موسم بہار کی آمد کا تہوار بسنت کتنا پرانا ہے؟جانیے، دلچسپ تاریخ

0
149

موسم بہار کی آمد کا تہوار بسنت کتنا پرانا ہے؟ بسنت کی تاریخ دلچسپ اورصدیوں پرانی ہے۔موسم بہار کا خیرمقدم کرنے کیلئے لاہورمیں بسنت کا تہوارشیان شان طریقے سے منایا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق بسنت کا تہوار تقریباً800 سال پرانا تہوار ہے۔وکرمی کیلنڈر کے مطابق بسنت کا مرکزی دن وسنت پنجمی ہے اور ہر سال یہ دن ماگھ کے مہینے کی پانچ تاریخ کو منایا جاتا، جبکہ انگریزی کیلنڈر میں یہ دن جنوری فروری کے مہینے میں آتا ہے۔بسنت ہمارے خطے کا ایسا خوبصورت تہوار ہے، جو وقت کے ساتھ سماجی اور ثقافتی رنگ اختیار کر گیااور تاریخی طور پر دہلی سلطنت اور مغلیہ دور میں بسنت کوشاہی سرپرستی حاصل ہوئی۔
تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مغل بادشاہوں بشمول اکبر اعظم، جہانگیر اورشاہجہان کے درباروں کو بسنت کے موقع پرزرد رنگ سے سجایا جاتا، محل کی چھت سے موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کیلئے پتنگ بازی کی جاتی، جو بعد ازاں عوامی سطح پر گلی محلوں اور میدانوں تک جاپہنچی۔
ایک روایت کے مطابق امیر خسرونےخواجہ نظام الدین اولیا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے زرد لباس، زرد پھولوں ا ور صوفیانہ گیتوں کے ساتھ بسنت منائی۔کہا جاتا ہے کہ انگریز کی آمد تک بسنت کا تہوار لاہور، دہلی اور آگرہ سمیت مختلف مقامات پر ریاستی سطح کا سالانہ جشن بن چکا تھا۔
برطانوی راج کے دوران بھی بسنت مختلف شہروں میں جوش و خروش سے منائی جاتی رہی ۔اُس دور میں تمام مذاہب کے ماننے والے زرد لباس زیب تن کیے ایک ساتھ ہنسی خوشی بسنت منایا کرتے تھے، چھتوں پر موسیقی اور پکوانوں کا اہتمام کیا جاتا اور دور دراز سے مہمانوں کو مدعو کیا جاتا، تاہم بسنت منانے کیلئے زندہ دلانِ لاہور ہمیشہ سب سے آگے رہے، اندرونِ شہر،انارکلی ،شاہ عالمی، داتا دربار کے اطراف بسنت صرف ایک دن نہیں بلکہ بسنت منانے کا سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہتا تھا۔

Leave a reply