قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ میں پیپلز پارٹی کا ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ ترمیمی بل کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔
انتخابات ترمیمی بل 2025 پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔
مجوزہ بل کے تحت اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے اہلِ خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کو اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی منظوری سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل کے مطابق آئندہ اراکینِ پارلیمنٹ کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق فیصلہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کریں گے۔
بل میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 138 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں کی اشاعت سے متعلق قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن سرکاری گزٹ میں اثاثوں اور واجبات کی اشاعت کا پابند رہے گا، تاہم اثاثوں کی معلومات کے دائرہ کار کا تعین کیا جائے گا۔
مجوزہ شق کے مطابق عوامی مفاد اور گڈ گورننس کو مدنظر رکھا جائے گا، جبکہ ترمیم میں فرد کی نجی زندگی اور سیکیورٹی کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بل میں اثاثوں کی تفصیلات کے افشا کے حوالے سے توازن قائم رکھنے کی شرط شامل کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اصل سیکشن 138 کے تحت اثاثوں کی اشاعت لازمی شرط ہے۔
مزید برآں مجوزہ بل میں فلور کراسنگ کے معاملے پر رکن قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں دائر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔















