لاہورہائیکورٹ کادوسری شادی پرپہلی بیوی کو10لاکھ حق مہردینےکاحکم

لاہورہائیکورٹ نےدوسری شادی پرپہلی بیوی کو10لاکھ حق مہردینےکاحکم دےدیا۔
لاہورہائیکورٹ نےخاتون کی حق مہر،خرچ اورسامان جہیزکی ویلیوکےمطابق رقم دینےکی درخواست منظور کرتےہوئےفیصلہ جاری کردیا۔
لاہورہائیکورٹ نےفیصلےمیں کہاہےکہ بیوی سےاجازت کےبغیرایک اورشادی پرشوہرپہلی بیوی کو مہر فوری دینےکاپابندہے،فیصلےمیں بغیراجازت شادی پرشوہرکو پہلی بیوی کو10لاکھ حق مہردینےکاحکم دیا گیا،اورطلاق موثرہونےتک پہلی بیوی کوماہانہ 15ہزارخرچ دینےکاحکم بھی دیاگیا،عدالت نےسامان جہیزکی ویلیوکے مطابق رقم اداکرنےکاحکم دیا۔
عدالت نےفیصلےمیں لکھاکہ یہ قانونی شق بیویوں کےمالی حقوق کےتحفظ اورمن مانی شادیوں کوروکنے کیلئےہے،لاہورہائیکورٹ نےٹرائل کورٹ کےفیصلےمیں ترمیم کردی،درخواست گزارنےسامان،جہیز اور نان نفقہ کیلئےفیملی کورٹ میں دعویٰ دائرکیا،کیس میں تین پوائنٹس حق مہرکی رقم ،خرچہ اورسامان جہیزکی واپسی کاتنازع تھا۔
عدالتی فیصلےمیں کہاگیاکہ فیملی کورٹ نےعدت کےدوران15ہزارخرچ دینےکاحکم دیا،فیملی کورٹ نےحق مہرکے10لاکھ ماہانہ 45ہزارقسط میں ادا کرنےکاحکم دیا،فیملی کورٹ نےبیوی کوسامان جہیزکی ویلیوکےمطابق 10لاکھ 500اداکرنےکاحکم دیا،فریقین نےفیملی کورٹ کےفیصلےکےخلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائرکی،ٹرائل کورٹ نےشوہرکی اپیل جزوی منظورکرتےہوئےحق مہر اورخرچ کافیصلہ کالعدم قراریا،ٹرائل کورٹ نےسامان جہیزکی ویلیوبھی 10لاکھ 500سےکم کرکے4لاکھ کردی۔
فیصلےکےمطابق درخواست گزارنےٹرائل کورٹ کےفیصلےکیخلاف لاہورہائیکورٹ سےرجوع کیا، درخواست گزارکےمطابق شوہرنےبغیراجازت تیسری اور پھر چوتھی شادی کی،درخواست گزارکےمطابق شوہرنےاسےتین کپڑوں میں گھر سے نکال دیا،فیملی کورٹ کےمطابق شوہرنےزبانی طلاق دی،لہذاوہ صرف عدت تک خرچ دینےکاپابندہے،درخواست گزارکےمطابق شوہرنےزبانی طلاق دی جوکہ قانون کی نظرمیں جائزنہیں،زبانی طلاق کےقانونی لوازمات پورےکیےبغیرمیاں بیوی کےدرمیان شادی برقراررہتی ہے،بیوی کےگھرچھوڑنےپرقانونی جواز ہوتو شوہرطلاق موثرہونےتک ماہانہ خرچ دینےکاپابندہے۔شوہرنےدرخواست گزارکوصرف پہلی شادی کابتایاجس میں بیوی فوت ہوچکی تھی۔















