متنازعہ ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

0
48

متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزاسنادی گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ ہائیکورٹ کی جانب سے انہیں آج کے دن تک گواہان پر جرح کا حکم دیا گیا تھا۔
دیگر مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ کے باعث دونوں ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ملزمان کی جانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ نے نمائندگی کی۔
پراسیکیوشن نے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کیے اور 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کرایا۔ چالان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کی مختلف ٹویٹس بطور ثبوت پیش کی گئیں، جبکہ ایمان مزاری کی مبینہ ریاست مخالف تقریر بھی عدالت میں ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10 سال قید اور 3 کروڑ روپے جرمانہ، جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی، تاہم تمام سزائیں اکٹھی شروع ہونے کے باعث ملزمان 10، 10 سال قید کاٹیں گے۔

Leave a reply