پنجاب میں دریاؤں نےتباہی مچادی،راوی بپھرگیاپانی لاہورمیں داخل، 20 افراد جاں بحق

0
5

پنجاب میں دریاؤں نےتباہی مچادی،راوی بپھرنےسےدریاکاپانی لاہورمیں داخل ہوگیا،ابھی تک مختلف حادثات میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پنجاب میں تین دریاؤں کی تباہ کاریاں جاری ہیں،دریاؤں کی بپھرلہروں نے ہرطرف تباہی پھیردی،کئی بستیاں اورفصلیں زیرآب آگئیں جبکہ سیلاب کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
بھارت کی جانب سے چھوڑےجانےوالےپانی اوربارشوں کےباعث پنجاب کےتین دریاؤں نےکئی سالوں بعدصوبےمیں بڑےپیمانےپرتباہی مچادی، ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔راوی ،ستلج اورچناب میں انتہائی اونچے درجےکاسیلاب موجودہے۔پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے،صوبائی دارالحکومت لاہورشہرکے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔جس میں بیشترنجی ہاؤسنگ سوسائٹیز شامل ہیں۔
پنجاب میں دریاؤں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے۔
کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری بچی کُچی جمع پونجی اٹھائے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

لاہورمیں راوی کاپانی آبادی میں داخل:

دریائے راوی کے بپھرنے سے لاہور کے مختلف علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔جس میں تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹرو سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کر لیا گیا۔ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔جبکہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہوا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔

وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد،کمالیہ ،منڈی بہاؤالدین،بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جبکہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے۔
اُدھرملتان میں دریائے چناب نےخطرےکی گھنٹی بجادی ہے،آئندہ 24سے 48گھنٹوں میں خطرناک ریلہ شہرکی حدودمیں داخل ہوسکتاہے۔شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی آپریشنز کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے:

ڈی جی پی ڈی ایم اےعرفان علی کاٹھیانےبتایاکہ پنجاب میں سیلاب کےباعث اب تک 20افرادجاں بحق ہوچکےہیں اورخدشہ ہےکہ متاثرین کی تعدادمیں مزیداضافہ ہوگا،اُن کاکہناتھاکہ جب تک یہ پانی سندھ میں داخل نہیں ہوتاپنجاب ہائی الرٹ پرہےاورسندھ حکومت کوپہلےہی آگاہ کردیاگیاہے۔

پاک فوج کی امدادی کارروئیاں:
پنجاب کےتین بپھرےدریاؤں کی تباہی سےعوام کوبچانےکےلئے پاک فوج کےدستےبھی متحرک ہیں،پاک فوج کےجوان سیلاب میں پھنسےشہریوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کرنےمیں مصروف ہیں۔
پاک فوج کے جوانوں نے سرگودھا کے علاقے گورنہ پٹھاناں سمیت دیگر علاقوں میں سیلاب میں گھرے افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
گوجرانوالہ میں سیلاب کے باعث گھروں کی چھتوں پر پھنسے شہریوں کو پاک فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا۔
پاک فوج نے سیلاب متاثرین کےلیے فری میڈیکل کیمپس بھی قائم کئے ہیں، ریسکیو کئے جانے والے افراد میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین شامل ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان رینجرزنےبھی اپنی عوام کی خدمات کاسلسلہ جاری رکھااورپاکستان رینجرز کابھی سیلاب سے متاثرہ سلیمانکی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے جہاں سیلاب میں پھنسے 55 افراد اور 150 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا۔
متاثرہ علاقوں میں قائم فری میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو بروقت طبی سہولتوں اور دواؤں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
ریسکیو اداروں کی جانب سے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
پنجاب کے 30 اضلاع میں جاری ریسکیو آپریشن میں 3 ہزار افراد نے حصہ لیا جبکہ 700 کشتیاں استعمال کی گئیں، ساڑھے 9 ہزار سے زائد افراد کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، سیلاب متاثرین کے لیے شیلٹر کیمپس بھی قائم کئے گئے جبکہ انہيں کھانا اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔

محکمہ آبپاشی کی رپورٹ:

محکمہ آبپاشی کی رپورٹ کے مطابق دریائے راوی میں جسّر کے مقام پر 85 ہزار 980 کیوسک پانی کی سطح برقرار ہے جبکہ راوی سائفن پر دو لاکھ دو ہزار 428 کیوسک پانی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

شاہدرہ کے مقام پر بھی دو لاکھ ایک ہزار 400 کیوسک پانی کے ساتھ سطح نیچے جا رہی ہے۔ تاہم بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کی مقدار ایک لاکھ 51 ہزار 560 کیوسک ہے اور وہاں سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سدھنائی ہیڈ ورکس پر بہاؤ 25 ہزار 478 کیوسک ہے جو مستحکم ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر دو لاکھ 61 ہزار 53 کیوسک پانی کا بہاؤ ہے، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر ایک لاکھ 13 ہزار 124 کیوسک جبکہ اسلام ہیڈ ورکس پر 60 ہزار 814 کیوسک پانی کی صورتحال جوں کی توں ہے۔

دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج ایک لاکھ 16 ہزار 440 کیوسک ہے جبکہ خانکی ہیڈ ورکس پر ایک لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

قادر آباد ہیڈ ورکس سے دو لاکھ 17 ہزار 375 کیوسک پانی کا بہاؤ مستحکم ہے اور چنیوٹ پل پر آٹھ لاکھ 42 ہزار 500 کیوسک پانی موجود ہے۔ تریموں ہیڈ ورکس پر بھی ایک لاکھ 29 ہزار 372 کیوسک پانی کے ساتھ صورتحال قابو میں ہے۔

حکومت کاامدادکااعلان:
گزشتہ روزصحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےوفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑکاکہناتھاکہ وفاقی حکومت سیلاب زدگان کی مددکرےگی،اورسیلاب سے جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین کو 20، 20 لاکھ روپے امداد دےگی۔
انہوں واضح کیاکہ حکومت نے طے کیا ہے کہ آئندہ سے آبی گزرگاہوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے گھروں، فصلوں اور مال مویشی کے نقصانات کا سروے کیا جارہا ہے۔

Leave a reply