کشیدگی میں پھر شدت ،امریکی اور ایرانی افواج کی مشقیں ،آبنائے ہرمز بند

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز آمد اور ایران کے فوری ردعمل نے خطے کے سیاسی اور فوجی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کثیر روزہ جنگی تیاریاں اور فوجی مشق کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تیزی سے تعیناتی اور فوجی آپریشنز کی استعداد کا جائزہ لینا ہے۔
کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیرک فرانس نے مزید بتایا کہ یہ فوجی مشق ہمارے لڑاکا طیاروں کے عملے کی استعداد کو برقرار رکھنے کیلئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جس میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایران نےبھی 3 روزہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فضائی حدود 25ہزار فٹ کی بلندی تک بند کر دی ہیں اور یہ علاقہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ اس فوجی مشق کے دوران ایران کی دفاعی تیاریوں اور نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ پاسدران انقلاب کے مطابق امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، مگر جنگ کا فیصلہ میدان میں ہوگا۔
خطے میں کشیدگی نے نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے بھی اہم چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں ۔















