امریکا پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے پر عزم: ڈونلڈ لو

0
37

کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے پر عزم ہے، انتخابات 2024 کے انتخابات کا گہرائی سے جائزہ لیا، الیکشن سے قبل تشدد کے واقعات پر تشویش رہی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے پولیس، سیاستدانوں، سیاسی اجتماعات پر دہشتگرد حملے ہوئے، کئی صحافیوں خصوصاً خواتین صحافیوں کو پارٹی سپورٹرز نے ہراساں کیا، عالمی الیکشن مبصر تنظیم نے کہا انہیں ملک کے تقریباً آدھے حلقوں میں ووٹ گنتی کی آبزرویشن سے روکا گیا۔

ڈونلڈ لو کا کہنا تھا کہ کئی سیاسی رہنما اپنے مخصوص امیدوار اور پارٹیاں رجسٹر نہ کراسکے، ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن کے دن موبائل فون ڈیٹا سروس بند کی گئی۔

نتائج کو مرتب کرنے میں کچھ بے ضابطگیوں کو نوٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ تھا کہ انتخابات کا انعقاد بڑی حد تک مسابقتی اور منظم تھا، تشدد کی دھمکیوں کے باوجود 6 کروڑ پاکستانیوں نے ووٹ ڈالے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ اور داعش سے درپیش خطرات سے نمٹنے میں اسلام آباد سے تعاون، مذہبی آزادی، انسانی حقوق کا احترام بڑھانے کے لئے کام کر رہے ہیں، پاکستان میں اقتصادی استحکام کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستانی مصنوعات درآمد کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں جمع کرائے گئے اپنے تحریر بیان میں کیا ہے۔ وہ آج ایوان کی خارجہ امور سے متعلق ذیلی کمیٹی میں پیش ہوکر پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات سے متعلق بیان دیں گے۔

جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونالڈ لو اِس سماعت کے واحد گواہ ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا پاکستان کے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے والا اہم ترین انویسٹر ہے۔ امریکا منگلا اور تربیلا ڈیم کی اپ گریڈیشن کےلئے تعاون کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان کے لئے امریکی امداد ترقیاتی گرانٹس، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور حالیہ تباہ کن سیلاب سمیت سب سے بڑی ضرورت کے دوران انسانی امداد کی شکل میں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے، پاکستان کو گزشتہ دہائی کے بلند قرضوں کے بعد قرضوں کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، بشمول PRC سے”۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال وفاقی حکومت کی آمدنی کا تقریباً 70 فیصد اس بڑے قرضے کی ادائیگی کےلئے جانے کی توقع ہے۔ ڈونلڈ لو نے اپنی گواہی میں کہا کہ پاکستان کو معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی زیر قیادت سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو پاکستانی عوام کے لئےاقتصادی ترقی فراہم کرے گی اور ان کی حکومت کو قرضوں میں مزید نہیں بڑھائے گی۔

انہوں نے ذکر کیا کہ محکمہ خارجہ نے گزشتہ ماہ پاکستان میں عام انتخابات کے ایک دن بعد واضح بیان جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ نے اظہار رائے، تنظیم اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر غیر ضروری پابندیوں کو نوٹ کیا۔

محکمہ نے انتخابی تشدد اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کارکنوں پر حملوں اور انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تک رسائی پر پابندیوں کی مذمت کی۔

محکمہ نے انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مداخلت یا دھوکہ دہی کے دعوؤں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ڈونلڈ لو کے مطابق الیکشن میں سب کچھ برا نہیں تھا۔ انہوں نے پاکستانی عام انتخابات میں بھی مثبت عناصر کو سامنے لایا۔” تشدد کی دھمکیوں کے باوجود، 6 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں نے ووٹ ڈالے، جن میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ خواتین شامل تھیں۔

ووٹرز نے 2018 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ خواتین کو پارلیمنٹ کے لئے منتخب کیا۔ خواتین امیدواروں کی ریکارڈ تعداد کے علاوہ، مذہبی ارکان کی ریکارڈ تعداد تھی، نسلی اقلیتی گروہ اور نوجوان پارلیمنٹ میں نشستوں کے لئےانتخاب لڑ رہے تھے۔

Leave a reply