ایلون مسک کی دولت میں ڈھائی سال کے دوران حیرت انگیز کمی

0
19

پاکستان ٹوڈے: ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نومبر 2021 میں ایلون مسک کی دولت ریکارڈ 340 ارب ڈالرز تک پہنچی مگر 17 اپریل 2024 کو وہ گھٹ کر 174 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

یعنی ڈھائی سال میں وہ لگ بھگ 50 فیصد دولت سے محروم ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کی دولت میں 166 ارب ڈالرز کی کمی آئی ہے اور اس کی وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمت میں کمی آنا ہے۔

ایلون مسک ٹیسلا کے 13 فیصد حصص کے مالک ہیں اور ان کی مجموعی دولت کا زیادہ تر حصہ بھی اسی کمپنی کے حصص سے منسلک ہے۔ 2021 میں ٹیسلا کا ایک حصص 415 ڈالرز کا تھا جو اب 62 فیصد کمی کے بعد 155 ڈالرز میں دستیاب ہے۔

کمپنی کی مجموعی مالیت بھی 1200 ارب ڈالرز سے گھٹ کر 490 ڈالرز سے نیچے آگئی ہے۔ 2024 ایلون مسک کے لیے اب تک کافی مشکل سال ثابت ہوا ہے۔

سال کا آغاز انہوں نے 229 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص کی حیثیت سے کیا تھا۔ مگر 17 اپریل تک ان کی دولت میں 55 ارب ڈالرز کمی آئی یعنی وہ 4 مہینوں سے بھی کم وقت میں ایک چوتھائی دولت سے محروم ہوگئے۔

ابھی وہ فرانس کے برنارڈ آرنلٹ، ایمازون کے بانی جیف بیزوز اور میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے بعد دنیا کے چوتھے امیر ترین شخص ہیں

ویسے دنیا میں سب سے زیادہ دولت میں کمی کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بھی ایلون مسک کے پاس ہی ہے۔ جنوری 2023 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ایک بلاگ پوسٹ میں ایلون مسک کے حصے میں آنے والے عالمی ریکارڈ کے بارے میں بتایا۔

بلاگ پوسٹ میں امریکی جریدے فوربز کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2021 کے آخر میں ایلون مسک کی دولت 320 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی مگر 2023 کے آغاز پر وہ گھٹ کر 134 ارب ڈالرز ہوگئی۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز نے کہا کہ فوربز کے تخمینے کے مطابق ایلون مسک نومبر 2021 کے بعد سے 182 ارب ڈالرز سے محروم ہوچکے ہیں مگر دیگر ذرائع کے مطابق ان کی دولت میں 200 ارب ڈالرز کی کمی آئی ہے۔

Leave a reply