بھارتی حکومت کے نئے قوانین کیخلاف احتجاج

0
16

نئی دہلی:(پاکستان ٹوڈے) نجی ٹی وی سماکے مطابق بھارتی حکومت براہ راست دہلی سے لداخ پرکنٹرول حاصل کر کے نئے قوانین متعارف کروانا چاہتی ہے۔ جو خطے کے لئے نہایت خطرے کا باعث ہے، بھارتی حکومت کے غیر منصفانہ اقدامات کے باعث لداخ ایک المیے کی شکل جنم لینے لگا ہے ۔

مودی سرکارغیرملکی افرادکو لداخ میں آباد کرنے کے منصوبے اور ماحولیاتی تبدیلیاں کرنے پر لداخ کی عوام سراپا احتجاج ہے،بھارتی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کے باعث لداخ کی عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے مقامی رہنماکا کہنا ہے کہ "بھارتی حکومت لداخ کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جو سراسر غیرجمہوری عمل ہے”،”جمہوریت کا دعویدار ہندوستان حقیقت میں لداخ میں بدترین جمہوری عمل کو فروغ دے رہا ہے”۔

مقامی رہنما نے مزیدکہا کہ "بھارتی حکومت تشدد کا راستہ اختیارکرتے ہوئے پرامن مظاہرین پر پابندیاں لگا رہی ہے،لداخ کے عوام کی آواز دبانے کے لئے مودی سرکار نے بڑی تعداد میں بھارتی پولیس اور نیم فوجی دستے لداخ میں تعینات کر دئیے ہیں۔

مودی سرکار انتہا پسند پالیسیوں پرعمل پیرا ہوتے ہوئے لداخ کو دوسرا مقبوضہ کشمیر بنانا چاہتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مودی سرکار کے نام نہاد جمہوری ملک ہونے کا کھوکھلا دعویٰ عالمی سطح پر عیاں ہو گیا

عوام نے ردعمل میں کہا کہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ جمہوریت کی بحالی یقینی بنائی جائے تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو،بھارتی حکومت لداخ میں نوجوانوں کی گرفتاریاں، انٹرنیٹ کی بندش اورمظاہرین پرکریک ڈاو¿ن عمل میں لاکر اپنے غیر قانونی عمل کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Leave a reply