ایران امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے گا، براہِ راست مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں،سپریم لیڈر

0
1

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نےکہاہےکہ ایران امریکا کے دباؤ میں نہیں آئے گا، براہِ راست مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے تہران میں ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جھکانے کی خواہش رکھنے والے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے رکھیں گے۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں کی موجودگی میں کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔
ان کے بقول جو افراد ایران کو امریکا سے براہِ راست بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ حقیقت سے لاعلم ہیں۔
سپریم لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ دشمنوں نے ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان تعلق کو کمزور سمجھنے میں غلطی کی اور ایران کو توڑنے کی ہر کوشش ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے دشمنوں کو یہ بات اب سمجھ آ چکی ہے کہ فوجی دباؤ یا حملوں کے ذریعے نہ تو ایران کو جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسلامی نظام کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
سپریم لیڈر کا یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایران اور یورپی رہنماؤں نے تہران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات اُس وقت معطل کر دیے تھے جب امریکا اور اسرائیل نے جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران تہران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

Leave a reply