پاکستانی مشہور گلوکارہ مالا کو مداحو ں سے بچھڑے34 برس بیت گئے

0
70

(پاکستان ٹوڈے) مدھر آواز کیساتھ مسحور کن لہجے میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی لاتعداد پنجابی اوراردوفلموں کیلئے گیت گانے والی ماضی کی مشہور گلوکارہ مالا کو مداحو ں سے بچھڑے34  برس بیت گئے۔

آج 6مارچ کو مالا بیگم کی 34 ویں برسی کے موقع پردیکھتے ہیں، ان کی فنی زندگی پریہ خصوصی رپورٹ۔۔۔

غم ِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے۔۔۔جیسے متعدد لازوال گیتوں کو اپنی آواز سے امر کرنیوالی گلوکار نسیم نازلی المعروف مالابیگم 9 نومبر1939 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں۔ مالا بیگم نے اپنی آواز کے سحر سے ایک زمانے کو اپنا گرویدہ بنا ئے رکھا۔مالا بیگم کو موسیقار بابا غلام احمد چشتی نے 1961میں پنجابی فلم آبرو میں متعارف کروایا تھا، تاہم ان کو اصل شہرت فلم :عشق پر زور نہیں کے گیت ۔۔۔دل دیتا ہے رو رو دہائی سے ملی۔۔۔
1962 کا سال مالا کیلئے خوش قسمت ثابت ہوا۔ اس سال انہوں نے اپنا نام نسیم نازلی سے تبدیل کر کے مالا رکھا ،کیونکہ اس وقت نسیم بیگم ایک مقبول گلوکارہ پہلے سے موجود تھیں۔ اس سال انہوں نے فلم سورج مکھی کے گانے گائے۔ یہ فلم کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی اور مالا بیگم بطور گلوکارہ بھی ہٹ ہو گئی ۔اس کے بعد مالا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنے اس فنکارانہ سفرمیں پانچ سو سے زیادہ فلموں میں گلوکاری کے جوہر دکھائے۔انہوں نے گلوکاری کے اس سفر میں 1180 کے لگ بھگ گیت گائے۔مالانے اپنے 18 سالہ کیرئیر کےدوران مہدی حسن،سلیم رضا،احمد رشدی،مسعود رانا،بشیر احمد،منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کے ساتھ درجنوں سپر ہٹ گیت گائے۔

مالا بیگم کو احمد رشدی کے ساتھ 100 سے زائددوگانے، گانے کا اعزاز حاصل ہے، جو پاکستان کی فلمی تاریخ میں شاید کسی اور گلوکار جوڑی کے حصے میں نہیں آیا۔مالا نے مسعود رانا کیساتھ بھی درجنوں گانے گائے،جن میں فلم نادرہ کا گیت۔۔۔نادان ہوئے،،، ناسمجھ ہوئے،،،معصوم ہوئے،،، حسین ہو۔۔۔میرے گیت سن کر کہيں اے حسینہ۔۔۔ اور۔۔۔راوی پار ،،، وسے میرا پیار۔۔۔سمیت کئی گیت آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھول دیتے ہیں۔۔۔

مالا اور منیر حسین کے گائے ہوئے دوگانے۔۔۔دلدار، دلدارا او دلدارا،،، تیرا اک سہارا۔۔۔موسیقی کے دلدادہ لوگوں کو ایسا بھایا کہ برسوں یہ گیت ان کے ہونٹوں سے نہ اتر سکا

مالا کو بہترین گلوکارہ ہونے کا 2 مرتبہ نگار ایوارڈدیا گیا۔پہلا 1963 میں فلم عشق پر زور نہیںپر اور دوسرا 1965 میں فلم نائلہ پر۔۔۔فلمی موسیقی کے زرخیز دور میں مالابیگم کو نورجہاں کے بعد دوسری بہترین آواز ہونے کا اعزاز حاصل رہا،مگر اس قابل رشک عروج کے بعد 70 کی دہائی میں پاکستانی فلمی افق پر نئی گلوکارائیں طلوع ہو نے لگیں اور مالا بتدریج پس منظر میں چلی گئیں۔مالا بیگم نے کبھی بھی لائم لائٹ میں لائف نہیں گزاری ۔ فلمی دنیا سے کنارہ کشی کے بعد وہ گھر کی ہو کر رہ گئیںاور ایک خوبصورت زندگی گزار کر صرف 50 سال کی عمر میں 6 مارچ 1990کواس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

Leave a reply