استاد بڑے غلام علی خان,آج تم یاد بے حساب آئے

0
18

پاکستان ٹوڈے: آج تم یاد بے حساب آئے۔ استاد بڑے غلام علی خان کو مداحوں سے بچھڑے56برس بیت گئے۔

استاد بڑے غلام علی خان کا تعلق فن ِ موسیقی کے ممتاز پٹیالہ گھرانے سے تھا۔4 اپریل 1902 کو قصور میں پیدا ہونے والےاستاد بڑے غلام علی خان 23 اپریل 1968 کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے تھے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

ان کے دادا استاد ارشاد علی خان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ رہے اور اس کے رتنوں میں شامل تھے۔استاد بڑے غلام علی خان نے موسیقی کی تعلیم اپنے والد استاد علی بخش خان اور چچا استاد کالے خان سے حاصل کی اور پھر استاد عاشق علی خان پٹیالہ والے کے شاگرد ہوگئے۔ ان کے فن کی شہرت جلد ہی ہندوستان بھر میں پھیل گئی۔

انہوں نے متعدد میوزک کانفرنسوں میں بھی شرکت کی اور اپنے فن کا مظاہرہ کرکے کلاسیکی موسیقی کے شائقین کی توجہ حاصل کی۔استاد بڑے غلام علی کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے تجربے کو اہمیت دی اور گائیکی میں بعض ایسی ترامیم کیں ،جو اس کی خوبی اور اس کا حُسن بن گئیں۔

تقسیم کے بعد استاد بڑے غلام علی خان ہندوستان چلے گئے ،جہاں فلم مغلِ اعظم کیلئے ان کے گائے گانے بےحد مقبول ہوئے۔ استاد بڑے غلام علی خان سُر دیوتا، سنگیت سمراٹ اور شہنشاہِ موسیقی جیسے خطابات اور القاب کے علاوہ ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔

Leave a reply