مخصوص نشستوں کا کیس,انٹرا پارٹی الیکشن مسئلہ بن گئے

اہم کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی
0
19

سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کے دوران ججز خود کنفیوژن کا شکار رہے۔ سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان فرق معلوم کرتے رہے، جبکہ آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں کیوں نہیں مل سکتیں، اس طرح کے بنیادی سوالات کا جواب تلاش کرتے رہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ انٹرا پارٹی الیکشن کرالیتے تو سارے مسائل حل ہوجاتے۔

پاکستان ٹوڈے کی تفصیلات کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کل جسٹس جمال مندوخیل کا سوال تھا پی ٹی آئی نے بطور جماعت الیکشن کیوں نہیں لڑا؟ سلمان اکرم راجا نےاسی متعلق درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی اور  بطورجماعت تحریک انصاف نے حصہ نہیں لیا تو  آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔

فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحادکونسل نے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، الیکشن کمیشن نے درخواست مستردکرتے ہوئےکہا سنی اتحاد کونسل نےانتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

فیصل صدیقی نے کہا  اس میں کوئی تنازع نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات نہیں لڑے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ تنازع کی بات کیوں کررہے ہیں، بس کہیں الیکشن نہیں لڑا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دو جگہ آپ نے پارلیمنٹری پولیٹیکل پارٹی اور تیسری جگہ پولیٹیکل پارٹی لکھا، آخری جگہ پارٹی لکھا،کوئی خاص فرق ہے؟ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمنٹری پارٹی اور پولیٹیکل پارٹی کا بتایا ہے، پولیٹیکل پارٹی پارلیمانی پولیٹیکل پارٹی ہوسکتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئین پولیٹیکل پارٹی اور پارلیمنٹری پولیٹیکل پارٹی میں فرق کرتا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے فیصل صدیقی سے سوال کیا آپ 8 فروری سے پہلےکیا تھے؟ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا 8 فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے اور  آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم  پارلیمانی جماعت بن گئے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ جو  امیدوار ہمارےسامنے نہیں جن کی آپ نمائندگی کررہے ہیں وہ تو سب تحریک انصاف کے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار تو آپ کو چھوڑ رہے ہیں، آپ کی پارٹی میں نہیں آرہے، تحریک انصاف کے امیدوارتوپھرآزاد نہ ہوئے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑسکتے تھے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے امیدواروں کوکس بنیاد پرانتخابی نشان دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابی نشان دیا اور بطور آزاد امیدوار شناخت دی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے پارلیمان میں فیصلے پارلیمانی پارٹی کرتی ہےجنہیں ماننےکے سب پابند ہوتےہیں، پارلیمانی پارٹی قانونی طورپرپارٹی سربراہ کی بات ماننےکی پابند نہیں ہوتی۔

جسٹس منیب اختر  نے کہا آرٹیکل 51 میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے، پارلیمانی پارٹی کا نہیں، آرٹیکل 51 اور مخصوص نشستیں حلف اٹھانے سے پہلے کا معاملہ ہے، امیدوار حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کاذکر ابھی غیرمتعلقہ ہے،مناسب ہوگا ابھی سیاسی جماعت اورکیس پرفوکس کریں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کاغذات نامزدگی میں کوئی خودکوپارٹی امیدوارظاہرکرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوارتصورہوگا،  آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔

جسٹس منیب نے کہا سنی اتحادکونسل میں شامل ہونے والوں نےخودکوکاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف کا امیدوار ظاہر کیا اور کاغذات بطور تحریک انصاف امیدوار منظور ہوئے اور امیدوار منتخب ہوگئے تو الیکشن کمیشن کےقوانین کیسےتحریک انصاف کےامیدواروں کو آزاد قراردے سکتےہیں؟ انتخابی نشان ایک ہویا نہ ہو  الگ بحث ہےلیکن امیدوارپارٹی کےہی تصورہوں گے۔

جسٹس منیب اختر کے ریمارکس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا  اس حساب سے تو سنی اتحاد کونسل میں تحریک انصاف کےکامیاب امیدوارشامل ہوئے، سیاسی جماعت میں تو صرف آزاد امیدوار ہی شامل ہوسکتے ہیں، اس پر جسٹس منیب نے کہا سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا تنازع کی وجہ بن گیا۔

جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے سوال کیا کہ  تحریک انصاف یا  آزاد امیدواروں نے بیٹ کا نشان لینے کی درخواست دی؟ چیلنج کیوں نہیں کیا اگر بیٹ کا نشان نہیں ملا؟  اس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا سب آزاد امیدوار تو بیٹ نہیں مانگ سکتے  تھے۔

اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے کہا انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا، قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہے جس کا آغاز  یہاں سے ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا سلمان اکرم راجا نے خودکو تحریک انصاف امیدوار قرار دینےکےلیے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے سلمان اکرم راجا کی درخواست مسترد کردی تھی۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا سپریم کورٹ بلےکےنشان والےفیصلے کی وضاحت کردیتی توسارےمسائل حل ہوجاتے ، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہم نے تو نہیں کہا تھا انٹراپارٹی الیکشن نہ کرائیں، انٹرا پارٹی انتخابات کرالیتے سارے مسائل حل ہوجاتے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا  پی ٹی آئی مسلسل شکایت کررہی تھی لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی،

اس موقع پر جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے کہا  لیول پلیئنگ فیلڈ کی شکایت ہمارے سامنے نہیں آئی۔

جسٹس منصور علی شاہ پوچھا  پارلیمنٹ میں زیادہ آزاد امیدوارہوں اور 2 سیاسی جماعتیں ہوں تو کیا ساری مخصوص نشستیں 2 سیاسی جماعتوں کو جائیں گی یا ان جماعتوں کوصرف اپنی جیتی ہوئی نشستوں کےتناسب سےمخصوص نشستیں ملیں گی ؟  پہلے اس تنازع کو حل کریں اس کا کیا جواب ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا اگر یہ 77  لوگ سنی اتحادکونسل میں شامل نہ ہوتے تو  پھر مخصوص نشستوں کاکیا ہوتا؟ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے دو سیاسی جماعتیں اپنی جیتی نشستوں کےتناسب سے ہی مخصوص نشستیں لیں گی، باقی نشستوں کاکیاہوگا بعد میں دیکھاجائےگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاسی جماعتوں کواضافی نشستیں بھی بانٹ دیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے یا توآپ کہیں ایوان کو مکمل نہیں کرنا تو  پھر تو بات ہی ختم ہے  اور  اگر   336 کانمبر  پورا ہوناہےتو پھر نشستیں خالی نہیں چھوڑ سکتے، آزاد امیدوارسنی اتحادکونسل میں نہ جاتے تو تحریک انصاف کا کیس اچھا ہوتا اور وہ یہ کہتے کہ مخصوص نشستیں ہمیں دو۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا اگرکوئی بھی سیاسی جماعت نشستیں نہ جیتے اور سب آزاد آئیں  توکیا ہوگا؟  فیصل صدیقی  نے جواب دیا ایسی صورت میں مخصوص نشستیں کسی کونہیں ملیں گی، اس پر جسٹس اطہر نے کہا اس کامطلب ہےسیاسی جماعتوں کو اپنی جیتی نشستوں کےحساب سے ہی مخصوص نشستیں ملیں گی۔

سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سماعت مزید 24 جون تک ملتوی کردی

Leave a reply