سائنسی انقلاب برپا: دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ متعارف

0
8

سائنس کے شعبے میں انقلاب برپا، دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ متعارف ،سائنسدانوں  نے  دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ تیارکر لیا، جو نمک کے دانے سے بھی چھوٹا ہے،لیکن صلاحیتوں میں حیران کن حد تک طاقتور ہے۔اگراس روبوٹ کو انسانی آنکھوں سے دیکھیں تو شاید یہ دھول کا ذرّہ یا سیاہ دھبہ لگے، مگر حقیقت میں یہ ننھا سا نقطہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ہے، جس نے جدید سائنس کی دنیا میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔
اس حیرت انگیز ایجاد کوپنسلوانیا یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ملکر ممکن بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ہے، جو مکمل طور پر پروگرام ایبل اور خودکار ہے، یعنی اسے حرکت دینے کیلئے کسی ریموٹ کنٹرول ، جوائے سٹک یا بیرونی مقناطیسی میدان کی ضرورت نہیں۔بلاشبہ اتنے چھوٹے روبوٹ کو حرکت دینا سائنسدانوں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا، کیونکہ عام روبوٹس میں موٹرز اور بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں، مگر دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ان سب سے آزاد ہے۔
سائنسدانوں نے اس مسئلے کا حل الیکٹرک فیلڈز کے ذریعے نکالا، جس کی مدد سے یہ ننھا روبوٹ تیرنے، مڑنے اور اپنی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ اپنی حرکت کو وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرتا رہتا ہے۔یہ ننھا روبوٹ صرف حرکت ہی نہیں کرتا، بلکہ اپنے ماحول کو بھی سمجھتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا یہ روبوٹ جراثیم کی طرح حرکت کرتا ہے، یہ نا صرف اکیلا حرکت کر سکتا ہے، بلکہ گروپس کی صورت میں ایک دوسرے سے رابطہ بھی قائم کر سکتا ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں طبی اور سائنسی میدان میں انقلاب لا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مائیکرو روبوٹ مستقبل میں مائیکرو سرجری، دوائیوں کی ترسیل اور مختلف مقامات کی نگرانی میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply