قومی سول اعزازات اور مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

0
16

قومی سول اعزازات اور ان سے وابستہ مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق 21 قومی اعزازات میں سے 16 سول اعزازات مراعات کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں، جبکہ پانچ ایسے اعزازات ہیں جن کے حامل افراد مراعات کے ساتھ مالی انعام کے بھی مستحق ہوتے ہیں۔
کابینہ سیکرٹریٹ کے مطابق نشانِ شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 15 لاکھ روپے جبکہ وفات کے بعد 18 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ ہلالِ شجاعت کے حامل افراد کو زندگی میں 12 لاکھ 50 ہزار اور وفات کے بعد 16 لاکھ 25 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ ستارہ شجاعت حاصل کرنے پر زندگی میں 11 لاکھ 25 ہزار جبکہ وفات کے بعد 13 لاکھ 75 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ تمغہ شجاعت حاصل کرنے پر زندگی میں 10 لاکھ 25 ہزار اور وفات کے بعد 11 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔
اسی طرح صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والی شخصیت 12 لاکھ 50 ہزار روپے انعام کی مستحق ہوتی ہے۔
سول اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات کو وی آئی پی لاؤنجز اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز استعمال کرنے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پستول، کلاشنکوف، بائیس بور اور دو شاٹ گن کے اسلحہ لائسنس سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
تاہم تمغہ پاکستان، تمغہ شجاعت، تمغہ قائداعظم، تمغہ خدمت اور تمغہ امتیاز کے لیے کسی قسم کی مراعات مقرر نہیں کی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سول اعزازات دینے میں سندھ حکومت سرِفہرست رہی، جس نے تین برسوں میں 149 سول اعزازات تقسیم کیے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے 114، پنجاب نے 74 جبکہ بلوچستان حکومت نے 37 شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا۔
وفاقی اداروں میں وزارتِ قومی ورثہ نے 132، وزارتِ اطلاعات نے 89، وزارتِ داخلہ نے 85، وزارتِ خارجہ نے 82 جبکہ وزیراعظم سیکرٹریٹ نے 67 شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا۔

Leave a reply