عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیلئے اپوزیشن اتحاد کا دھرنا

0
4

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیلئےپارلیمنٹ میں پی ٹی آئی اوراتحادیوں کادھرناجاری ہے۔
عمران خان کی بگڑتی ہوئی طبی صورتحال، خصوصاً ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کی خبروں پر اپوزیشن اتحادنے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔
اپوزیشن قیادت کےپارلیمنٹ ہاؤس،خیبرپختونخوااورپارلیمنٹ لاجزمیں دھرنےجاری ہیں،پارلیمنٹ ہاؤس دھرنےمیں اپوزیشن اتحادکےقائدین محمودخان اچکزئی اورعلامہ ناصرعباس شریک ہیں۔
خیبرپختونخواہاؤس میں وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی اورعلی امین گنڈاپورساتھیوں سمیت موجود ہیں جبکہ پارلیمنٹ لاجزمیں ممبران قومی اسمبلی اورسینیٹرزموجودہیں۔
اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال یا کسی دوسرے نجی ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ہو سکے۔
یہ دھرناگزشتہ روزنمازِ جمعہ کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شروع ہوا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک خان صاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا، یہ دھرنا جاری رہے گا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور دیگر پارلیمنٹیرینز کے علاوہ عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے بھی اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاج سپریم کورٹ میں پیش کی گئی اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا جس میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی’’ادارہ جاتی غفلت‘‘ کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے اور اب صرف 10 سے 15 فیصد رہ گئی ہے۔
حکومت نے طبی غفلت کے الزامات کی تردید کی ہے۔ سینیٹ میں عمران خان کی صحت سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے مسترد ہونے پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔
دوسری جانب اسلام آباد کے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور احتجاج کا دائرہ ملک گیر سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔

Leave a reply