سربراہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمان کا اھم بیان

0
11

پاکستان ٹوڈے کی تفصیلات کے مطابق جے یو آئی نے 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا ہے، 2018 کے انتخابات میں عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا ۔2024 کے انتخابات میں ایک بار پھر عوام کے حق رائے دہی پر شب خون مارا گیا۔

فیصلہ کیا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں مسترد کرتے ہیں، یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ کم اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ زیادہ ہے ۔

ہمیں عوام کی طرف جانا ہوگا،انہیں اعتماد میں لینا ہوگا،عوام کو ووٹ کے حق کے لئے متحد کرنا ہوگا،عوام کی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کو تحفظ دے سکیں ، ہمارا موقف واضح ہے اور اس کے لئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

25 اپریل کو بلوچستان سے تحریک کا آغاز کریں گے ، مولانا فضل الرحمان ان اجتماعات کو عوامی اسمبلی کا نام دیتے ہیں۔ 25 اپریل کو پشین میں بڑا جلسہ کیاجائے گا ، بلوچستان بھر سے عوام شریک ہوں گے ، 2 مئی کو کراچی میں عوامی اسمبلی کا انعقاد ہوگا ،سندھ بھر سے عوام شریک ہونگے،

9 مئی کو پشاور میں عوامی اسمبلی منعقد ہوگی اور کے پی کے عوام شریک ہونگے ، پشاور جلسے کے بعد لاہور کے لئے تاریخ کا تعین کریں گے ۔جہاں ملک بھر سے عوام شریک ہونگے ۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کررہے ہیں تاکہ عوام کی صفوں کو متحد کیا جاسکے، ہمارے کارکن ،صوبائی اور ذیلی تنظیمیں ان اجتماعات کی کامیابی کے لئے حرکت میں آئیں ،الیکشن کمیشن بے بس ہے،ان کو نتیجہ مرتب کرنے کی اجازت نہیں ۔

اداروں کی طرف سے بھیجے گئے نتائج کی وجہ سے الیکشن کمیشن میں کوئی دم خم نہیں رہا ،  سول بیورکریسی میں مداخلت ہورہی ہے، ان کے آئینی وقانونی اختیارات میں خفیہ ادارے اور ایجنسیاں مداخلت کررہی ہے۔

آج ہائی کورٹ ججز کہہ رہے ہیں کہ ہمارے معاملات میں مداخلت ہورہی ہے، ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں اس پریشر میں لوگوں کو انصاف نہیں دے سکتے،مولانا فضل الرحمن خواجہ آصف نے ماضی کے دریچوں سے پردہ اٹھایا ہے ، کس طرح اداروں نے انتخابی معاملات میں مداخلت کی ہے.

اس تمام صورتحال سے جے یو آئی کے موقف کو تائید ملی ہے کہ ہمارا مؤقف صحیح ہے، جے یو آئی ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے، جے یو آئی کا کوئی امیدوار ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گا،

ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی وجمہوری ریاست بنانے کے لئے بھر پور جدوجہد کریں گے،  کارکن اللہ کریم سے مدد ونصرت مانگیں اور ابھی سے محنت شروع کردیں۔

 

Leave a reply