دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں کا معاملہ

0
16

اسلام آباد:(پاکستان ٹوڈے) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہو گی۔

وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوگئے۔

اگر پراسیکیوشن آجائے اور بحث کرے تو میں بھی بحث کروں گا اور سزا معطلی کی استدعا کروں گا،عثمان گل ایڈووکیٹ ، سائفر کیس میں ایک روز وکیل دیر سے پہنچے تو سرکاری پراسیکیورٹر تعینات کرکے سزا سنادی گئی۔

راجہ رضوان عباسی آج نہیں آئے اور آئندہ ایک ہفتہ تک بھی نہیں آئیں گے، آپ اپنے دلائل شروع کریں،کچھ تو کارروائی ہو، آپ نے گزشتہ سماعت پر کچھ معاونت کا کہاتھا،جج شاہ رخ ارجمند کا عثمان گل سے استفسار اپیل کنندہ وکیل عثمان ریاض گل نے دلائل کا آغاز کردیا۔

ان کیسز میں سماعت رات گئے تک ہوتی رہیں، وکیل عثمان ریاض گل، ٹرائل کورٹ نے ایمرجنسی میں سماعت کی،بیانات بھی مکمل نہ تھے، ملزمان کے بیانات کا پراسیس بھی مکمل نہ کیاگیا،اعلیٰ عدالتوں نے عدالتی اوقات کار کے دوران سماعتوں سے متعلق فیصلے دیے۔

رات گئے سماعتوں سے متعلق بھی کوئی فیصلہ موجود ہے کیا؟ جج شاہ رخ ارجمند کا استفسار نہیں،ایسا کسی عدالت کا کوئی فیصلہ موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے صبح،شام اور رات گئے تک سماعتیں کیں۔

ہم نے بریت درخواست دائر کی وہ بھی اسی وقت مسترد کردی گئی،وکیل عثمان ریاض گل

فیصلہ میں کہاگیا کہ نکاح درست نہ تھا،وکیل عثمان ریاض گل، وکیل عثمان گل نے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پڑھے اور ان کی نقول عدالت پیش کردیں۔

یو ایس بی مل گئی ہے استدعا ہے عدالت اسے دیکھ لے،وکیل سلمان اکرم راجہ، عدالت نے عملہ کو دوران ٹرائل عدالت میں جمع کرائی گئی یو ایس بی چلانے کیلئےاقدامات کی ہدایت کردی۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے۔

بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل کے دلائل جاری جوڈیشل ریکارڈ دیکھیں، عدالت نے کہا ملزم نے چارج شیٹ پر دستخط نہیں کیے جبکہ دستخط ہوئے.

جوڈیشل آرڈر بھی مناسب نہیں، بشریٰ بی بی کا کہاگیا عدالت سے اطلاع کے بغیر واپس چلی گئیں، بشریٰ بی بی کے استثنیٰ کی درخواست اور شوکت خانم کا میڈیکل بھی ساتھ لگایا، ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نہ ہوئےاور ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق بھی نہ دیاگیا.

صبح دس بجے سماعت شروع ہوئی،رات ساڑھے گیارہ بجے عدالت نے حتمی دلائل کا کہہ دیا، وکلاء جیل میں بغیر کھائے پئے لگے رہے ان کا کیا حال ہوا ہوگا، عثمان ریاض گل ٹرائل کورٹ سماعتوں کے عدالتی احکامات پڑھ رہے ہیں۔

ملزم کی عدم موجودگی میں فردجرم عائد کردی جاتی ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل کیا گیا۔

عدالت سے کہتے رہے کہ تیاری کرنے دیں لیکن موقع نہ دیاگیا، ٹرائل کورٹ نے ہمیں شواہد کا بھی کوئی موقع نہ دیاگیا، یو ایس بی دی وہ بھی نہ مانی گئی، ٹرائل کورٹ نے کہا دس منٹ ہیں تیاری کرلیں،مجھے آرڈر ہے کیس ختم کرناہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا نکاح لاہور ہوا،کیس یہاں کردیاگیا۔

بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی، سینئرکونسلز کے معاونین عدالت پیش۔

شکایت کنندہ کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت پیش نہ ہوئے، سینئر کونسل کی طبیعت خراب ہے آج پیش نہیں ہوسکتے۔

سینئر کونسل کی عدم دستیابی کے باعث سماعت ملتوی کی جائے،معاون رضوان عباسی ایڈووکیٹ کی استدعا، سینئر کونسل سلمان اکرم راجہ اور عثمان گل راستے میں ہیں۔

دونوں وکلاء دس بجے تک پہنچ جائیں گے اور دلائل دیں گے، عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلاء کی آمد تک سماعت میں وقفہ کردیا۔ دوران ٹرائل وکلاء صفائی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی یو ایس بی چلا دی گئی، یو ایس بی میں خاور مانیکا کا بیان اور بشریٰ بی بی سے متعلق رائے شامل ہے۔

میری سابق اہلیہ بشریٰ بی بی پاکباز اور انتہائی شریف ہیں،خاور مانیکا کا ویڈیو میں بیان، بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے گھر میں اختلافات نہیں ہوئے۔ دوران سماعت نکاح خوان مفتی سعید کے سینئر صحافی کو دیے گئے بیان کی ویڈیو بھی چلا دی گئیع، ویڈیو میں مفتی سعید کا نکاح اور عدت سے متعلق بیان بھی شامل ہے۔

ہمارے خلاف ٹرائل میں ہرکام جمعہ کو شروع ہوتا اور ہفتےکوفیصلہ آجاتاتھا، مفتی سعید نے کہا مجھ سے عون چودھری نے رابطہ کیا، مفتی سعید نے کہا پچھلے اور نئے کیس میں بھی عون چودھری نے مجھ سے رابطہ کیا۔ مفتی سعید نے کہا میرا نکاح اور عدت کے حوالے سے بیان وہی ہے جو دیا۔

طلاق کا طریقہ کار ہوتا ہے جس میں یونین کونسل سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے،ہمارے معاشرے میں طلاق کے سرٹیفکیٹ کی وصولی والا طریقہ کار بیشتر مرتبہ نہیں اپنایا جاتا۔ 14 نومبر 2017 کو دی گئی طلاق کا یونین کونسل کو آگاہ کرنا غیر ضروری ہے، بشریٰ بی بی نے کہا اپنے نکاح سے مکمل مطمیئن ہوں، فراڈ کے کوئی عناصر موجود نہیں۔

ٹرائل کور کے سامنے دائرہ اختیار کے حوالے سے بار بار آواز اٹھائی، بشریٰ بی بی کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کروایاگیاتھا، ٹرائل کورٹ نے کیس کے دائرہ اختیار پر کچھ وضاحت نہیں کی، بانی پی ٹی آئی نے کہا سیاسی انتقام لینے کے لیے ایسے کیسز بنائے گئے۔ سمجھتےتھےکہ ایسے کیسز سے پی ٹی آئی کو فرق پڑےگا لیکن عوام نے انتخابات میں اپنا فیصلہ سنادیا،میں نے تین سے چار پوائنٹس پر دلائل دینے ہیں، پراسیکیوٹر راناحسن عباس عدالت پیش

ٹرائل کورٹ میں اصل دستاویزات کی بجائے فوٹو کاپیوں پر سماعتیں کی گئیں، فوٹو کاپیوں کی بنیاد پر کیے گئے ٹرائل کو متعدد بار سپریم کورٹ نے ختم کیا، عون چودھری سیاسی حریف ہے جس نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیس کو مینج کیا، ریکارڈ پر موجود ہے خاورمانیکا سے قبل ایک نامعلوم شہری محمدحنیف نے شکائت دائر کی،عجیب بات ہےدونوں محمدحنیف اور خاورمانیکا کے وکیل رضوان عباسی تھے

شکائت کا علاقائی دائرہ اختیار کا بھی تعین کرنا ضروری ہوتاہے، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی شادی لاہور میں ہوئی، اسلام آباد میں نہیں، فردجرم دفعہ496 پر لگائی گئی، دائرہ اختیار کا تعین نہیں کیا، شادی لاہور میں ہوئی، میں پراسیکیوٹر راناحسن عباس کے دلائل کی تائید کرتاہوں، پھر تو آپ کہیں کہ ریاست آپ کو سپورٹ کر رہی ہے، سیشن جج شاہ رخ ارجمند

ریاست کو ایسا ہی ہونا چاہیے، میں پراسیکیوٹر راناحسن عباس کی تعریف کرتاہوں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ بشریٰ بی بی نے کوئی بیان دیا اور بیان کو نظر انداز کیاجائے۔

اپریل 2023 میں محمدحنیف نے ایسی ہی شکائت دائر کی تھی، میں بطور پراسیکیوٹر پیش ہواتھا، جیسے الزامات خاورمانیکا نے لگائے ویسے ہی محمدحنیف نے بھی لگائےتھے، پراسیکیوٹر راناحسن عباس نے محمدحنیف کی جانب سے دائر شکائت عدالت میں پڑھی۔

گواہ مفتی سعید کا زکر محمدحنیف کہ شکائت میں بھی ہے،عدالت نے علاقائی دائرہ اختیار پر شکایت خارج کردی دی، میں عدالت میں موجود تھا، محمدحنیف کی شکائت قابل سماعت قرار نہیں دی گئی تھی۔

Leave a reply