ماسکو میں عالمی کانفرنس،ا مریکی ڈالرکی بلیک میلنگ سے کیسے بچنا ہے؟ پاکستان کی شرکت

0
50

ماسکو میں عالمی کانفرنس،ا مریکی ڈالرکی بلیک میلنگ سے کیسے بچنا ہے؟ پاکستان کی شرکت

ماسکو میں بین الاقوامی فورم "قوموں کی آزادی ” کے عنوان سے کل سے شروع رہا ہے جس میں شرکت کے لئے پاکستان سمیت 50 ممالک کے تقریباً 200 افراد ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی سینٹ میں دفاع کمیٹی کے سربراہ مشاہدحسین سید کر رہے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن کونسل کمیٹی برائے بین الاقوامی امور کے نائب چیئرمین آندرے کلیموف نے کہا ہے کہ
ہماری تنظیم میں پاکستان سمیت مختلف ممالک نمائندوں نے اس فورم کو منظم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،
روس میں مقیم پاکستان ٹوڈے نیوز کےنمائندے اشتیاق ہمدانی نے سوال کیا کہ ’’فار دی فریڈم آف نیشنز’’ کا سلوگن ان ممالک کے لیے کیسے مفید ہو سکتا ہے جو آج امریکی مالیاتی نظام کی بلیک میلنگ کے خفیہ یرغمال بنے ہوئے ہیں؟ اور کیا اس کانفرنس کے تناظر میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے مواقع موجود ہیں؟
جس کے جواب آندرے کلیموف نے کہا کہ پاکستان سینیٹ کے دفاع کی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید ہیں، جو ایشیائی سیاسی جماعتوں کی بین الاقوامی کانفرنس کے نائب صدر بھی ہیں، وہ اس کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ہیں اور اس فورم کی تشکیل انکا کلیدی کردار ہے۔
ہمارے پاس منصوبہ ہے کہ امریکی مالیاتی نظام کی بلیک میلنگ کے نظام سے کیسے بچنا ہے؟۔ اس فورم کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں کام کرنے والوں کا ایک پورا گروپ ہے، جو اپنی تجاویز کو پیش کرے گا۔ یہ ڈی ڈالرائزیشن ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم ڈالر کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ریاست امریکہ کو ان کی سرزمین پر ڈالر استعمال کرنے کے موقع سے محروم نہیں کریں گے۔
لیکن دنیا کو ڈالر کی استعمار سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو مختلف ممالک میں اپنی اپنی کرنسی کے انتخاب کا موقع دیا جائے تاکہ وہ لین دین کو معاملات کو باآسانی سرانجام دے سکیں چاہیے وہ روبل ، یوآن اور روپے سمیت کوئی اور کرنسی ہو

آندرے کلیموف نے کہا یہ سب کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اور اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ کسی قسم کی واحد برکس کرنسی یا ایس سی او کی واحد کرنسی بنائی جائے،

آندرے کلیموف نے کہا کہ یورپی یونین نے بھی ایک واحد کرنسی بنائی ہے اور اب اس کے لیے سائن اپ کرنے والے بہت سے ممالک مشکلات کا شکار ہیں۔ لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اپنی خودمختاری کا ایک اہم حصہ کھو چکے ہیں۔
آندرے کلیموف نے کہا کہ روس نے مالیاتی معلومات کی ترسیل کے لیے اپنا نظام بنایا ہے اور اس نظام میں بیس ممالک پہلے ہی کام کر رہے ہیں، ان ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ ہم ان کے نفاذ میں ہر ایک کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

Leave a reply