ایک روزے کا فدیہ کتنا ادا کرنا ہوگا؟

سوال:روزےدارکوایک روزےکاکتنافدیہ اداکرناہوگا؟
اللہ تعالیٰ نےقرآن پاک میں ایک روزےکافدیہ ایک مسکین کادووقت کاکھانامقررکیاہے۔
روزہربالغ مسلمان مردوعورت دونوں پرفرض ہے۔اگرکسی وجہ سے روزہ نہ رکھا جائے چاہیےکوئی بیماری ہویاسفرکی غرض سےروزہ چھوڑاجائےتواُس کا فدیہ دیا جاتا ہے ۔
ہرروزےداراپنےمعیارزندگی اورمالی استطاعت کےمطابق فدیہ اداکرے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’سو جو شخص خوش دلی کے ساتھ فدیے کی مقرر ہ مقدار سے زیادہ ادا کرے تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے، (سورۃ البقرہ:184)‘‘،
فدیہ اور فطرے کی مقدار برابر ہے، اس لیے ہر شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق دوکلو گندم یا چار کلو جو یا چار کلو کھجور یا چار کلو کشمش یا پنیر کی قیمت فدیے اور فطرے کے طور پر ادا کرے، ہمارے ہاں جو دو کلو گندم یا اُس کے مساوی قیمت بتائی جاتی ہے، یہ فطرے اور فدیے کی کم از کم مقدار ہے۔
فدیہ شرعی اصطلاح میں اس رقم یا کھانے کو کہا جاتا ہے جو روزہ یا نماز جیسی فرض عبادات، جو بیماری، بڑھاپے یا سفر کی وجہ سے ادا نہ ہو سکیں اور بعد میں ان کی قضا بھی ممکن نہ ہو کے بدلے غریبوں کو دیا جاتا ہے۔ہر روزے یا نماز کے بدلے ایک صدقۂ فطر کے برابر مقدار ادا کرنا فدیہ کہلاتا ہے، جو تقریباً 1.75 کلو گندم یا اس کی نقد قیمت کے برابر ہوتی ہے۔















