جنوری 2024 میں چاند پر پہنچنے والے پہلے جاپانی سپیس کرافٹ نے ایک بار پھر سائنسدانوں کو حیران کر دیا

0
19

(پاکستان ٹوڈے) درحقیقت جاپانی مشن آغاز سے ہی سائنسدانوں کو حیران کر رہا ہے اور تقریباً4ماہ بعد بھی کرشماتی طور پر کام کر رہا ہے، حالانکہ اسے اتنے لمبے عرصہ کیلئے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق جاپان ایرو سپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کے مطابق سمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) نامی مشن کا لینڈر تیسری بار چاند کی رات گزارنے کے بعد پھر کرشماتی طور پر متحرک ہوگیا ہے۔ذہن نشین رہے کہ چاند کی رات کا دورانیہ 2 ہفتے طویل ہوتا ہے اور اس کے دوران درجہ حرارت منفی 183 ڈگری سینٹی گریڈ تک گھٹ جاتا ہے۔

عام طور پر چاند پر بھیجے جانیوالے اس طرح کے مشنز چاند پر رات کے آغاز پر سلیپ موڈ پر ڈال دیے جاتے ہیں، مگر ان کی بیداری کا امکان بہت کم ہوتا ہے، جیسا کہ بھارتی چندریان 3 مشن کے ساتھ ہوا، مگر جاپانی مشن تیسری بار بھی چاند کی طویل اور مشکل رات گزار کر بیدار ہوگیا ہے۔

سلم لینڈر نے 20 جنوری کو چاند پر پن پوائنٹ لینڈنگ کی تھی۔ اس مشن کا بنیادی مقصد منتخب کردہ لینڈنگ کے مقام کے 100 میٹر کے اندر پن پوائنٹ لینڈنگ کی صلاحیت کا اظہار کرنا تھا،مگر لینڈنگ کے آخری مرحلے میں لینڈر کے 2 میں سے ایک انجن نے کام بند کر دیا تھا، جس کے باعث وہ سر کے بل لینڈ ہوا اور سولر پینلز بجلی پیدا کرنے میں ناکام ہوگئے تھے، جس کے باعث لینڈر سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا،مگر 28 جنوری کو یہ رابطہ بحال ہوگیا ، جس کے بعد چاند کی سطح کا سائنسی مشاہدہ شروع کر دیا گیا۔

اس مشن کی کامیابی کے بعد جاپان چاند کی سطح پر پہنچنے والا 5 واں ملک بن گیا۔ اس سے قبل امریکا، روس، چین اور بھارت کے مشنز کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر چکے ، تاہم چاند پر اترنے کے بعد سے جاپانی لینڈر مسلسل تحقیقی ٹیم کو حیران کر رہا ہے اور اس نے بیدار ہونے کے بعد نئی تصاویر اور ڈیٹا بھی بھیجا ہے۔

جاپانی ماہرین کے مطابق سلم لینڈر چوتھی بار چاند کی رات کا سامنا کر رہا ہے اور اس وقت خوابیدہ حالت میں وہاں موجود ہے، جسے رواں ماہ مئی کے وسط یا آخر میں دوبارہ بیدار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Leave a reply