انٹرنیٹ دوڑے گا:پاکستان کی فائیو جی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیشرفت

اب انٹرنیٹ چلے گا نہیں، دوڑے گا،پاکستان کی فائیو جی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیشرفت،مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور انٹرنیٹ سپیڈ میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ امیدوار کمپنیاں 27 فروری تک اپنی بولیاں جمع کروا سکتی ہیں۔ نیلامی میں حصہ لینے والی کمپنیوں کو 15 ملین ڈالر سکیورٹی ڈیازٹ (بینک گارنٹی) جمع کروانا ہوگی۔
پی ٹی اے کے مطابق پاکستان لیڈنگ ٹیئر کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور ٹیلی کام ریگولیٹری کارکردگی میں مسلسل بہتری کا اعتراف کیا گیا ہے، ڈیجیٹل پالیسی اور ٹیلی کام ریفارمز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لائسنس ٹیمپلیٹ اور آپریشنل شرائط میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ،جن کے مطابق پریمیم سروسز کیلئے اَپ لنک سپیڈ کو ڈاؤن لنک سپیڈ کے 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق فائیو جی کیلئے کم سے کم ڈاؤن لنک سپیڈ 50 Mbps مقرر کی گئی ہے، جبکہ 4G کے صارفین کیلئے معیار کو 4 Mbps سے بڑھا کر 20 Mbps کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
کامیاب کمپنیوں کو ہر سال کم از کم ایک ہزار نئی سائٹس لگانے کی پابندی ہوگی، جس میں سے 20 فیصد سائٹس بالکل نئے مقامات پر لگانا لازمی ہوگا۔دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اپنی درخواستیں اور پری بڈ ڈپازٹ 27 فروری تک جمع کروا سکیں گی اور فائیو جی اسپیکٹرم کی باضابطہ نیلامی 10 مارچ 2026 کو ہوگی۔
حکومت نے 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 597 میگا ہرٹز سپیکٹرم نیلامی کیلئے پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروسز وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کی جائیں گی۔















