سال میں کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟

0
9

سال میں کچھ مہینے 30 اور کچھ 31 دنوں کے کیوں ہوتے ہیں؟آخر سال کے 12 مہینوں کے دن برابر کیوں نہیں ہوتے؟ جدید کیلنڈر کی تاریخ کے دلچسپ حقائق سامنےآ گئے۔
اگر کیلنڈر پر نظر ڈالیں تو لیپ ائیر کو نکال کرفروری کے مہینے میں صرف 28 دن ہوتے ہیں ، جبکہ ستمبر اور نومبر کے مہینے 30 دن میں مکمل ہوجاتے ہیں۔اس وقت جو کیلنڈر استعمال کیا جاتا ہے، اسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ یہ کیلنڈر بنیادی طور پر جولین کیلنڈر پر مبنی ہے، جس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں،جو دراصل قدیم رومی کیلنڈر ہے۔قدیم روم میں مہینے اسلامی سال کی طرح تھے ،یعنی ان کی تاریخیں چاند پر مبنی تھیں اور ایک سال 365.25 دنوں کا بنتا تھا۔
اس کے نتیجے میں قدیم ترین رومی کیلنڈرز میں 29 یا 30 دن کے مہینے ہوتے تھے اور زیادہ الجھا دینے والی بات یہ تھی کہ قدیم روم نے قدیم یونان کے 10 مہینوں کے کیلنڈر کے خیال کو اپنایا تھا،تو لگ بھگ 60 دن شمار ہی نہیں ہوتے تھے۔
ماہرین کے مطابق 738 قبل مسیح میں قدیم رومی باشندے 10 مہینے کے کیلنڈر کا استعمال کرتے تھے اور سال کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا۔بعد ازاں باقی بچ جانیوالے 60 یا اس سے زیادہ دنوں کیلئے جنوری اور فروری کا اضافہ 700 قبل مسیح کے کیلنڈر میں کیا گیا، اس زمانے میں جنوری سال کا پہلا اور فروری سال کا آخری مہینہ ہوتا تھا اور یہ سلسلہ 424 قبل مسیح تک برقرار رہا۔اس عہد میں فروری کو سال کا دوسرا مہینہ بنا دیا گیا، جولیس سیزر نے 46 قبل مسیح میں رومی کیلنڈر کو تبدیلی کرتے ہوئے فروری کے علاوہ ہر مہینے کو 30 یا 31 دنوں کا کردیا،جبکہ اس کیلنڈر میں اگست کا مہینہ 30 دن کا تھا۔
اس کیلنڈر میں فروری کا مہینہ 29 دنوں کا ہوتا تھا اور ہر 4 سال بعد اسے 30 دن کا کردیا جاتا ہے۔رومی شہنشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن ،لیا یعنی اسے 29 کی جگہ 28 دن کا کردیا اور اگست کو 31 دنوں والا مہینہ بنا دیا، لہٰذا جب سے سال کے 7 مہینے 31 دن، 4 مہینے 30 دن ،جبکہ ایک مہینہ 28 دن کا ہوتا ہے۔

Leave a reply