سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کی ڈسٹرکٹ کورٹس پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

0
10

لاہور:(پاکستان ٹوڈے) رانا ثنا اللہ کی جانب سے پی ٹی آئی سے بات کرنے کا بیان درست سمت میں ایک قدم ہے 

تفصیلات کے مطابق مسلہ یہ ہے ان کی جانب سے ایک سن بیان آتا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگادیں اگلے دن بیان ہوتا کہ بات چیت کرلیں، میرے خیال سے رولنگ پارٹیاں واضع کریں کہ کیا چاہتی ہیں۔

واضع کریں کہ بات چیت کرنی یا پابندی لگوانی،اس کے مطابق ردعمل آئے گا،اگر بات چیت کرنی تو اس کیلئے ایک ماحول بنانے کی ضرورت ہے، سینیٹراعجاز چودھری ایک سال سے جیل میں ہیں،ان کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا جارہا، میں چھوٹی چھوٹی باتیں بتارہا جس سے اعتماد کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔

اعتماد کو فروغ دیاجائے تاکہ بات چیت کی جاسکے، سابق گورنر عمر چیمہ،محمود الرشید،یاسمین راشد،عالیہ حمزہ،صنم جاوید یہ وہ لوگ ہیں جن کو حکومت فوری ریلیف دے سکتی ہے اوردینا چاہیے، حکومت جو ریلیف دے سکتی فوری دینا چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی نے اپنی رہائی یا ڈیل کیلئے تو کوئی بات چیت نہیں کرنی، بانی پی ٹی آئی کی بات چیت کا محور عوام ہوں گے،اس کے علاوہ کسی کیلئے بات نہیں کریں گے،اعتماد کی فضاء بحالی کیلئے حکومت کو بھی تھوڑے بہت اقدامات اٹھانے چاہیں۔

اگر آکر ہر مرتبہ یہ نہیں کہ ہم یہ کردیں گے،وہ کردیں گے،اٹھالیں گے تو ایسے بات کیسے ہوگی،اہم یہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے پاس اختیار ہویا نہ ہو لیکن ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو، آئی ایم ایف کی آج کی رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے۔

محمد بن سلمان بھی اسی وجہ سے پاکستان نہیں آ رہے،اس کی وجوہات کا اشارہ بھی یہی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحول پیدا کرے تاکہ ہم بات چیت کی جانب بڑھ سکیں،اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

سیاسی جماعتیں بات چیت نہیں کریں گی تو کیا کریں گی،اسلحہ تو نہیں اٹھائیں گی، کل پنجاب حکومت نے روٹی15 کی کردی،میں نے وزیر اعلی سے کہا مفت کردیں، کسانوں کی گندم چاہے مٹی بن جائے، انہیں لگتاہے کہ پنجاب اوت پاکستان میں کسان ہیں ہی نہیں، کسانوں ،مزدوروں،نوکری پیشہ،تاجروں سمیت ہر طبقہ کے حقوق کی حفاظت ہونی چاہیے۔

نواز شریف کو صدارت واپس ملنے پر مذاکرات بہتر ہوسکتے ہیں، ن لیگ کی اصل سیاست ہی نواز شریف ہیں،شہباز شریف کے پاس تو کچھ نہیں، نوازشریف 1985 سے سیاست میں ہیں،اور وہی ملک میں سیاسی ماحول بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پی ٹی آئی بڑی پارٹی ہے،اختلافات ہوتے رہتے ہیں،میرے خیال سے ہماری پی ٹی آئی لاؤڈ بھی بہت ہے، پی ٹی آئی میں شور بہت زیادہ مچ جاتاہے،2016 سے دیکھ رہا لوگ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اگر وہ لڑائی ہارگیا تو عوام ہار جائے گی۔

پی ٹی آئی کے حصہ سے متعلق بات غیر ضروری ہے،ہرپاکستانی جس کو پاکستان سے ہمدردی ہے اور ملکی بالادستی چاہتا اسے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوناچاہیے، بانی پی ٹی آئی ہارا تو ہم افریقہ کاکوئی ملک بن جائیں گے جہاں آئین و قانون کی کوئی بات ہی نہیں ہوتی۔

Leave a reply