کروائیں۔</p>
<p class="isSelectedEnd" style="text-align: right">مزید کہا گیا ہے کہ نئی سم صرف مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے حاصل کی جائے تاکہ غیرقانونی استعمال اور دھوکہ دہی کے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p style="text-align: right">پی ٹی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سمز کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ سائبر جرائم اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/ptas-ad-on-illegal-sim-usage/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پروگرامنگ خرابی؟ روبوٹ نے مارشل آرٹس شو میں بچے کو لات مار دی</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/programming-error-robot-learns-martial-arts/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/programming-error-robot-learns-martial-arts/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Jun 2026 17:44:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111749</guid>

					<description><![CDATA[چین میں ایک روبوٹ کی جانب سے کارکردگی کے دوران ایک چھوٹے بچے کو لات مارنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سنکیانگ کے ایک تفریحی مقام پر پیش آیا، جہاں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو مارشل آرٹس کے مظاہرے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ کارکردگی کے دوران روبوٹ نے مبینہ طور پر توازن یا پروگرامنگ میں خرابی کے باعث قریب کھڑے ایک بچے کے پیٹ پر لات دے ماری۔ رپورٹس کے مطابق خوش قسمتی سے بچے کو کوئی سنگین یا دیرپا چوٹ نہیں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="text-base my-auto mx-auto [--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-xs,calc(var(--spacing)*4))] @w-sm/main:[--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-sm,calc(var(--spacing)*6))] @w-lg/main:[--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-lg,calc(var(--spacing)*16))] px-(--thread-content-margin)">
<div class="[--thread-content-max-width:40rem] @w-lg/main:[--thread-content-max-width:48rem] mx-auto max-w-(--thread-content-max-width) flex-1 group/turn-messages focus-visible:outline-hidden relative flex w-full min-w-0 flex-col agent-turn" data-conversation-screenshot-content="">
<div class="flex max-w-full flex-col gap-4 grow">
<div class="min-h-8 text-message relative flex w-full flex-col items-end gap-2 text-start break-words whitespace-normal outline-none keyboard-focused:focus-ring [.text-message+&amp;]:mt-1" dir="auto" data-message-author-role="assistant" data-message-id="02eae328-e2f9-4a6c-aeac-b484741fb493" data-message-model-slug="gpt-5-3-mini">
<div class="flex w-full flex-col gap-1 empty:hidden">
<div class="markdown prose dark:prose-invert wrap-break-word w-full light markdown-new-styling">
<p data-start="0" data-end="137"><strong>چین میں ایک روبوٹ کی جانب سے کارکردگی کے دوران ایک چھوٹے بچے کو لات مارنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔</strong></p>
<p data-start="139" data-end="288">میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سنکیانگ کے ایک تفریحی مقام پر پیش آیا، جہاں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو مارشل آرٹس کے مظاہرے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔</p>
<p data-start="290" data-end="407">کارکردگی کے دوران روبوٹ نے مبینہ طور پر توازن یا پروگرامنگ میں خرابی کے باعث قریب کھڑے ایک بچے کے پیٹ پر لات دے ماری۔</p>
<p data-start="409" data-end="548" data-is-last-node="" data-is-only-node="">رپورٹس کے مطابق خوش قسمتی سے بچے کو کوئی سنگین یا دیرپا چوٹ نہیں آئی، تاہم واقعے نے روبوٹک ٹیکنالوجی کی حفاظتی حدود پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔</p>
</div>
</div>
</div>
</div>
<div class="z-0 flex min-h-[46px] justify-start"></div>
</div>
</div>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/programming-error-robot-learns-martial-arts/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوگل میپس میں آئیکونک فیچرمتعارف</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/introducing-the-iconic-feature-in-google-maps/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/introducing-the-iconic-feature-in-google-maps/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:14:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111611</guid>

					<description><![CDATA[آپ کا علاقہ 10سال پہلے کیسا تھا ؟گوگل میپ بتائے گا۔ اگر آپ اسمارٹ فون میں گوگل میپس استعمال کرتے ہیں تو اس کا ایک نیا فیچر ضرور پسند آئے گا۔گوگل میپس اسٹریٹ ویو کی 15 ویں سالگرہ کے موقع پر اس سروس کا ایک آئیکونک فیچر اب موبائل ڈیوائسز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کی اسٹریٹ ویو تصاویر کو گوگل میپس کی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں یہ فیچر کافی عرصے سے دستیاب تھا [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>آپ کا علاقہ 10سال پہلے کیسا تھا ؟گوگل میپ بتائے گا۔ اگر آپ اسمارٹ فون میں گوگل میپس استعمال کرتے ہیں تو اس کا ایک نیا فیچر ضرور پسند آئے گا۔گوگل میپس اسٹریٹ ویو کی 15 ویں سالگرہ کے موقع پر اس سروس کا ایک آئیکونک فیچر اب موبائل ڈیوائسز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔</strong><br />
کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کی اسٹریٹ ویو تصاویر کو گوگل میپس کی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں یہ فیچر کافی عرصے سے دستیاب تھا مگر اب بیشتر افراد اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں۔<br />
یہی وجہ ہے کہ گوگل کی جانب سے اس فیچر کو اب میپس کی موبائل ایپس کا حصہ بنایا گیا ہے۔پرانی اسٹریٹ ویو فوٹوز کو دیکھنے کے لیے آپ کو اسٹریٹ ویو امیج پر کلک کرکے سی مور ڈیٹس آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔ایسا کرنے کے بعد آپ فون کے اندر دیکھ سکیں گے کہ آپ کا علاقہ یا دیگر مقامات 10 سال قبل کیسے نظر آتے تھے، مگر اس کا انحصار تصاویر کی دستیابی پر ہوگا۔<br />
یہ فیچر کافی پرلطف ہے اور اردگرد کے مقامات کو پرانی شکل میں دیکھنا کافی دلچسپ محسوس ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/introducing-the-iconic-feature-in-google-maps/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بچوں کو رٹا سسٹم سے نکالنے والا نیا اے آئی ٹیوٹر متعارف</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/the-new-a-a-that-removes-children-from-the-system/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/the-new-a-a-that-removes-children-from-the-system/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Jun 2026 10:13:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111559</guid>

					<description><![CDATA[ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نیا اے آئی ٹیوٹر سامنے آیا ہے جو طلبہ کو رٹا لگانے کے بجائے سمجھ کر سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ تعلیمی نظام میں اکثر طلبہ کو معلومات یاد کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں، تاہم اب جدید اے آئی ٹولز اس طرزِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ نیا اے آئی ٹیوٹر سوالات کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ خود سوچ کر مسائل حل کریں اور سیکھنے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right"><strong>ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نیا اے آئی ٹیوٹر سامنے آیا ہے جو طلبہ کو رٹا لگانے کے بجائے سمجھ کر سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔</strong></p>
<p style="text-align: right">ماہرین کے مطابق موجودہ تعلیمی نظام میں اکثر طلبہ کو معلومات یاد کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں، تاہم اب جدید اے آئی ٹولز اس طرزِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right">رپورٹس کے مطابق یہ نیا اے آئی ٹیوٹر سوالات کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ خود سوچ کر مسائل حل کریں اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنا سکیں۔</p>
<p style="text-align: right">غیر ملکی میڈیا کے مطابق برلینٹ کی بانی سو کھم نے ایک ایسا گرافیکل اے آئی ٹیوٹر تیار کیا ہے جو بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right">انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اے آئی کا مقصد طلبہ کو کمزور بنانا نہیں بلکہ انہیں زیادہ ذہین اور خود مختار بنانا ہونا چاہیے۔</p>
<p style="text-align: right">اس اے آئی ٹیوٹر کی خاص بات یہ ہے کہ اسے سقراطی تدریسی طریقہ کار (Socratic Method) کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں طلبہ کو براہ راست جواب دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے سیکھنے کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/the-new-a-a-that-removes-children-from-the-system/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سائنسدانوں کا بینائی بحالی کیلئے انقلابی ڈیوائس پر کام جاری</title>
		<link>https://pakistantoday.tv/scientists-migration-to-restore-vision/</link>
					<comments>https://pakistantoday.tv/scientists-migration-to-restore-vision/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Omer Zaheer]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 02 Jun 2026 17:10:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس/فیچر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://pakistantoday.tv/?p=111555</guid>

					<description><![CDATA[سائنسدان ایک ایسے جدید وائرلیس برین امپلانٹ پر پیش رفت کر رہے ہیں جو نابینا افراد میں جزوی بینائی بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کیمرے کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو براہ راست دماغ تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام خراب آنکھوں یا متاثرہ آپٹک نروز کو بائی پاس کرتے ہوئے دماغ کے اُن حصوں کو متحرک کرتا ہے جو بصری معلومات کو پراسیس کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس ابھی تجرباتی مراحل میں ہے، تاہم ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="text-base my-auto mx-auto [--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-xs,calc(var(--spacing)*4))] @w-sm/main:[--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-sm,calc(var(--spacing)*6))] @w-lg/main:[--thread-content-margin:var(--thread-content-margin-lg,calc(var(--spacing)*16))] px-(--thread-content-margin)">
<div class="[--thread-content-max-width:40rem] @w-lg/main:[--thread-content-max-width:48rem] mx-auto max-w-(--thread-content-max-width) flex-1 group/turn-messages focus-visible:outline-hidden relative flex w-full min-w-0 flex-col agent-turn">
<div class="flex max-w-full flex-col gap-4 grow">
<div class="min-h-8 text-message relative flex w-full flex-col items-end gap-2 text-start break-words whitespace-normal outline-none keyboard-focused:focus-ring [.text-message+&amp;]:mt-1" dir="auto" data-message-author-role="assistant" data-message-id="5fac57aa-77ee-4ada-b78f-c078be099b84" data-message-model-slug="gpt-5-3-mini">
<div class="flex w-full flex-col gap-1 empty:hidden">
<div class="markdown prose dark:prose-invert wrap-break-word w-full light markdown-new-styling">
<p data-start="28" data-end="258"><strong>سائنسدان ایک ایسے جدید وائرلیس برین امپلانٹ پر پیش رفت کر رہے ہیں جو نابینا افراد میں جزوی بینائی بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کیمرے کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو براہ راست دماغ تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p data-start="260" data-end="407">ماہرین کے مطابق یہ نظام خراب آنکھوں یا متاثرہ آپٹک نروز کو بائی پاس کرتے ہوئے دماغ کے اُن حصوں کو متحرک کرتا ہے جو بصری معلومات کو پراسیس کرتے ہیں۔</p>
<p data-start="409" data-end="599">محققین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس ابھی تجرباتی مراحل میں ہے، تاہم ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کے ذریعے بنیادی بصارت جیسے اشکال، حرکات اور اشیاء کو پہچاننے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p data-start="601" data-end="794" data-is-last-node="" data-is-only-node="">ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نیورو ٹیکنالوجی اور برین کمپیوٹر انٹرفیسز کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو شدید بینائی کی کمی کے شکار افراد کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
</div>
</div>
</div>
</div>
<div class="z-0 flex min-h-[46px] justify-start"></div>
</div>
</div>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://pakistantoday.tv/scientists-migration-to-restore-vision/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
