تھانہ کھنہ کی حدود میں روڈ ایکسڈنٹ سے جانبحق شہری شکیل تنولی سے متعلق کیس

پاکستان ٹوڈے: ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود دو سال گزر گئے، مقدمے کی تفتیش مکمل نہ ہو سکی
اسلام آباد ہائی کورٹ کی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد پولیس حکام پر برہم, تفتیش مکمل نہ ہونے پر تفتیشی افسر کو جیل بھیجنے کا عندیہ, اسلام آباد ہائی کورٹ کی پولیس سے دو ہفتوں میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ طلب ۔
تفتیش مکمل نہ ہوئی تو آپ اڈیالہ جائیں گے اور اپنی نوکری سے فارغ ہونگے ، کوئی پریشر نہ لیں قانون اور قاعدے کے مطابق تفتیش مکمل کرکے رپورٹ دیں ، چیف جسٹس کی تفتیشی افسر کو ہدایت ۔
کیس کے تفتیشی روسٹرم پر طلب, درخواست گزار کا بیان ریکارڈ ہوگیا ہے، ایف آئی آر بھی درج ہے ، تفتیش ابھی جاری ہے ،
روڈ ایکسڈنٹ میں دو لڑکے جانبحق ہوئے ، تفتیش میں کیا ہوا تفتیش آپ کر رہے یا درخواست گزار ، مقدمے کی کب ہوئی ایف آئی آر ، چیف جسٹس
ایف آئی آر درج ہوئے دو سال کے قریب کا عرصہ ہوگیا تاحال گرفتاری نہیں ہوئی ، وکیل درخواست گزار، 2022 میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی ، دو سال ہو گئے ہیں کیا ہو رہا ہے تفتیش میں ، پولیس کیا کر رہی ہے ، گاڑی 666 نمبر تھی جس نے ایکسڈنٹ کیا ، ہماری تفتیش جاری ہے۔
مجھے پتہ ہے آپ جو تفتیش کر رہے ہیں دو ہفتوں میں رپورٹ دیں ، ایف آئی آر درج ہوئے دو سال ہوگئے اس پر کیا ہائیکورٹ میں رٹ آنی چاہیے ، یہ حال ہے پھر کیا کریں لوگ ، قانون میں چالان کب جمع ہونا ہوتا یے، قانون میں 14 روز میں چاہا آنا چاہیے ۔
چودہ دن ہیں یا چودہ سال؟ کیوں نہ آپ کے خلاف کاروائی ہو ، دو سال سے معاملہ زیر تفتیش ہے ، ، کیا یہ کم عرصہ ہے ، درخواست گزار جانبحق شہری کے والد رفاقت اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش۔
اسٹیٹ کونسل ذوہیب گوندل عدالت میں پیش، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تھانہ کھنہ میں درج مقدمے کی تفتیش دو ہفتوں میں طلب کر لی۔
سردی ابھی گئی نہیں:مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی
جنوری 29, 2026حکومت کی جانب سےگانوں پرپابندی عدالت میں چیلنج
جنوری 28, 2026
Leave a reply جواب منسوخ کریں
مزید دیکھیں
-
نائجر: مسجدپردہشتگردوں کاحملہ،44شہری شہید،13زخمی
مارچ 22, 2025 -
سونےکی قیمت میں ایک بارپھربڑااضافہ
جولائی 26, 2024 -
ورلڈلیجنڈز: جنوبی افریقہ کےہاتھوں پاکستان کوشکست
جولائی 10, 2024
اہم خبریں
سائنس/فیچر

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














