امریکہ کا 248 واں یوم آزادی۔ خصوصی رپورٹ

0
16

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے عوام آج اپنا 248 واں یوم آزادی منا رہے ہیں ۔ امریکی ریاست کی ترقی میں انصاف اور برابری کی ضمانت فراہم کرنے والے دستورکا کردار اہم ہے۔ وہ دستور جس کو تیار کرنے میں فاونڈنگ فادر تھامس جیفرسن نے قرآن مجید کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے قانونی حوالوں سے اس سے استفادہ کیا، اس حوالے سے واشنگٹن ڈی سی سے ڈسکور پاکستان کے پریذیڈنٹ ممتاز پاکستانی امریکن دانشور ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی کی خصوصی رپورٹ ۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے عوام آج اپنا 248 واں یوم آزادی منا رہے ہیں ۔ امریکی ریاست کی ترقی میں انصاف اور برابری کی ضمانت فراہم کرنے والے دستورکا کردار اہم ہے۔ وہ دستور جس کو تیار کرنے میں فاونڈنگ فادر تھامس جیفرسن نے قرآن مجید کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے قانونی حوالوں سے اس سے استفادہ کیا، اس کتاب مقدس کے دو والیم آج بھی دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے لائبریری آف کانگریس میں محفوظ ہیں۔

امریکہ کے یوم آزادی کی تاریخی حوالے سے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ڈسکور پاکستان کے پریذیڈنٹ ممتاز پاکستانی امریکن دانشور ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی کی خصوصی رپورٹ دیکھتے ہیں۔

تقریباً اڑھائی سو سال گزرنے کے بعد آج اگر امریکی ریاست کی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کو جانچنے کے لیے کوئی پیمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے تو وہ اس کا دستور ہے جو لوگوں کو انصاف اور برابری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وہ عظیم دستور جو ہر طرح کے نسلی ، مذہبی ، لسانی ، معاشرتی اور تہذیبی امتیازات کی نفی کرتا ہے۔

اعلان آزادی کی دستاویز کے خالق ریاست کے تیسرے منتخب صدر تھامس جیفرسن نے اپنے تین ساتھیوں جیمز میڈسن، الیگزینڈر ہملٹن اور بنجمن فرینکلن کی معاونت سے جو بے مثال دستور تیار کیا، اس میں جہاں فاونڈنگ فادر تھامس جیفرسن کی عقل و دانش،تجربہ اور مشاہدہ شامل ہے، وہیں انکے زیرمطالعہ قرآن مجید کے دو والیم پر مشتمل ترجمے کا بھی ذکر موجود ہے۔ یہ دو والیم دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے لائبریری آف کانگریس سے ملحقہ تھامس جیفرسن بلڈنگ کے نایاب کتب کے سیکشن میں موجود ہیں۔

ڈسکور پاکستان ٹی وی کے پریڈیڈنٹ ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی نے ان تاریخی دستاویزات کا وہاں جاکر مشاہدہ کیا ہے ،وہاں پر امریکہ میں اسلام اور اسکی صدیوں سے موجودگی کیساتھ ساتھ یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ امریکہ کے فاونڈنگ فادر اور دستور عطا کرنےوالی شخصیت تھامس جیفرسن نے قرآن مجید کوقانون کی عظمیم کتاب مانتے ہوئے اس سے کیسے استفادہ کیا۔

پاکستانی امریکن ممتاز دانشور ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی امریکہ کے دوسواڑتالیسویں یوم آزادی پراپنے مشاہدے میں کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ کی تاریخ سے واقفیت کےلئے مختلف ذرائع موجود ہیں لیکن سب سے بڑا ذریعہ امریکہ کی لائبریری آف کانگریس ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی نے جسکا تفصیلی دورہ کیا، وہاں کا مشاہدہ کیا، تاریخی کتب سے مستفید ہوئے۔
ڈاکٹرذوالفقار کاظمی بتاتے ہیں کہ:

دنیا کی اس سب سے بڑی لائبریری میں ایک سو چالیس ملین سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد پرنٹڈ میٹیریل یہاں دستیاب ہے۔ اس تاریخی لائبریری میں امریکہ کے فاؤنڈنگ فادرز کی یادیں موجود ہیں۔ انہی فاؤنڈنگ فادرز میں امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن، امریکہ کو آئین دینے والی شخصیت، ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس کے پرنسپل آتھر، ان کے بارے میں لائبریری کے اندر جو چیزیں موجود ہیں، اس پر امریکی قوم کو فخر ہے۔

تھامس جیفرسن وہ شخصیت تھے کہ جنہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ ’’آئی کین ناٹ لیو ود آؤٹ بکس‘‘ ان کی نادر کتابیں لائبریری آف کانگریس میں موجود ہیں۔ 6500 سے زائد کتابیں تھامس جیفرسن نے لائبریری آف کانگریس کو دیں۔ مختلف اوقات میں

جو کتابیں تھامس جیفیسن کی ملکیت تھیں، ان کتابوں میں ایک کتاب قرآن مجید، دو جلدوں میں قرآن پاک کی ٹرانسلیشن لائبریری آف کانگریس میں موجود ہیں۔ 1734 میں اس کا پہلا ایڈیشن لندن سے شائع ہوا اور بعد ازاں 1764 میں دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔

تھامس جیفرسن کو ہر طرح کی کتاب سے دلچسپی تھی لیکن تھامس جیفرسن نے 1776 میں امریکی قوم کو جو آئین دیا، جو ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس جس کے وہ پرنسپل آتھر ہیں، یہ ایک سوچ فراہم کرتا ہے کہ تھامس جیفریسن کی دلچسپی قرآن مجید میں کتنی تھی، اور بھی بہت سی کتابیں ہیں جو تھامس جیفیسن کی ملکیت ہیں۔

قرآن مجید کے ترجمے کا دوسرا ایڈیشن 1764 میں لندن سے شائع ہوا اور تھامس جیفریسن نے اس ایڈیشن کو 1765 میں خرید کیا۔ قانون کے ماہر کی حیثیت سے انہوں نے قرآن مجید کو اس لئے خریدنے کا سوچا کہ وہ اس کو قانون کی کتاب سمجھتے تھے اور قرآن مجید کے ترجمے کے ان دونوں نسخوں پر تھامس جیفرسن کی انیشز موجود ہیں۔ قرآن مجید کے یہ دونوں نسخے خوبصورت چمڑے کی جلدوں میں ملبوس ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی بتاتےہیں کہ:لائبریری میں موجود قرآن مجید کے ان دونوں ترجمے کے نسخوں کو محفوظ کرلیا گیا لیکن 2007 میں جب امریکہ میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان کانگریس مین منتخب ہوئے، کیک ایلیسن، تو انہوں نے تھامس جیفرسن کے اس قرآن مجید کے ترجمے پر حلف لیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔

لائبریری آف کانگریس میں امریکہ کے فاؤنڈنگ فادر تھامس جیفیسن کے قرآن مجید کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ مذہبی عقائد، نظریات اور مذاہب کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

۔ 1814 میں ایک اینگلو امریکن وار کے نتیجے میں جو آتشزدگی ہوئی، اس کے نتیجہ میں اس تاریخی کتب خانے کی 3 ہزار کتابیں نذر آتش ہوئیں لیکن حیران کن حد تک اس کو معجزہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ محفوظ رہا جو تھامس جیفرسن کی ملکیت تھا۔ اس لائبریری کا ایک ایک کونہ دیکھنے والا ہے، اس میں موجود تمام چیزیں انسان کو تاریخ سے منسلک کرتی ہیں۔
امریکہ کے مضبوط نظام کی ایک ٹھوس وجہ دنیا کی مخلتف کمیوٹیز کو اس ریاست میں کھلے دل سے قبول کرنا ہے۔

سابق صدر براک اوباما کے خاص طور پر امریکہ اور اسلام کے بارے الفاظ تاریخ میں محفوظ ہیں۔ امریکی عوام ہر سال اپنے یوم آزادی پر اعلان آزادی کی دستاویز کے الفاظ کو دہرا کر اس پر قائم رہنے کا اعادہ کرتے ہیں۔

Leave a reply