سانحہ بھاٹی گیٹ:متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے پر ایس ایچ او معطل

سانحہ بھاٹی گیٹ میں متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا گیا ۔
تفصیلات کےمطابق بدھ کی شب لاہورکےعلاقہ بھٹی میں 24 سالہ سعدیہ اور10ماہ کی ردافاطمہ مین سیوریج لائن میں گرگئی تھیں۔جس پرفوری طور پر ریسکیو 1122 پرکال کی گئی ۔ریسکیوٹیمیں چندمنٹ میں جائےحادثہ پرپہنچ گئیں۔
متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لینے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات سامنے آنے پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے آئی اے بی کو آزادانہ انکوائری کے لیے باضابطہ خط بھی لکھ دیا ہے۔ انکوائری میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ خاوند اور دیور کو کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔
واضح رہےکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھکر سے واپسی پر ائیرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس طلب کیا اور واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے غفلت برتنے پر ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (TEPA) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، مینجراور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی ایل ڈی اے (LDA) کی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ۔ واسا (WASA) کے متعلقہ اہلکاروں کو بھی عہدوں سے ہٹانے کی ہدایت کی گئی ۔
جس پرڈی جی ایل ڈی اےنےوزیراعلیٰ کےحکم پرداتا دربار منصوبے پر کام کرنےوالی پوری ٹیم معطل کردی۔جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر،اسسٹنٹ ڈائریکٹراورسب انجینئر شامل ہیں۔ڈی جی ایل ڈی اےنے کنٹریکٹرپرفوری مقدمہ درج کرانےکی ہدایت دی۔
حکومت کی جانب سے جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے 1 کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے جو ذمہ دار کنٹریکٹر ادا کرے گا۔
واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 24 گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔















