عدالتی نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور کا آغاز

0
30

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی نظام کو جدید بنانے کے لیے تین بڑے ڈیجیٹل سسٹمز کا افتتاح کردیا۔
پنجاب کی عدلیہ میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے  عدالتی و مالیاتی انتظام و انصرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تین انقلابی سافٹ ویئر سسٹمز کا افتتاح کیا ہے، جو کہ عدالتی نظام اورعوامل کو خودکار بنانے کی جانب ایک اہم ترین سنگ میل ہے۔ اس جامع ڈیجیٹلائزیشن مہم کے تحت لاہور ہائی کورٹ اور صوبہ بھر کی ضلعی عدلیہ میں ’’ سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم‘‘ جوڈیشل ڈیپازٹس اینڈ سیکیورٹریز مینجمنٹ سسٹم’’ اور انوینٹری مینجمنٹ سسٹم‘‘لانچ کئے گئے ہیں۔
جدید آٹومیٹڈ سسٹمز کی افتتاحی تقریب لاہور ہائی کورٹ کے نیو ججز لائبریری ہال میں منعقد ہوئی، جس میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ امجد اقبال رانجھا، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ملک علی ذوالقرنین اعوان، ڈی جی جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ جاوید اقبال بوسال، ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد،صدر و سی ای او نیشنل بنک آف پاکستان رحمت علی حسنی اور ڈی جی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ قاسم افضال سمیت دیگر موجود تھے۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی 150 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پرانے عدالتی مالیاتی نظام کو تبدیل کرکے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نئے جدید سسٹم نافذ کئے جارہے ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد عدالتی مالیاتی معاملات میں انسانی مداخلت کو کم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور دھوکہ دہی کے تمام راستوں کو بند کرنا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ متذکرہ بالاسسٹمز کی بدولت عدالتی نظام میں عوامی اعتماد بڑھے گا اور انصاف کی فراہمی کا انتظامی ڈھانچہ عالمی معیار کے مطابق ہو گا۔انہوں نے ڈیجیٹل سسٹمز کی تیاری پر لاہور ہائی کورٹ کے آئی ٹی ونگ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
عدالتی مالیاتی نظام میں سب سے زیادہ انقلابی تبدیلی سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد عدالتی فیسوں، جرمانوں اور دیگر رقوم کی وصولی و تقسیم کے عمل کو موثر بناتے ہوئے ہر قسم کے فراڈ کا راستہ روکنا ہے۔ اس سسٹم کو براہ راست کیس مینجمنٹ سسٹم اور نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اب عدالتی واجبات کے لیے مخصوص پی ایس آئی ڈی (PSID) کے ساتھ چالان فارم 32 اے سسٹم سے خودکار طور پر تیار ہوگا، جس سے جعلی رسیدوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ متعلقہ جوڈیشل افسران کو سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم تک مخصوص رسائی دی گئی ہے، تاکہ وہ ادائیگیوں کے حتمی احکامات آن لائن جاری کر سکیں۔ مستقبل میں اس نظام کو اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے ساتھ بھی منسلک کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے، تاکہ مالیاتی تصدیق کے عمل کو مزید وسعت دی جا سکے۔
اسی طرح لاہور ہائی کورٹ میں جوڈیشل ڈیپازٹس اور سیکیورٹیز مینجمنٹ سسٹم کا بھی آغاز کردیا گیا ہے، جس کا مقصد عدالت عالیہ کے احکامات پر بینکوں میں جمع کرائی گئی رقوم اور ضمانتوں کے ریکارڈ کو محفوظ اور منظم بنانا ہے۔ یہ جدید سسٹم لاہور ہائی کورٹ کی متعلقہ برانچوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے انفرادی ڈپازٹس کا الگ ریکارڈ رکھنے کے ساتھ ساتھ مجموعی جوڈیشل ڈیپازٹس کے اندراجات کا ریکارڈ بھی مرتب کر سکیں گے۔ اس خودکار نظام کی بدولت بینکنگ اینڈ فنڈز مینجمنٹ ونگ اب اکاؤنٹس کی زیادہ مؤثر اور درست نگرانی کر سکے گا، جس سے عدالتی مالی معاملات میں انسانی غلطی کا امکان ختم ہو جائے گا اور ریکارڈ کی درستگی میں اضافہ ہوگا۔
علاوہ ازیں عدالتی اثاثوں اور سٹورز کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے ایک جدید انوینٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم سامان کی وصولی سے لے کر دفاتر کو فراہمی تک کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گا اور قیمتی سرکاری سامان کی میعاد ختم ہونے سے قبل خودکار الرٹس جاری کرے گا تاکہ اشیاء کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ اس نظام میں ناکارہ اور خراب سامان کی واپسی کا مکمل ریکارڈ بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے اسٹاک مینجمنٹ کے ایس او پیز (SOPs) پر سو فیصد عملدرآمد یقینی ہو سکے گا۔

Leave a reply