دنیا کی پہلی بائیومیمیٹک اے آئی روبوٹ ’’مویا‘‘ متعارف

0
24

دنیا کی پہلی بائیومیمیٹک اے آئی روبوٹ ’’مویا‘‘ متعارف،مویا کو 2026 میں کسی بھی وقت ایک لاکھ 73 ہزار ڈالرز میں فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔
حالیہ چند برسوں میں انسانوں سے ملتے جلتے روبوٹس کی تیاری پر کافی زیادہ کام کیا جار ہا ہے اور اب چین کی ایک کمپنی نے لگ بھگ انسانوں جیسے روبوٹس تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ابھی بھی اسے کامل انسان جیسا قرار تو نہیں دیا جاسکتا ، کیونکہ مویا نامی روبوٹ کو دیکھ کر بتانا آسان ہے کہ وہ ایک روبوٹ ہے،مگراس کی چند دلچسپ یا حیران کن تفصیلات دنگ کر دینے والی ہیں، جس میںپہلی تو یہ ہے کہ مویا کی جِلد حقیقتاً گرم ہے۔
اس کو تیار کرنیوالی کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک روبوٹ جو حقیقی انسان جیسا نظر آئے، اس کا گرم ہونا ضروری ہے، جیسے ہم انسان ہوتے ہیں۔اس روبوٹ کا جسمانی درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے۔کمپنی مویا کو طبی نگہداشت، تعلیم اور دیگر مقاصد جیسے انسانوں کے دوست یا ساتھی کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کے چلنے کا انداز بھی 92 فیصد تک انسانوں سے ملتا جلتا ہے۔اس خاتون روبوٹ کی آنکھوں کے پیچھے ایک کیمرا موجود ہے،جس کی مدد سے یہ انسانوں سے بات چیت کرسکتی ہے اور انسانوں جیسے تاثرات کا مظاہرہ بھی کرسکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق مویا نامی اس روبوٹ میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی)ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے اور اسی لیے یہ دنیا کی پہلی بائیومیمیٹک اے آئی روبوٹ ہے۔

Leave a reply