سیاحوں نے گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کا رخ کر لیا

0
20

عید الاضحی کی تعطیلات اور لانگ ویک اینڈسے لطف اندوز ہونے کیلئے ملک بھرسے سیاحوں نے جنت نظیر وادیوں کی سرزمین گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات کا رخ کر لیا۔

رواں سال موسم گرما کے آغاز پر ہی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے گلگت بلتستان کے خوبصورت اور دلکش مقامات کا رخ کرنا شروع کر دیا تھا، تاہم عید الاضحی کے پہلے تین روز فریضہ قربانی ادا کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے جن سیاحتی مقامات میں سب سے زیادہ سیاحوں کا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اُن میں گلگت سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دلکش وادی نلتر بالا،ہنزہ،راما استور، دیوسائی، منی مرگ، چلم استور، بلتستان ڈویژن میں واقع کچورہ لیک،شگر فورٹ اور ضلع غذر کی وادی پھنڈر، شندوراور وادی دیامر کی فیری میڈوز شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آ مد کے ساتھ اس شعبے سے منسلک افراد نہایت خوش اور پر جوش نظر آ رہے ہیں۔گلگت بلتستان، اپنی بے پناہ خوبصورتی اور قدرتی وسائل کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز ہے۔ گلگت بلتستان ایسی سرزمین ہے، جو جغرافیائی طورپر بہت اہم اور سیاحتی اعتبارسے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کے تقریباً سترفیصد پہاڑ گلگت بلتستان میں ہیں۔ گلگت بلتستان میں واقع نانگا پربت، راکاپوشی اور کے ٹو جیسے پہاڑوں کو سر کرنے کیلئے ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں،جس سے ناصرف پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملتا ہے، بلکہ حکومت ِ پاکستان کو سالانہ لاکھوں ڈالرکی آمدن بھی ہوتی ہے۔

Leave a reply