جوہری تنصیب اور پاور پلانٹ پر حملے،ایران کی اسرائیل کوسخت ردعمل کی دھمکی

ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے سویلین جوہری تنصیب، پاور پلانٹ اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کی دو اسٹیل فیکٹریوں، ایک پاور پلانٹ اور ایک جوہری تنصیب پر حملے کیے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے لیے دی گئی مہلت میں توسیع کی گئی تھی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ان حملوں کو امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی قرار دیا، جو سفارتی عمل کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران ان اقدامات کا جواب دے گا اور اسرائیل کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملے میں مبارکہ اسٹیل کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے الیکٹریکل تنصیبات اور اسٹیل بنانے والا ورک شاپ کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اس حملے میں ایک شہری شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک اور حملے میں خوزستان اسٹیل کمپنی کے اسٹوریج شیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی سرکاری خبرایجنسی نے اصفہان کے گورنر مہدی جمالنیجاد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں صوبہ اصفہار میں 25 مزدور شہید ہوئے۔















