توانائی بحران:سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجاویزمسترد،ایندھن فراہمی برقراررکھنےکاعزم

0
5

توانائی بحران کےباوجودسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجاویزمسترد کردی گئیں جبکہ ایندھن فراہمی برقراررکھنےکاعزم کیاگیا۔
ایوانِ صدر میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صدرمملکت آصف علی زرداری نےکی۔ اجلاس میں وزیر اعظم شہبازشریف، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد کشمیر، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت دی گئی۔ تیل و گیس کی سپلائی پر دباؤ کے باوجود ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز مسترد کر دی گئیں۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور کیا گیا تاکہ تیل کی کھپت کم کی جا سکے، تاہم بعض شرکاء نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس اقدام سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور برآمدات پر منفی اثر پڑے گا، جس کے بعد اس تجویز پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں کھپت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس پر وزارتِ اطلاعات کو ہدایت دی گئی کہ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے منظم مہم چلائی جائے تاکہ لوگ اپنی طرزِ زندگی میں تبدیلی لا سکیں۔
صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں نے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، ضروری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جس سے ایک مربوط قومی ردعمل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فی الحال وافر ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مستقبل کے لیے بھی انتظامات جاری ہیں۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، جن میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر سمیت مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ حالیہ روابط شامل ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز بارہا مسترد کی جا چکی ہیں اور کفایت شعاری سے بچائے گئے وسائل عوامی ریلیف پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

Leave a reply