
وزیراعظم کےمشیرراناثنااللہ نےکہاہےکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کیلئے لندن سےڈاکٹر بلوایا گیا۔
مشیروزیراعظم رانا ثناء اللہ نےکہاہےکہ تحریک انصاف سے مذاکرات کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا باہمی اور مشترکہ فیصلہ تھا جس میں اتحادی جماعتیں بھی مکمل آن بورڈ تھیں، اور پی ٹی آئی پر واضح کیا گیا تھا کہ احتجاج اور لانگ مارچ ختم کرنے کی صورت میں جیل مینوئل اور قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا، جنہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور قواعد کے تحت باہر سے بھی معالج کے معائنے کا انتظام رکھا گیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی سے کوئی مخاصمت نہیں چاہتی بلکہ قومی سلامتی کے چیلنجز اور امن و امان کے قیام میں ان کا مثبت کردار چاہتی تھی، تاہم احتجاج میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اسلام آباد کا رخ کرنے کی مؤثر پوزیشن میں نہیں ہیں۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ڈرافٹ کی تیاری کے باوجود معاملات پر پیش رفت نہ ہونا افسوسناک رہا، اور اگر صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات کی درست ادائیگی پر توجہ مرکوز نہیں کرے گی تو انتظامی فیصلوں پر غور کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کے پی حکومت اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوامی فلاح اور امن کے قیام کو یقینی بنائے۔














