
گوگل ویو 3، فلم سازی کا نیاہدایتکاراور مصنوعی ذہانت اے آئی کا شاہکار،گوگل نے Veo 3 نامی اپنی نئی آرٹی فیشل انٹیلی جینس ویڈیو جنریٹر ٹیکنالوجی متعارف کروا دی۔
یہ اے آئی ٹول نا صرف ایک پیشرفت ہے، بلکہ فلم اور میڈیا کی مستقبل کی جھلک بھی ہے۔گوگل ویو 3 نے لانچ ہوتے ہی ٹیکنالوجی کی دنیا میں دھوم مچا دی ۔ویو 3 صرف خوبصورت اور حقیقت سے قریب ترین ویژولز تخلیق نہیں کرتا، بلکہ اس میں حقیقت سے ہم آہنگ آوازیں، جیسے کہ کرداروں کی گفتگو اور جانوروں کی آوازیں، بھی قدرتی انداز میں شامل ہوتی ہیں، جس سے یہ اپنے طرز کی ایک منفرد اے آئی ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔جہاں دیگر پلیٹ فارمز جیسے کہ اوپن اے آئی اورSora صرف ویڈیوز کی تخلیق پر توجہ دیتے ہیں، وہیں گوگل کا ویو 3 سِنکرونائزڈ آڈیو کو براہ راست ویڈیو کے ساتھ ضم کر کے اے آئی ویڈیو جنریشن کو ایک نئی سطح پر لے گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی متعدد ویڈیوز میں صارفین نے اس ٹول کی حیران کن خصوصیات پر خوشی اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے ویو 3 کے حقیقت سے قریب تر مناظر، ہموار حرکات اور بالکل درست لبوں کی ہم آہنگی (Lip-sync) کو اے آئی مواد کی تیاری میں ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔
بیشتر صارفین کا کہنا ہے کہ ویو 3 کی ویڈیو کوالٹی اتنی بہترین ہے کہ یہ وی ایف ایکس (VFX) سے بھی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ایک صارف نے ویو 3 سے تیار کی گئی ایک ایکشن ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صرف ویژولز ہی نہیں، بلکہ SFX، ساؤنڈ ڈیزائن، میوزک اور کیمرہ اینگلز تک اے آئی سے بنائے گئے ہیں۔ یہ سو فیصد فلم سازی کا اگلا مرحلہ ہے، ایک طرف حیرت زدہ کر دینے والا، تو دوسری طرف تھوڑا ڈراؤنا بھی۔فی الحال یہ ٹیکنالوجی امریکا میں جیمنائی ایپ کے ذریعے پریمیم صارفین کیلئے دستیاب ہے، مگر اس کے تخلیقی امکانات نے پہلے ہی تفریح، مارکیٹنگ اور میڈیا انڈسٹری کو نئی راہوں کی نوید دیدی ہے۔
ماہرین کے مطابق گوگل ویو 3 صرف ایک ویڈیو جنریٹر نہیں، بلکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ فلم سازی کا پورا عمل ایک بٹن میں سمو کر رکھ دے گا۔
Leave a reply جواب منسوخ کریں
مزید دیکھیں
-
تعمیراتی شعبےسےمتعلق ایف بی آرکابڑافیصلہ
فروری 11, 2025 -
اووربلنگ:نیب ان ایکشن،15ایس ڈی اوزکونوٹسزجاری
جنوری 29, 2025
اہم خبریں
سائنس/فیچر
پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔