پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری، معاشی استحکام کا واضح عندیہ

پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے، جسے معاشی استحکام کی بحالی کا واضح عندیہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر غیر ملکی جریدے بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ موزوں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں ’’پانڈا بانڈ‘‘ جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں بالخصوص چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ افراطِ زر، جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے اور حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ ماضی کی طرح ادائیگیوں کے توازن کے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔
بلومبرگ رپورٹ کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکا تھا، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ میں واپسی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح اشارہ ہے، جبکہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک براہِ راست رسائی ملے گی۔ ماہرین کے مطابق افراطِ زر میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور برآمدات پر مبنی ترقی اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔















