امریکا،اسرائیل کےایران پرحملےکےبعدبدلتی صورتحال

امریکااوراسرائیل کےمشترکہ طورپرایران پرحملےکےبعدخطےمیں بدلتی صورتحال کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
تفصیلات کےمطابق 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد کے اہم واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے۔
حملوں کا آغاز اور جانی نقصان:
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں میزائل اور فضائی حملے کیے۔ جس میں ایران کےسپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کے متعدد سینیئر کمانڈرز مارے گئے۔
ایرانی ہلالِ احمر اور دیگر ذرائع کے مطابق امریکااوراسرائیل کےحملےکےبعدسے اب تک 1230 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔
ایران کا ردِعمل:
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شہروں (تل ابیب، حیفا) اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت اور بحرین میں امریکی فوج کے اڈوں پر حملے کیے گئے، 3 امریکی اور برطانوی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، ٹینکرز اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔
ایرانی فوج نےدعویٰ کیاہےکہ امریکااوراسرائیل کےحملےسےلیکراب تک ایرانی فوج کی جانب سےجاری جوابی وارمیں تقریباً 650امریکی فوجی ہلاک اورزخمی ہوچکےہیں۔جبکہ ایران کی جوابی کارروائی میں امریکہ ایف 15طیارےبھی گرےہیں۔
پاسداران انقلاب کاکہناہےکہ 24گھنٹےمیں امریکااوراسرائیل کے40اہداف کونشانہ بنایاگیا،آبنائےہرمزایرانی بحریہ کےمکمل کنٹرول میں ہے، آبنائے ہرمز سےجوبھی گزرےگانقصان اٹھائےگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کےمطابق ایران فیصلہ کن برتری حاصل کرچکاہے،دشمن چنددن میں بھاگ جائے گا،سیاسی وعسکری نظام کےتسلسل میں خلل نہیں آنےدیں گے۔
امریکی اڈوں پر حملے:
ایران نے کویت میں موجود علی السلیم ایئر بیس پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجِ فارس اور دیگر قریبی علاقوں میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
سفارت خانوں پر حملے:
اطلاعات کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے کویت میں امریکی سفارت خانہ تاحکمِ ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات، قطراور سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک میں ایرانی میزائل گرے ہیں، جس کے نتیجے میں یو اے ای نے تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے۔ایرانی جوابی حملوں کے دائرے میں بحرین (منامہ)، قطر (دوحہ) اور متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ بھی آئی ہے، جہاں دھماکوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
علاقائی اثرات:
ایران نے آبنائے ہرمزکو تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران خطے میں کئی اہم دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ ایران نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی اردن میں نصب جدید امریکی تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کے ریڈار کو تباہ کر دیا تھا۔
تحقیقی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امارات میں بھی دو مختلف مقامات پر تھاڈ سسٹم کے ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔
تجزیے کے مطابق امارات میں موجود ریڈار عمارت کے اندر نصب ہونے کی وجہ سے اس کو پہنچنے والے مکمل نقصان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قطر میں ایک ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
تحقیقی تجزیے کے مطابق ایران نے کمیونیکیشن نیٹ ورک، ریڈار اور جاسوسی آلات کو نشانہ بنا کر فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔
موجودہ صورتحال:
جنگ آج ساتویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے’’نئے مرحلے‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے تہران پر بمباری تیز کر دی ہے، جبکہ امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کی زیرِ زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری جنگ کے ساتویں روز دارالحکومت تہران پر شدید فضائی بمباری کی گئی، جسے حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رات بھر تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں رہائشی علاقوں کے قریب مقامات اور تہران یونیورسٹی کے اطراف بھی دھماکے ہوئے۔
امریکی فوج کے مطابق امریکی B-2 Spirit اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے گہرائی میں نصب ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں طاقتور پینیٹریٹر بم گرائے۔
رپورٹس کے مطابق حملے صرف تہران تک محدود نہیں رہے بلکہ شیراز، کرمان شاہ اور اصفہان کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں ایران کے کئی میزائل اڈے موجود ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر حملوں کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک حملوں میں کم از کم 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں 181 بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز سکول پر حملے میں بھی بڑی تعداد میں بچوں کی شہادت ہوئی جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
جرمنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایرانی حکومت کو گرانے یا جنگ کرنے کا حصہ نہیں بنے گا۔
سفارتی اور معاشی پہلو:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں’’حکومت کی تبدیلی‘‘ کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکاکو 3.7 ارب ڈالر کا خرچہ برداشت کرنا پڑا ہے۔
نقصانات کا دعویٰ:
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں سینکڑوں امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیجِ عمان میں ایران کے 11 جہاز ڈبونے کا دعویٰ کیا ہے۔















