پچیس سال بعد بسنت کے انداز ہی نرالے

0
6

بلاگ:عتیق مجید
لاہور میں رنگ، رونق، جوش، خوشی، قہقہوں اور جشن کی کیفیت چھا گئی ہے، گلیاں مہک اٹھیں، چھتیں آباد ہو گئیں اور بسنت نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلوں، خوش باش چہروں اور کھلکھلاتی فضاؤں کا شہر بنا دیا۔
بسنت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروبار بھی چمک اٹھے ، پتنگ فروشوں، ڈور سازوں اور پتنگ سازوں کی چاندی ہو گئی، آرڈر اتنے بڑھ گئے کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا، دن رات کاریگر لگالئے ، کئی پتنگ فروشوں نے بکنگ بند کر دی جبکہ پتنگوں کی آن لائن فروخت بھی زوروں پر ہے۔ محفوظ بسنت کے لیے حکومت متحرک ہو گئی۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے 6 سے 8 فروری کو ہونے والے پتنگ بازی کے فیسٹیول کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔ بسنت کی گہماگہمی کے باعث لاہور کے بڑے ہوٹلوں کی چھتیں پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں، اندرون لاہور کی قدیمی حویلیوں کی مانگ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہوریوں نے گھروں کو بسنت کے رنگوں، روشنیوں اور سجاوٹ سے نہلانے کے لیے خریداری شروع کر دی ہے، شاہ عالم مارکیٹ میں بسنت نائٹ لائٹس لینے والوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے جبکہ اعظم مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق پیلے، لال، سبز اور سفید کپڑوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔شہر بھر میں پیلے لباس، رنگین دوپٹے اور مسکراتے چہرے بسنت کی پہچان بن گئے ہیں، گلی محلوں میں موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور خوشیوں کا شور سنائی دے رہا ہے۔
بسنت نے لاہور کو پھر سے ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، رنجشیں بھلا کر لوگ خوشیوں میں شریک ہو رہے ہیں، یادیں بن رہی ہیں اور لاہور ایک بار پھر رنگوں، محبت اور زندگی سے بھرپور نظر آ رہا ہے۔ بسنت نے کیٹرنگ کے کاروبار کو بھی خوب چمکا دیا، آرڈرز کی بھرمار سے سامان کم پڑ گیا اور کئی کیٹررز نے بکنگ بند کر دی، بسنت پربھنگڑے ڈالنے کیلئے ڈھول پہلے ہی بک ہو چکے ہیں جبکہ ڈی جے والوں کی مانگ بھی بڑھ چکی ہے ۔
بسنت کے موقع پر لاہوری کھانوں کا روایتی تڑکا لگے گا۔تکہ بوٹی،ملائی بوٹی،بریانی بھی چلے گی ۔ ٹھنڈے موسم میں مچھلی بھی دسترخوان کی زینت بنے گی ، لاہوریوں نے رشتہ داروں اور دوستوں کو بسنت کی دعوتیں بھی دے ڈالی ۔اور بسنت کے شوقین شہریوں نے باقاعدہ رنگین دعوت نامے بھی بھجوانا شروع کر دیے ہیں۔

Leave a reply