نواز شریف کو پی ٹی آئی نہیں بی جے پی کا مینڈیٹ پسند

تجزیہ: انوار ہاشمی
0
25

مسلم لیگ نون کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر مودی سے یارانہ پوشیدہ نہ رکھ سے۔۔۔۔۔۔

نریندرا مودی کے بھارت کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر شہباز شریف کا اپنے ہم منصب کو مبارکباد دینا تو معمول کی بات ہے، مگر نواز شریف کا مودی کے نام پیغام اور اسکے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں۔

نومنتخب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو نواز شریف کی طرف سے مبارکباد کا پیغام زیربحث ہے۔۔۔۔کہتے ہیں مودی کو مسلسل تیسری بار وزیراعظم بننے پر گرمجوشی سے مبارکباد دیتا ہوں۔ مودی کی مسلسل تیسری بارکامیابی بھارتی عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ آئیں ہم نفرت کو امید سے بدل کر دو ارب انسانوں کی ترقی کا موقع بنائیں۔

بھارتی وزیراعظم کو مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اپنے ملک میں امیدکو نفرتوں میں تبدیل کرنے والے بھارت کو نفرتیں ختم کرکے امید دلانے میں لگے ہوئےہیں۔

بی جےپی کے مینڈیٹ کی قدر کرتے ہوئے نواز شریف اسے عوام کا مودی پر اعتماد قرار دے رہے ہیں، اور یہاں کسی کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔۔۔۔اس لئے تبصرے کرنےوالے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور بی جے پی کے مینڈیٹ کی قدر کرنے لگےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ناقدین کہ رہے ہیں۔۔۔میاں صاحب۔۔۔مودی کو جتنا مرضی خوش کرلیں، وہ صرف اپنی قوم کی بات کریں گے، اور پھر ایسا ہی ہوا۔۔۔۔۔۔

واز شریف کے نام پیغام میں مودی کا جواب بڑا ہی معینی خیز تھا۔۔۔ اس نے صرف اور صرف اپنے عوام اور اپنے ملک کی بات کی ہے۔۔۔

مودی نے نواز شریف کے پیغام پر فقط شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کردیا کہ بھارتی عوام ہمیشہ امن، سکیورٹی اور ترقی پسندخیالات کے حامی رہے ہیں، بھارتی عوام کی سکیورٹی اور خوشحالی ہمیشہ ہماری ترجیح رہے گی۔اس ایشو پر تجزیہ نگار کہتے ہیں۔۔۔

میاں صاحب: مودی نے اپنی ترجیحات آپ پر واضح کردی ہیں، آپ بھی اپنی ترجیحات اب بدلیں۔۔۔۔۔ماضی میں بھی بھارت کے ساتھ آپ کے ایک حد سے زیادہ تعلقات، اور مبینہ کاروباری تعلقات نے اپنے وطن کی خود داری کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔۔

میاں صاحب۔ بے جے پی کی حکومت نے ہمیشہ آپ کی بھارت سے محبت کے جواب میں کبھی کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف بھیجا ہے، تو کبھی ابھیندن کو پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کےلئے روانہ کیا ہے۔۔۔ بھارت نے کبھی بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو کبھی افغانستان کے راستے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔

نواز شریف کی بھارت سے قربت اور رغبت کے کئی پہلو ہیں۔ ویسے تو تقسیم ہند کے موقع پر لاکھوں گھرانوں نے بھارت میں اپنے گھر جائیدادیں، رشتے، دوستیاں قربان کرکے پاکستان کی زمین پر اپنے ڈیرے جمالئے اور پاکستان کی محبت میں دشمن ملک میں اپنی تمام یادیں مٹا دیں۔۔۔۔۔

مگر یہ واحد حکمران خاندان ہے، جس کو پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کا وارث ہونے کا دعوٰی بھی ہے، مگر یہ بھارت میں اپنی جنم بھومی اور گاوں جاتی عمرہ کوآج تک گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔۔۔۔

بھارت میں اپنے گاوں سے محبت کی آڑ میں یہ ہر بار بھارت سے اپنی محبت کی پینگیں بڑھانے لگ جاتے ہیں، انہوں نے لاہور کے قریب رائیونڈ کے ساتھ اپنی رہائشی آبادی کا نام بھی جاتی عمرہ رکھ لیا ہے۔

دوہزار سترہ میں بطور وزیراعظم نواز شریف کی مری میں بھارت کے بزنس ٹائیکون سجن جندال سے خلاف معمول ملاقات پر بھی اسٹیبلشمنٹ کو تحفظات کا اظہار تھا۔ بعد ازاں نریندرا مودی اور سجن جندال کی جاتی عمرہ لاہور میں نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت پر بھی بہت دور کے کلابے ملائے گئے۔

شریف فیملی کے ریاستی پالیسی سے ہٹ کر بھارتی حکمرانوں اور بھارت کی نجی شخصیات سے مبینہ کاروباری روابط ہر بار نواز شریف کےلئے مسائل کا سبب بھی بنے ہیں۔ اور اب ایک بار پھر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی ایک مقبول ترین جماعت کے مینڈیٹ اور اسکے مقبول ترین لیڈر کو تو شریف فیملی تسلیم کرنے کو تیار نہیں لیکن بھارتی بی جے پی اور اسکے لیڈر کے ساتھ محبت کی پینگوں کو پاکستان کے عوام اور سنجیدہ حلقے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

Leave a reply