تھانہ کھنہ کی حدود میں روڈ ایکسڈنٹ سے جانبحق شہری شکیل تنولی سے متعلق کیس

0
25

پاکستان ٹوڈے: ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود دو سال گزر گئے، مقدمے کی تفتیش مکمل نہ ہو سکی

اسلام آباد ہائی کورٹ کی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد پولیس حکام پر برہم, تفتیش مکمل نہ ہونے پر تفتیشی افسر کو جیل بھیجنے کا عندیہ, اسلام آباد ہائی کورٹ کی پولیس سے دو ہفتوں میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ طلب ۔

تفتیش مکمل نہ ہوئی تو آپ اڈیالہ جائیں گے اور اپنی نوکری سے فارغ ہونگے ، کوئی پریشر نہ لیں قانون اور قاعدے کے مطابق تفتیش مکمل کرکے رپورٹ دیں ، چیف جسٹس کی تفتیشی افسر کو ہدایت ۔

کیس کے تفتیشی روسٹرم پر طلب, درخواست گزار کا بیان ریکارڈ ہوگیا ہے، ایف آئی آر بھی درج ہے ، تفتیش ابھی جاری ہے ،
روڈ ایکسڈنٹ میں دو لڑکے جانبحق ہوئے ، تفتیش میں کیا ہوا تفتیش آپ کر رہے یا درخواست گزار ، مقدمے کی کب ہوئی ایف آئی آر ، چیف جسٹس

ایف آئی آر درج ہوئے دو سال کے قریب کا عرصہ ہوگیا تاحال گرفتاری نہیں ہوئی ، وکیل درخواست گزار، 2022 میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی ، دو سال ہو گئے ہیں کیا ہو رہا ہے تفتیش میں ، پولیس کیا کر رہی ہے ، گاڑی 666 نمبر تھی جس نے ایکسڈنٹ کیا ، ہماری تفتیش جاری ہے۔

مجھے پتہ ہے آپ جو تفتیش کر رہے ہیں دو ہفتوں میں رپورٹ دیں ، ایف آئی آر درج ہوئے دو سال ہوگئے اس پر کیا ہائیکورٹ میں رٹ آنی چاہیے ، یہ حال ہے پھر کیا کریں لوگ ، قانون میں چالان کب جمع ہونا ہوتا یے، قانون میں 14 روز میں چاہا آنا چاہیے ۔

چودہ دن ہیں یا چودہ سال؟ کیوں نہ آپ کے خلاف کاروائی ہو ، دو سال سے معاملہ زیر تفتیش ہے ، ، کیا یہ کم عرصہ ہے ، درخواست گزار جانبحق شہری کے والد رفاقت اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش۔

اسٹیٹ کونسل ذوہیب گوندل عدالت میں پیش، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تھانہ کھنہ میں درج مقدمے کی تفتیش دو ہفتوں میں طلب کر لی۔

Leave a reply