پنجاب میں سیلاب سےتباہی،فوج طلب کرلی گئی

پنجاب میں راوی ،ستلج اورچناب نےتباہی مچادی،دریاؤں میں طغیانی کےباعث متعددعلاقےاور سیکڑوں ایکڑپرکھڑی فصلیں زیرآب آگئیں،سیلابی پانی سےکئی علاقوں کازمینی رابطہ منقطع ہوگیا، فوج طلب کرلی گئی۔
ذرائع کےمطابق پنجاب حکومت نے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ پنجاب کے6اضلاع میں سیلابی صورتحال سےنمٹنے کے لئے پاک فوج مصروف عمل ہے،متاثرہ اضلاع میں پاک فوج گزشتہ رات سے ریسکیواینڈریلیف آپریشن کررہی ہے،پاک فوج اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے۔
فلڈکنٹرول روم نےالرٹ جاری کردیاجس کےمطابق دریائےچناب ہیڈمرالہ کےمقام پرانتہائی اونچےدرجےکاسیلاب ہے۔
ذرائع کاکہناہےکہ ادھر دریائے چناب میں صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ۔ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگئی۔خانکی کے مقام پر بہاؤ 6 لاکھ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔ دریائے چناب میں ساڑھے 10 لاکھ کیوسک تک پانی آنے پرشگاف ڈالنے کی تیاری کرلی گئی ۔ نالہ ڈیک کے ریلے نے تباہی مچادی۔دریائے ستلج کے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں پونگ اور بھاکھڑا سے پانی کا اخراج جاری،گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ 2 لاکھ45 ہزار 236 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے:
ڈی جی پی ڈی ایم اےعرفان علی کاٹھیاکاکہناہےکہ دریائےراوی میں جسڑکےمقام پرپانی کا بہاؤ 2لاکھ 40ہزارکیوسک ہے،آج رات کوشاہدرہ کےمقام سے2لاکھ سےزائدسیلابی پانی کاریلہ گزرےگا،شاہدرہ کےمقام پرپانی کی اڑھائی لاکھ کیوسک کی کیپسٹی ہے۔
اُن کامزیدکہناہےکہ سول وعسکری اداروں کےساتھ رابطےمیں ہیں،کمشنرزڈپٹی کمشنرز،ضلعی انتظامیہ ،ریسکیو1122کیساتھ مسلسل رابطہ ہے،دریائےراوی میں 1988کےبعداتنی مقدارمیں سیلابی پانی کاریلہ گزرےگا۔دریاؤں کی صورتحال کومسلسل مانیٹرکیاجارہاہے۔
اُدھرجھنگ کےبیلہ جبانہ بستی کھوہ جان محمدجبانہ اورمگھیانہ میں فصلیں تباہ ہوگئیں،جبکہ سیلاب سے درجنوں مکانات تباہ اور سیکڑوں ایکڑپرکھڑی فصلیں زیرآب آگئی،سیلابی پانی سےکئی علاقوں کازمینی رابطہ منقطع ہوگیا،متاثرہ علاقوں سےلوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی جاری ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن سےملی معلومات پردفترانڈس واٹرکمشنرنےفلڈالرٹ جاری کردیا۔
فلڈالرٹ کےمطابق بھارتی کمیشن نےاطلاع دی ہےکہ ستلج میں ہیڈہریکے زیریں میں اونچےدرجےکاسیلاب ہوگا،دریائےستلج میں فیروزپورزیریں میں اونچےدرجےکاسیلاب ہوگا،دریائےراوی میں مادھوپورزیریں اور دریائے چناب میں اکھنورمیں اونچے درجےکاسیلاب ہوگا۔
ہیڈقادرہ آبادشگاف:
بھارت کی جانب سےدریاؤں میں چھوڑےجانےوالےپانی کےباعث دریائےچناب میں سیلابی صورت حال ہے اور ضلعی انتظامیہ نے گوجرانوالہ میں ہیڈ قادرآباد کے قریب شگاف لگانے کے لیے ایک چھوٹا دھماکا کیا ہے۔
دریائے چناب پر جھنگ میں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد 63 ہزار 34 کیوسک اور اخراج 51 ہزار 834 کیوسک ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے ضلع بھر میں 412 دیہات زیرآب آنے کا خدشہ ہے، دریائی علاقوں کے رہائشیوں کو مویشیوں سمیت نقل مکانی کی ہدایت کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے مساجد میں اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرعلی اکبر بھنڈر کا کہنا ہے ضلعی انتظامیہ نے 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کی جانب سے بھی 27 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔