ایران اور یورپی ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات شروع

ایران اور یورپی ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کا نیا دور آج سےجنیوا میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات میں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے نمائندے اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔
(عمران مزمّل )یہ اجلاس ایران اور اسرائیل کے درمیان رواں سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد دوسرا باضابطہ اجلاس ہے۔ اس سے قبل 25 جولائی کو استنبول میں مذاکرات منعقد ہوئے تھے۔
جنگ کے بعد ایران نے عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے) سے تعاون معطل کر دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ ادارہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودگی محدود کرنے اور آئی اے ای اے انسپکٹرز کے ساتھ تعاون بحال کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو اس کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
یورپی فریقین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو وہ 2015 کے معاہدے کے تحت ’’اسنیپ بیک میکانزم‘‘ فعال کر کے اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر سکتے ہیں۔ یہ وہ پابندیاں ہیں جو معاہدے کے بعد ختم کر دی گئی تھیں۔ تاہم ایران اس شق کو غیر قانونی قرار دیتا ہے اور یورپی ممالک پر الزام لگاتا ہے کہ وہ خود بھی معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کر سکے۔
یاد رہے کہ 2015 کے معاہدے کے تحت ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر محدودپابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم 2018 میں امریکہ کے یکطرفہ انخلاء اور سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد ایران نے بھی اپنی ذمہ داریوں میں کمی شروع کر دی تھی۔