پنجاب یونیورسٹی میں پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص و علاج کے لئے نینوٹیکنالوجی، بائیوفارماسیوٹیکل و ٹشو انجینئرنگ سنٹر کا افتتاح

0
24

پاکستان ٹوڈے: سینیٹر خالد شاہین بٹ نے سنٹر کا افتتاح کیا, افتتاحی تقریب میں چئیرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر شاہد منیر، وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود کی شرکت کی شرکت۔

تفصیلات کے مطابق تقریب میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، ڈائریکٹر ڈاکٹر ذیشان دانش، فیکلٹی ممبران، طلباء و طالبات کی شرکت, ایک زمانے میں بیرون ممالک میں پاکستانی فارماسسٹس کی بڑی مانگ تھی۔

ادویات کی ایجاد کا میں بہت بڑا بینفشری ہوں، سنٹر پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، سنٹر کی ترقی کے لئے حکومتی سطح پر تعاون کریں گے، ادویات کے شعبے میں جدید ضروریات کےپیش نظر سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

فارمیسی اور فارماکالوجی میں پنجاب یونیورسٹی انٹرنیشنل کیو ایس رینکنگ میں شامل ہیں، فارمیسی کالج میں بیرون ممالک سے طلباء و طالبات پڑھنے آتے ہیں، اتنے کم وسائل میں کوئی اور ادارہ اتنی معیاری تعلیم نہیں دے رہا۔

فارمیسی کے طلباء و طالبات ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے، پنجاب یونیورسٹی کسی بھی بین الاقوامی یونیورسٹی سے کم نہیں، ہماری انجینئرز ڈاکٹرز پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں۔

پاکستان کی یونیورسٹیاں سنٹرز آف ایکسیلینس تھیں، عالم اسلام سے طلباء یہاں پڑھنے آتے تھے، سیاست نے ہمارے ادارے تباہ کر دئیے ہیں، ہماری ترجیحات کی تبدیلی سے ادارے تباہ ہوئے، ہمارے بچوں کو بشکیک جانے کی ضرورت کیوں پڑی۔

حکومت اپنا پیٹ کاٹ کر یونیورسٹیاں پر انویسٹمنٹ کرے، اساتذہ کا ریسرچ کا مقصد اچھے جرنلز میں چھپوانا ہوتا ہے، ریسرچ وہ ہے جس کا اثر معاشرے اور صنعت پر ہونا چاہئیے، ادویات کی مقامی پیداوار کے لئے انٹر ڈسپلنری ریسچ خو فروغ دینا ضروری ہے۔

ریسرچ کمرشلائزیشن کی پالیسی پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، بائیوفارماسیوٹیکل کی مارکیٹ2032 میں 900 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

سنٹر ڈرگ ڈیلیوری سسٹم، بائیو میٹیریلز اور ریجنریٹو میڈیسن کے شعبے میں تحقیق کرے گا، سنٹر ڈرگ ڈیلیوری سسٹم، بائیو میٹیریلز اور ریجنریٹو میڈیسن کے شعبے میں تحقیق کرے گا، ادویات کی روایتی تیاری سے آگے بڑھ کر کام کریں گے، طلباء و طالبات کو ادویات کے شعبے میں نئے رحجانات جاننے کا موقع ملے گا۔

Leave a reply