ایران میں پرتشددمظاہروں میں شدت

0
24

بلاگ:عتیق مجید

ایران کے کل اکتیس صوبےہیں جن میں سے تقریبا ہرصوبےمیں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
ایران میں عام اندازےکےمطابق بارہ سو پینتالیس شہرہیں لیکن احتجاج گیارہ سو سے زائدشہروں میں پھیل چکاہے۔
یہ احتجاج نہ صرف ایران کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکا ہے، جو ملک بھر میں عوامی ناراضگی کا پھیلاؤ ظاہر کرتا ہےبلکہ کئی دیہی علاقےبھی مظاہروں کی لپیٹ میں جل رہےہیں۔
لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے بڑےپیمانےپرمظاہرے کیوں ہو رہےہیں؟
ایران میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، بنیادی اشیاء خوردونوش، تیل، انڈے وغیرہ کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے جس سے لوگوں کی خریداری کی طاقت کم ہو گئی۔حکومت کی کچھ معاشی اصلاحات جیسے سبسڈی میں تبدیلی اور سامان کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام میں ناراضگی بڑھا دی ۔
احتجاج دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہوا اور تقریباً تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں پھیل چکا ہے۔اس دوران ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائدہو چکی ہے اور ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ایران کی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور طاقت کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔
ایرانی عوام کو اتنا غصہ کیوں ہے؟
2022-23 میں مہسا امینی کے قتل کے بعد بڑے ملک گیر احتجاج بھی شروع ہوئے جو اب تک ایران میں عوامی ناراضگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔عوام میں نظامِ حکمرانی چیلنج کرنے کی آواز بلند ہو رہی ہے، خاص طور پر سپریم لیڈر اور جمہوری جمہوریہ کے خلاف نعرے بھی سامنے آئے ہیں۔یہ وہی مہسا امینی ہے جسےمبینہ طور پرایران کی خواتین پولیس نے برقعہ نہ پہننےپرقتل کر دیاتھا۔
اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی بے روزگاری، نوجوانوں کی بے چینی، اور بڑی آبادی کے لیے بہتر مواقع نہ ہونے جیسے مسائل بھی مظاہروں کو تیز کر رہے ہیں۔
مسئلہ صرف مہنگائی ہے یا کچھ اور بھی؟
یہ مظاہرے صرف مہنگائی تک محدود نہیں ہیں۔بڑھا ہوا عوامی ناراضگی ایک بڑے سیاسی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عوام میں یہ احساس بڑھا ہے کہ حکومت گرتے معیارِ زندگی کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر رہی۔عوامی گھرتی ہوئی آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، چاہے وہ حجاب، آزادی اظہار، یا سیاسی نظام کا مستقبل ہو۔مظاہرے صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی مطالبات بھی سامنے لا رہے ہیں، جیسے حکومتی اصلاحات یا نظام میں تبدیلی یا بالکل ایسی تبدیلی جیسی شاہ ایران کا تختہ الٹتےہوئے دیکھی گئی۔
ایران کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
کچھ تجزیہ کار کا خیال ہے کہ حکومت جھنجھلاہٹ کم کرنے کے لیے حد تک معاشی اصلاحات اور سیاسی کھلے پن فراہم کر سکتی ہے۔معمولی اصلاحات جیسے قیمتوں پر کنٹرول، شفافیت اور احتساب کچھ وقت کے لیے عوامی ناراضگی کو کم کر سکتی ہے، لیکن سٹرکچرل مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اگر حکومت سخت گیر ردعمل اختیار کرتی ہے یا عوامی مطالبات بڑھتے ہیں تو یہ مزید بڑے سیاسی بحران یا کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔بعض لوگ ایران میں نظامِ حکمرانی میں تبدیل-مزاجی یا بڑے سیاسی مطالبات کے ساتھ مظاہروں کی شکل دیکھتے ہیں، جس کا نتیجہ مختلف سمتوں میں نکل سکتا ہے۔
امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک ایران کے اندرونی مسائل پر اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔جیسے جیسے بین الاقوامی تناؤ بڑھتا ہے جیسا کہ ا مریکہ مسلسل دباؤ بڑھارہاہے توایران کے مسائل عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply