پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغواء کے معاملے پر عدالت نے حکم جاری کیا ۔عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل اور اہلیہ ثناء سہیل کے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثناء سہیل اور ارحم وقاص کیخلاف پولیس کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا۔
پولیس کی بغیر قانونی پراسس کے ذریعے گرفتاری کو اسلام آبادہائیکورٹ نےاغواء قرار دے دیا۔
عدالت نےتحریری فیصلےمیں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مرتکب اہلکاروں کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا، یہ بھی حکم دیاکہ خاتون ثناء سہیل کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائے،اورکہاگیاکہ اسلام آباد پولیس اہلکار جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثناء سہیل کو ادا کریں گے۔
تحریری فیصلےمیں کہاگیاکہ لاہور پولیس خاتون اور بچوں کے اغواء کے کیس میں ملزمان کیخلاف میرٹ پر تحقیقات کرے، آئی جی اسلام آباد فیصلے پر عملدرآمد کر کے 30 روز میں رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نےکہاکہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کئے جا چکے، پراسس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کارروائی کالعدم ہو گی،سپریم کورٹ طے کر چکی اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیرقانونی ہو تو اس کے بعد ساری کارروائی ختم ہونی چاہیے، سپریم کورٹ نے یہ بھی طے کیا کہ کرمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا سکوپ محدود ہے۔
اسلام آبادہائیکورٹ نےتحریری فیصلےمیں کہاکہ عدالت کو غیرمعمولی حالات میں اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئے۔
مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
واضح رہےکہ سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین تنازعے کے بعد مقدمات درج ہوئے تھے ۔















