ٹیکنالوجی انقلاب برپا: گوگل ڈیپ مائنڈ نے نیا اے آئی ماڈل بنا لیا

ڈی این اے تحقیق میں انقلاب برپا، گوگل ڈیپ مائنڈ نے نیا اے آئی ماڈل بنا لیا۔
گوگل کی ڈیپ مائنڈ نے مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل تیار کر لیا، جو انسانی ڈی این اے یعنی جسم کے مکمل نسخے کو سمجھنے اور بیماریوں کی تحقیق میں انقلاب لا سکتا ہے۔اس ماڈل کا نام الفا جینوم رکھا گیا ہے اور یہ محققین کے مطابق جینیاتی بیماریوں، کینسر اور دیگر پیچیدہ مسائل کی تشخیص اور علاج کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
الفا جینوم انسانی جینوم کے ’’ڈارک جینوم‘ ‘کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جو جینوم کا وہ حصہ ہے جسے اب تک مکمل طور پر سمجھا نہیں گیا اور جو بیماریوں سے جڑی تبدیلیوں کا مرکز ہے۔ماڈل ایک وقت میں ایک لاکھ جینیاتی حرف کا تجزیہ کر سکتا ہے اور یہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ کسی حرف میں تبدیلی کا انسانی جسم پر کیا اثر پڑے گا۔
ڈیپ مائنڈ کی محقق نتاشا لیٹیشیوا نے کہا کہ الفا جینوم کو جینوم کے فنکشنل عناصر کو سمجھنے کیلئے ایک ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں ،جو زندگی کے کوڈ کو سمجھنے میں ہماری بنیادی تحقیق کو تیز کرے گا۔الفا جینوم کا استعمال اب تک تین ہزار سائنسدانوں نے غیر تجارتی بنیادوں پر کیا ہے۔ اس ماڈل کے ذریعے محققین تیزی سے جان سکتے ہیں کہ ڈارک جینوم میں پائی جانیوالی جینیاتی تبدیلیاں کس حیاتیاتی عمل کو متاثر کر رہی ہیں اور یہ معلومات نئے علاج اور دوائیوں کی دریافت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔گوگل ڈیپ مائنڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم سائنسی ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز پر ہیں اور مصنوعی ذہانت کئی نئی دریافتوں کو ممکن بنائے گی۔















