سعودی عرب کی زیرزمین سرنگوں سے 7 ہزار سال پرانی چٹانی تصاویر دریافت

0
11

پاکستان ٹوڈے: ہزاروں سال قبل جزیرہ نما عرب میں رہنےوالے افراد گرمی سے بچنے کیلئے موسم گرما میں زیرزمین چلے جاتے تھے اور انہوں نے ایسی سرنگوں میں رہائش اختیار کیں، جن میں لاکھوں سال قبل لاوا بہتا تھا۔یہ انکشاف ایک تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحقیق کے مطابق پتھر کے عہد کے آغاز میں جزیرہ نما عرب میں رہنے والے چرواہوں نے بڑی سرنگوں پر قبضہ کر لیا اورزیرزمین موجود ٹھنڈک نے ان افراد کو صحرا میں سورج کی تپش اور آندھیوں سے تحفظ فراہم کیا۔ درحقیقت ان افراد نے ان سرنگوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ پناہ لی اور وہاں سے نکلتے وقت مختلف اشیا اور چٹانی دیواروں پر تصاویر بھی چھوڑ گئے۔

سعودی عرب کی حرات خیبر نامی لاوا فیلڈ میں سرنگوں کے نظام کو کئی برس قبل ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیا تھا۔سرنگوں کے اس نظام کو ام جرسان کا نام دیا گیا اور سائنسدان ابھی یہ تصدیق نہیں کرسکے کہ سرنگوں کا نظام کب بنا، مگر ایک پرانی تحقیق کے مطابق یہ سرنگیں 30 لاکھ سال پرانی ہیں۔

محققین کے مطابق یہ دریافت ام جرسان اور خطے کی دیگر سرنگوں کے حوالے سے بہت اہم ہے، کیونکہ زمانہ قدیم کے موسم اور اس عہد میں شمال مغربی عرب میں رہنے والے انسانوں کے بارے میں تفصیلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔تحقیقی ٹیم کی جانب سے لگ بھگ 15 سال سے اس خطے میں کام کیا جا رہا ہے اور وہ جزیرہ نما عرب میں زمانہ قدیم کے انسانوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔

Leave a reply