بچوں میں انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا رجحان خطرہ قرار،برطانوی ریگولیٹر آف کام کی رپورٹ

0
4

انٹرنیٹ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بچوں کا آن لائن تحفظ دنیا بھر میں ایک اہم اور سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس کے لیے مختلف ممالک میں سخت قوانین اور نئے حفاظتی اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔

برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آف کام کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے 8 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو آن لائن خطرات، اجنبی افراد کی رسائی اور ورغلائے جانے سے بچانے کے لیے نئے اور سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسنیپ چیٹ (اسنیپ انک)، میٹا (میٹا کمپنی) اور روبلوکس (روبلوکس کارپوریشن) نے بچوں کے اکاؤنٹس کے لیے اضافی حفاظتی پابندیاں نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت بچوں کو غیر متعلقہ بالغ افراد سے رابطے سے روکنے، والدین کو کنٹرول دینے اور مشکوک گفتگو کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے ریگولیٹر نے ٹک ٹاک (ٹک ٹاک لمیٹڈ) اور یوٹیوب (یوٹیوب، گوگل کمپنی) کے نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پلیٹ فارم بچوں کو نقصان دہ مواد سے مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین چیلنجز موجود ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق قوانین موجود ہیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ آن لائن جرائم کے خلاف کارروائیاں بھی کرتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زمینی حقائق مختلف ہیں اور کئی عملی مشکلات درپیش ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی عمر کی درست تصدیق کا مؤثر نظام نہ ہونا ہے، کیونکہ زیادہ تر موبائل سمز اور انٹرنیٹ کنکشنز والدین یا بڑے افراد کے نام پر رجسٹر ہوتے ہیں، جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل میں انٹرنیٹ کون استعمال کر رہا ہے۔

مزید یہ کہ بڑے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دفاتر پاکستان میں موجود نہ ہونے کے باعث شکایات کے ازالے اور کارروائی میں تاخیر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں والدین کی ڈیجیٹل آگاہی کی کمی بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے میں بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ زیادہ تر والدین خود جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے استعمال سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے۔

اس کے علاوہ سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف کی وجہ سے کئی متاثرہ خاندان آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کے کیسز میں حکام سے رابطہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن گیمز اور چیٹ پلیٹ فارمز میں بچے اجنبی افراد سے براہِ راست رابطے میں آ سکتے ہیں، اس لیے سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روبلوکس (روبلوکس کارپوریشن) جیسے پلیٹ فارمز پر بچے کھیل کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے صارفین سے گفتگو بھی کر سکتے ہیں، جو مناسب نگرانی نہ ہونے کی صورت میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں پب جی (پب جی موبائل)، فری فائر (فری فائر گیم) اور روبلوکس جیسی گیمز بڑے پیمانے پر کھیلی جاتی ہیں، اس لیے ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ڈیجیٹل پرائیویسی اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی حاصل کریں۔

ماہرین کے مطابق اگر والدین، حکومت اور ٹیکنالوجی ادارے مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کریں تو بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

Leave a reply